افلاطون جیسے عظیم استاد اور ارسطو جیسے ذہین ترین شاگرد کا زیادہ عرصہ تک نباہ نہ ہو سکا

افلاطون جیسے عظیم استاد اور ارسطو جیسے ذہین ترین شاگرد کا زیادہ عرصہ تک نباہ ...
افلاطون جیسے عظیم استاد اور ارسطو جیسے ذہین ترین شاگرد کا زیادہ عرصہ تک نباہ نہ ہو سکا

  

تحریر: ملک اشفاق

قسط: (2)

 افلاطون کی اکیڈمی میں اس کی آمد نے طلباءمیں ہلچل پیدا کر دی۔ یہ نوجوان امیروں کا امیر، خوش خلق، صاف ستھرا، خوبرو، شیریں گفتار، حلیم الطبع، شائستہ کردار، خوش پوش اور مجسمِ اخلاق تھا۔ سچ پوچھا جائے تو اس میں ایک طرح کا بانکپن تھا۔ اس کی زبان میں لکنت تھی۔ افلاطون اکثر شکایت کرتا تھا کہ وہ خلوص کے ساتھ علم سے محبت کرنے کے بجائے اپنے لباس کی طرف زیادہ توجہ دیتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں استاد شاگرد طباع تھے اور سب جانتے ہیں کہ ایک جوہرِ قابل دوسرے جوہرِ قابل سے اس طرح بنتا ہے جیسے ڈائنامیٹ سے آگ۔ دونوں کے درمیان نصف صدی کا فرق تھا۔ ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کے باوجود برسوں کی اس خلیج کو پاٹنا اور روحانی اختلاف کو رفع کرنا دشوار تھا۔ افلاطون نے فوراً جان لیا تھا کہ یہ نیا شاگرد جو بظاہر شمال کے وحشی علاقوں سے آیا ہے ذہنی عظمت کا مالک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے ذہن کی حیرت انگیز ہمہ گیری کا مظاہرہ کیا۔ یہ بعید ازقیاس معلوم ہوتا ہے کہ دماغ علم کے اس قدر گوناگوں پہلوﺅں کا احاطہ کر سکتا ہے۔ سیاست، ڈرامہ، شاعری، طبیعات، ادویات، نفسیات، تاریخ، منطق، ہیئت، اخلاقیات، ریاضی، خطابت، حیاتیات، یہ تھے دسترخوانِ علم کے چند اقسامِ طعام جسے اس کی حریص اشتہا علم ہضم کرنا چاہتی تھی۔ افلاطون نے ایک مرتبہ ازراہِ مذاق کہا تھا کہ اس کی اکیڈمی 2 حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے ایک تو اس کے طلباءکا جسم، دوسرا ارسطو کا دماغ۔

افلاطون جیسے عظیم استاد اور ارسطو جیسے ذہین ترین شاگرد کا زیادہ عرصہ تک نباہ نہ ہو سکا۔ یکساں دماغی سطح کے 2 یونانی جب آپس میں ملتے ہیں تو ان میں ٹکراﺅ ضرور ہوتا ہے۔ بوڑھا حکیم اور نوجوان فلسفی ایک دوسرے کی تعظیم و تکریم کےساتھ ساتھ ہمیشہ جھگڑتے رہتے تھے۔ 

347 ق م میں افلاطون کے انتقال کے وقت ارسطو37 سال کا تھا۔ وہ افلاطون کے جانشین کی حیثیت سے اکیڈمی کی صدارت کا جائز حق دار تھا لیکن اسے اس میں ناامیدی ہوئی۔ اکیڈمی کے متولیوں نے اسے غیر ملکی قرار دے کر مقامی شخص کو صدارت کا منصب سونپ دیا۔ اپنی ناکامی پر برہم ہو کر ارسطو ایتھنز کو چھوڑ دینے کا موقع تلاش کرنے لگا۔ انہی دنوں اسے اپنے ایک سابقہ ہم جماعت ہرمی یاس کا دعوت نامہ موصول ہوا۔ ہرمی یاس فلسفہ سے شغف رکھنے والا ایک سیاستدان تھا۔ ایشیاءکوچک کے ایک بڑے رقبے پر اس کی حکمرانی تھی۔ سائرا کیونہ کے بادشاہ سیمونی سس کی طرح وہ بھی اس بات کا آرزو مند تھا کہ ایک حکیمانہ نظم و نسق کا تجربہ کیا جائے بشرطیکہ حکمت اس کی دولت میں مداخلت نہ کرے۔

 دوسری طرف ارسطو کو اگر دلچسپی تھی تو فقط عدل و انصاف سے، اس لیے وہ اپنے دوست کے دولت اندوزی کے جذبہ کو نیکوکاری میں تبدیل نہ کر سکا۔ تاہم وہ ہرمی یاس کی برادر زادی اور متبنی لڑکی پائی تھیاس کے ساتھ شادی کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ پائی تھیاس مال و دولت کی کثیر مقدار بطور جہیز اپنے ساتھ لائی۔ ارسطو کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوا کیونکہ وہ حصولِ مسرت کے لیے دولت کی ایک مناسب مقدار کو ضروری تصور رکرتا تھا۔ پائی تھیاس سے شادی کرنے کے بعد اس نے اپنا پیسہ تجارت میں لگا دیا اور ماہِ عروس گزارنے کے لیے سمندر کے کنارے چلا گیا اور وہاں سائنسی تحقیقات کی غرض سے گھونگھے جمع کرنے میں اپنا وقت صرف کرنے لگا۔

 ماہِ عروس گزرنے کے بعد وہ ہرمی یاس کے دربار میں واپس آگیا۔ لیکن وہ زیادہ عرصہ تک وہاں قیام نہ کر سکا۔ ہرمی یاس کی سازشوں کی وجہ سے شاہِ ایران مشتعل ہوگیا اور اس پر حملہ کرکے اسے قید کر لیا اور پھانسی دے دی۔

 ارسطو پر دوبارہ مصیبت یہ ٹوٹی کہ نہ اس کا کوئی ملک رہا اور نہ کوئی کام لیکن اس مرتبہ پھر ایک تاجدار دوست اس کے آڑے آیا۔ یہ دوست تھا مقدونیہ کا بادشاہ فلپ، امینتاس کا بیٹا اور سکندر کا باپ۔ فلپ نے ارسطو کو سکندر کے اتالیق کی حیثیت سے اپنے دربار میں بلوایا۔ ارسطو جب اس کے دربار میں پہنچا جہاں کچھ عرصہ قبل اس کا باپ شاہی طبیب کی حیثیت سے کام کر چکا تھا تو اس نے محسوس کیا کہ اس کی حالت اس مچھلی کی سی ہو گئی تھی جو پانی سے نکال لی گئی ہو۔ اس وقت مقدونیہ کا ماحول فلسفیانہ غور و فکر کے لیے قطعاً ساز گار نہ تھا، حرص وحوس ، شاہانہ شان و شوکت اور سفلہ پن کا دور دورہ تھا۔ شاہ فلپ اگرچہ کافی سمجھ بوجھ رکھتا تھا لیکن کم علم تھا۔ وہ صحیح زبان نہیں بول سکتا تھا لیکن اسے اصرار تھا کہ نہ وہ وحشی ہے اور نہ ہی وہ اپنے لڑکے کو وحشی رکھنا چاہتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ شاہ فلپ کی یہ دلی خواہش تھی کہ سکندر ایک شائستہ فلسفی بنے۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ ایک تلاطم خیز طوفان کی بجائے پرسکون جھیل میں تبدیل ہو جائے۔ سکندر ایک ایسے خونخوار کا بچہ تھا جسے اب تک انسان بنانے کی کوشش نہ کی گئی ہو۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دربار کا دربار غراتے ہوئے درندوں کا جنگل تھا، فساد، عیاشی اور خون خرابہ آئے دن کے کارنامے تھے۔ شاہ فلپ کی بیوی اولمپیاس پاگل پن کی حد کو پہنچ چکی تھی۔ فلپ اور سکندر بھی پاگلوں سے کچھ کم نہ تھے۔ شاہی ضیافت کے ایک موقع پر سکندرکی گستاخی سے برانگیختہ ہو کر شاہ فلپ نے اسے قتل کرنے کی کوشش کی۔ سکندر بھلا کب خوف کھانے والا تھا اس نے بھی اپنے باپ پر حملہ کر دیا۔ مگر ان دونوں کی خوش قسمتی اور دنیا کی بدبختی سے ملازمین دربار نے انہیں علیٰحدہ کر دیا۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -