نئے شہر آباد کریں 

نئے شہر آباد کریں 
نئے شہر آباد کریں 

  

پاکستان کے طول و عرض میں جس بے رحمی سے زرعی زمینوں اور باغات کو کاٹ کررہائشی کالونیوں کے لئے مختص کیا جارہا ہے وہ بہت ہی افسوس ناک ہے۔ آبادی کا عفریت، لینڈ مافیاز کی ہوس، حکومتوں کی عدم توجہی اور منصوبہ بندی کی کمی سرسبز کھیتوں اور باغات کو اجاڑ رہی ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، یہ بچپن سے سنتے اور پڑھتے آئے ہیں مگر اب تو گندم، دالیں اورچینی بھی باہر سے آرہی ہے. 

پاکستان میں ہاؤسنگ کی پوری وزارت ہے مگر کہیں نظر نہیں آتی۔ اس کے وزیر ایک کہنہ مشق اور دبنگ سیاست دان ہیں جب کہ وزیر مملکت نوجوان ہیں، پہلی بار اسمبلی میں آئے ہیں اور مصطفی کھر جیسے سیاست دان کو بطور آزاد امیدوار ہراکر وزیر بنے ہیں کیا ہی اچھا ہوکہ بڑھتی آبادی کے لئے وزارت ہاؤسنگ نئے شہر آباد کرنے کی منصوبہ بندی کرے۔ اس طرح پہلے سے آباد شہروں پر دباؤ کم ہوگا۔ نئے شہر ایسی جگہوں پر آباد کئے جائیں جو نسبتا کم زرعی ہوں اور باغات نہ کاٹے جائیں۔

خیال تھا کہ موجودہ حکومت اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھائے گی مگر ڈگمگاتی حکومت نے ایسا کچھ نہ کیا۔ ویسے تو پورے پاکستان میں اس وقت درختوں بالخصوص آم کے درختوں کا قتل جاری ہے مگر میں صرف دو علاقوں کا ذکر کروں گا، چونکہ میں اس علاقے میں رہتا ہوں اس لئے انہی دو پر اکتفا کروں گا۔ وہ ہیں ملتان اور مطفر گڑھ مظفر گڑھ ضلع وزیر مملکت کا اپنا ضلع بھی ہے ملتان کے اردگرد آم کے درختوں کا ایک خوبصورت نظارہ تھا۔ آم تو ملتے ہی تھے، درختوں کی رونق اور نعمت بھی موجود تھی اور آکسیجن بھی ملتی تھی،جن کی جگہ اب ریت، بجری اور سیمنٹ نے لے لی ہے۔ ملتان میں جنرل بس سٹینڈ کے بعد وہاڑی چوک، فاطمہ جناح ٹاؤن اور بہاولپور بائی پاس جو کچھ پہلے بنا، اس علاقہ کے اردگرد آم کے باغات تھے اور زرعی زمینیں تھیں جو اب سڑکوں کی توسیع اور رہائشی کالونیوں کی زد میں ہیں۔ لطف آباد، زکریا یونیورسٹی کے اردگرد کا وسیع علاقہ جو آم اور لیچی کے باغات پر مشتمل تھا، تین بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیز نے اس پورے علاقے سے درخت کاٹ کر نہ صرف زیادہ درختوں کو ختم کیا بلکہ ملتان کو مزید گرم بنادیا ہے۔

آم کے درخت کو پھل آور بننے میں وقت لگتا ہے اور پھر یہ طویل مدت تک پھل دیتا ہے مگر بے رحمی سے اس کو کاٹا گیا اور کاٹا جارہا ہے۔ اسی طرح ملتان، ہیڈمحمد والا بائی پاس ایک اچھا اضافہ ہے مگر اس کے لئے بھی قربانی درختوں کو ہی دینی پڑی۔ اب وقتا فوقتا سنتے رہتے ہیں کہ ہیڈمحمد والہ بائی پاس والی سڑک کے اردگرد جو باغات بچے ہوئے ہیں وہاں بھی کوئی بڑی سوسائٹی جلد آنے والی ہے۔ ملتان کینٹ سے گلگشت اور ہیڈمحمد والہ بائی پاس کو ملانے والی غوث الاعظم روڈ کے اردگرد بھی آم کے باغات پر رہائشی کالونیاں بن رہی ہیں۔ پرانی شجاعباد روڈ کے اردگرد زرعی زمینیں بھی رہائشی علاقوں میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ اب ایک بڑی ہاؤسنگ سوسائٹی بوسن روڈ پر باغ اجاڑنے کے بعد اسی علاقے یعنی پرانا شجاعباد روڈ کے علاقہ میں سرسبز علاقہ کو رہائشی کالونی میں تبدیل کرنے کے درپے ہے۔ قاسم بیلہ ملتان کا علاقہ بھی آموں کے باغات کی وجہ سے مشہور تھا۔ وہاں بھی بڑی محنت سے آم کے ان باغات کو اجاڑ کر اینٹ، سریہ اور ریت لائی جارہی ہے۔

مظفر گڑھ بائی پاس بنایا گیا تو وہ بھی آموں کے باغات میں۔ مظفر گڑھ کے علاقہ میں اینٹوں کے بھٹوں پر کھجور کے کٹے درخت کثرت سے نظر آتے ہیں۔ یعنی آم تو آم کھجور کو بھی معاف نہیں کیاگیا۔ آم اور کھجور کا درخت مکمل ہونے میں طویل وقت درکار ہوتا ہے جبکہ کاٹنے میں کوئی وقت نہیں لگتا۔ حیرت ہوتی ہے اب کالونی کا اشتہار آبادی کے لئے کم اور سرمایہ کاری کے لیے زیادہ آتا ہے.غریب اور متوسط طبقے کے لئے گھر بنانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے بہت سے لوگوں کا نقطہ نظر یہ ہے کہ جن کے باغات ہیں وہ رکھیں یا فروخت کریں ان کی مرضی، ہم کون ہوتے ہیں اعتراض کرنے والے؟ میرا خیال ہے کہ سو فیصد ایسا نہیں، مالکان کو خطیر معاوضہ کے ساتھ ساتھ مجبور بھی کیا جاتا ہے،

وزارت ہاؤسنگ بے ہنگم بڑھتے شہروں کو بڑھنے سے یوں روک سکتی ہے کہ نسبتا بے آباد، ویران علاقوں میں نئے شہر آباد کئے جائیں۔ ہم ہر کام میں مغرب کی تقلید کرتے ہیں، معلوم نہیں اچھے کاموں میں کیوں نہیں کرتے؟ میں نے جن دوشہروں کا ذکر کیا ہے ان میں ہیڈمحمد والہ، ملتان کے مضافات اور مظفر گڑھ کے مضافات میں وسیع بے آباد ٹیلوں پر مشتمل زمین موجود ہے۔ وہاں منصوبہ بندی کرکے نئے شہر آباد کئے جاسکتے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے بلین ٹری منصوبوں پر کروڑوں اربوں روپے لگائے جارہے ہیں جو درخت موجود ہیں انہیں بے رحمی سے کاٹا جارہا ہے۔ بے ہنگم گھروں کی تعمیر سے شہروں کا محدود سیوریج کا نظام برباد ہورہا ہے سڑکیں تعمیر کا ہنی مون پیریڈ پورا ہونے سے پہلے کھود دی جاتی ہیں۔ یہ کام موجودہ حکومت سے پہلے ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اگر غلط کام پہلے ہوتا رہا تو اب بھی جاری رہے۔ حکومت کو نئے شہروں کی آبادکاری کے ساتھ ساتھ جو رہائشی کالونیوں کے لئے پہلے سے موجود مختص علاقے ہیں ان کو دیکھنا چاہئے کہ برسوں سے وہاں کوئی آبادی نہیں ہوسکی۔ اس شتر بے مہار سلسلے کو روکا جاسکتا ہے۔ اگر مخلص ہوکر کام کیا جائے۔ امید اس لئے بھی باقی ہے کہ حکومت لاہور کے قریب ایک نیا شہر آباد کرنے جارہی ہے۔ یہ سلسلہ باقی شہروں میں بھی شروع کیا جائے اور سب سے پہلے قیمتی باغات اور زرعی زمینوں کو آبادیوں میں بدلنے سے روکا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -