' اگر میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی بنیاد پر ظہیر سے الگ کیا گیا تو وہ کسی صورت والدین کے پاس نہیں جائے گی، دعا زہرا اپنے موقف پر ڈٹ گئی

' اگر میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی بنیاد پر ظہیر سے الگ کیا گیا تو وہ کسی صورت ...
' اگر میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی بنیاد پر ظہیر سے الگ کیا گیا تو وہ کسی صورت والدین کے پاس نہیں جائے گی، دعا زہرا اپنے موقف پر ڈٹ گئی

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پسند کی شادی کرنے والی دعا زہرا نے کہا ہے کہ میں ظہیر کے بغیر رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ اگر مجھے والدین کے پاس بھیجا گیا تو وہ مجھے جان سے مار دیں گے۔ میں اپنے شوہر کیساتھ رہنا چاہتی ہوں۔ اس کے بغیر جینے کا میں تصور بھی نہیں کر سکتی۔ان کا کہنا تھا کہ  دارالامان بھی نہیں جانا چاہتی ، اپنے شوہر ظہیر کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہے۔انٹرویو میں دعا زہرا نے کہا کہ اگر میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی بنیاد پراسے ظہیر سے الگ کیا گیا تو وہ کسی صورت والدین کے پاس نہیں جائے گی۔ 

سماء ٹی وی کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں دعا زہرا کا کہنا تھا کہ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور حکومت پنجاب سے درخواست کرتی ہوں کہ مجھے جینے دیا جائے۔دعا زہرا نے اپنے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے نکاح کیا ہے کوئی گناہ نہیں کیا کہ وہ عدالتوں میں ہمیں گھسیٹ رہے ہیں۔عید کی تیاریوں کے حوالے سے دعا زہرا نے کہا کہ ظہیر نے اسے جیولری دلا کر دی ہے لیکن ابھی کپڑے خریدنا باقی ہیں۔

دعا زہرا کا کہنا تھا کہ میں بالغ ہوں، میرا نکاح جائز ہے، ظہیر کے بغیر رہ ہی نہیں سکتی، ظہیر سے الگ ہونے کا سوچتی بھی ہوں تو دل گبھرانا شروع ہوجاتا ہے۔

مزید :

قومی -