ہندوستان کے راجے مہاراجے کون ہیں؟ 

ہندوستان کے راجے مہاراجے کون ہیں؟ 
ہندوستان کے راجے مہاراجے کون ہیں؟ 

  

مصنف : ای مارسڈن 

 ہندوستان کے راجے مہاراجے

 ہم نے دیکھا ہے کہ 1858ءکے اعلان میں ملکہ معظمہ نے ہندوستان کے شہزادوں اور باشندوں کو مخاطب کیا ہے۔ ہندوستان کے راجے مہاراجے کون ہیں؟ برٹش ہند تو تاج برطانیہ کے براہ راست زیر حکومت ہے جس کی طرف سے وائسرائے صاحب ہندوستان میں حکومت کرتے ہیں۔ لیکن یہاں برٹش ہند کی حدود سے باہر بھی بہت سی ہندوستانی ریاستیں ہیں جنہیں بعض مرتبہ ”زیرحفاظت ریاستیں“ بھی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے بہت سی بڑی بڑی ریاستیں 200 سال سے پہلے یعنی اورنگزیب کی وفات کے بعد سلطنت مغلیہ کے ٹوٹ جانے پر قائم ہوئی تھیں اور کئی خصوصاً وہ راجپوتانے میں واقع ہیں جو 1 ہزار سال یا اس سے بھی زیادہ پرانی ہیں۔ ان ریاستوں پر ان کے والیان ریاست راجہ یا نواب حکمران ہیں۔ یہ سب ہندوستان کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان کے ممالک وسیع سلطنتِ برطانیہ کے ایسے ہی حصے ہیں جیسا کہ برٹش ہند اور وہ تمام تاجدار برطانیہ کو اپنا شہنشاہ تسلیم کرتے ہیں۔

 ہندوستان میں تقریباً 700 ریاستیں ہیں جو نقشہ ہند کے تقریباً 1/3 حصے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں تقریباً 7 کروڑ باشندے آباد ہیں جو ہندوستان کی آبادی کا ¼ سے 1/5 تک حصہ ہے۔ یہ ریاستیں مختلف رقبہ کی ہیں۔ ان میں سب سے چھوٹی ریاست لاوا ہے جو کہ راجپوتانہ میں واقع ہے۔ اس کا رقبہ صرف 19 مربع میل ہے۔ سب سے بڑی ریاست حیدر آباد دکن ہے جو اپنی وسعت کے لحاظ سے ایک ملک کا ملک ہے اور رقبہ میں بنگال کے برابر ہے۔ اس کی آبادی 1 کروڑ 30لاکھ ہے۔ ہندوستان کی سب سے بڑی 4 ریاستیں حیدر آباد، میسور، بڑودہ اور کشمیر ہیں۔

 ملکہ وکٹوریہ نے اپنے اعلان میں فرمایا تھا کہ ”ہم اپنے موجودہ مقبوضات کو کسی طرح وسعت دینا نہیں چاہتے۔ ہم ہندوستانی راجاﺅں کے حقوق، مرتبے اور عزت کا ایسا ہی لحاظ رکھیں گے جیسا کہ اپنے کا، ہماری یہ خواہش ہے کہ وہ اور ہماری اپنی رعایا ہر طرح کی خوشحالی اور فارغ البالی کا لطف اٹھائیں جو کہ امن و امان اور عمدہ حکومت سے حاصل ہو سکتی ہے۔

 1859ءمیں لارڈ کیننگ نے شمالی ہند کا دورہ کیا اور آگرہ میں ایک دربار کر کے ان ہندوستانی راجاﺅں سے جو اس دربار میں آئے تھے کہا کوئی ریاست خواہ وہ کیسی ہی کیوں نہ ہو اپنی آزادی سے محروم کر کے برٹش انڈیا میں شامل نہ کی جاوے گی۔ جائز وارث کی عدم موجودگی میں کوئی ریاست ختم نہ ہو گی۔ بلکہ ہر والیٔ ریاست کو اپنا کوئی بچہ نہ ہونے کی صورت میں کسی اور بچے کو متبنیٰ بنانے کا حق عطا کیا گیا۔ لارڈ کیننگ نے ہر ریاست میں ایک ایک سند بھیج دی جس میں انہیں اس وقت تک کے لیے یہ حق عطا کیا گیا جب تک کہ وہ تاج برطانیہ کے وفادار ہیں اور ان عہد ناموں کے پابند رہیں جو کہ وقتاً فوقتاً ان کے اور برٹش گورنمنٹ کے درمیان ہوئے ہیں یا آئندہ ہوتے رہیں گے۔

 ان ریاستوں کو محفوظ ریاستیں اس لیے کہا جاتا ہے کہ برٹش گورنمنٹ نے ہندوستان سے باہر کسی غیر ملکی حملے یا ہندوستان کے اندر ہی کسی دوسری ریاست کی دستبرد کے تمام خطرات سے انہیں ہر طرح محفوظ کر دیا ہے۔ ہر ریاست کے باشندے اپنے والیٔ ریاست کی رعایا ہیں۔ وہی ان پر ٹیکس لگاتا ہے اور قوانین بناتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے عدل و انصاف سے اپنی حکومت کرتا ہے۔ ان کی رعایا ہر جگہ برٹش ہند میں کمال آزادی سے تجارت کر سکتی ہے اور کسی قسم کا معاوضہ دیئے بغیر برٹش انڈیا کی بندرگاہیں، ریلیں اور بازار استعمال کر سکتی ہے۔ پچھلے زمانے میں ایک ریاست کے حکمران کو بیرونی حملے کا ہمیشہ خطرہ رہتا تھا۔ اس لیے ہر ایک حکمران کو اپنی اور اپنی ریاست کی حفاظت کے لیے پورا پورا خرچ برداشت کر کے فوج رکھنی پڑتی تھی لیکن اب اس بارے میں انہیں کچھ تردد نہیں کرنا پڑتا۔ اس لیے ان برکات میں سے جو ہندوستانی ریاستوں پر برٹش حکومت سے نازل ہوئی ہیں۔ یہ امن و امان سب سے بڑی برکت ہے۔

 اس کے مقابلے میں ان شہزادوں کے کچھ فرائض اور حقوق بھی ہیں۔ کوئی والیٔ ریاست کسی سے جنگ یا صلح نہیں کر سکتا۔ یہ اس کے شہنشاہ کا فرض ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اگر کوئی والیٔ ریاست چاہے تو اپنی ریاست میں انتظام قائم رکھنے اور بدامنی دور کرنے کی غرض سے مسلح پولیس رکھ سکتا ہے۔ ضرورت کے وقت سلطنتِ برطانیہ کی مدد کرنے کے لیے وہ ایک فوجی دستے کا کام دے سکتا ہے۔ یہ دستہ ”امپیریل سروس کور یعنی سلطنت کے لیے لڑنے والے فوجی سپاہیوں کا دستہ“ کہلاتا ہے۔

 ہر والیٔ ریاست اس امر کے لیے پابند ہے کہ وہ اپنی ریاست پر عدل و انصاف سے اور نہایت اچھے طریقہ پر حکمرانی کرے اور اس پر کسی طرح کا جبر و ظلم نہ رکھے نہ کسی خراب رسم مثلاً عورتوں کے ستی ہونے یا معصوم شیر خوار لڑکیوں کے قتل کو اپنی حدود ریاست میں کسی جگہ جاری رکھے۔ اگر کوئی والیٔ ریاست نامناسب طریق پر حکمرانی کرنے کے باعث تخت سے اتار بھی دیا جاتا ہے تو گورنمنٹ ہند اس کے بجائے اس کے نزدیک ترین وارث کو تخت و تاج کا مالک قرار دیتی ہے۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -