بھارتی دانشور، سفارت کار ڈاکٹر ویدک کی باتیں!

بھارتی دانشور، سفارت کار ڈاکٹر ویدک کی باتیں!
بھارتی دانشور، سفارت کار ڈاکٹر ویدک کی باتیں!

  


مہمان تو وہ سابق ضلع ناظم لاہور اور ”دُنیا“ نیوز نیٹ ورک کے چیئرمین میاں عامر محمود کے ہیں اور اِسی حوالے سے میاں عامر محمود کی طرف سے محفل بھی سجائی گئی۔ بھارت کی کونسل برائے خارجہ پالیسی کے چیئرمین ڈاکٹر وی۔ پی۔ ویدک سے ملاقات اور گفتگو کے لئے شہر کے سینئر صحافیوں کو مدعو کر لیا گیا تھا۔ ڈاکٹر ویدک اُردو اور فارسی میں مہارت رکھتے ہیں اور ان کا میڈیا سے بھی تعلق بنتا ہے کہ کالم لکھتے ہیں۔ وہ کافی روز سے پاکستان، بلکہ لاہور میں ہیں۔ یہاں انہوں نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف، عمران خان اور چودھری شجاعت حسین سے ملاقات کی اور صدر آصف علی زرداری سے بھی ملے۔ یوں بھی بتایا گیا کہ ڈاکٹر موصوف بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے نمائندے کے طور پر میاں محمد نواز شریف کو کامیابی پر مبارکباد دینے آئے تھے۔

برادرم سلمان غنی کی کوشش سے محترم مجیب الرحمن شامی، نذیر ناجی، عطاءالحق قاسمی، ایاز خان، ارشاد عارف، سہیل وڑائچ، میاں سیف الرحمن، نجم ولی خان، توفیق بٹ، اسد اللہ غالب، سہیل احمد اور سجاد میر کے علاوہ بعض دوسرے حضرات بھی اس گفتگو میں شامل تھے۔ محفل میں زیادہ وقت ڈاکٹر ویدک ہی کو ملا اور وہ اپنے منصب کے حوالے سے بولتے بھی خوب ہیں، اُن کی گفتگو میں بے ساختگی نظر آتی ہے، لیکن اس کے پیچھے ان کی ڈپلومیٹک ذہانت کو بہرحال نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارتی دانشور ہو اور یہاں سے میڈیا کے حضرات کو بلایا گیا ہو، تو قدرتی طور پر بات پاک بھارت تعلقات ہی کے حوالے سے ہو گی۔ ڈاکٹر ویدک اِس سلسلے میں بڑی پُرامید گفتگو کر رہے تھے، اُن کے مطابق پاک بھارت تعلقات بہتر اور خوشگوار بنانے کے عمل میں حصہ بھی ڈالنا چاہئے۔ اس سلسلے میں جب بات میڈیا کی طرف آئی تو پھر حاضرین محفل نے معززمہمان کی معلومات میں اضافہ ضروری جانا کہ بھارتی میڈیا پاکستان کے حوالے سے بہت زیادہ متعصب رویہ اپنائے رکھتا ہے اور کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا کہ اپنے بغض کا مظاہرہ نہ کرے۔

اِس سلسلے میں ہماری گزارش تھی کہ متعدد بار بھارت جانے کا موقع ملا اور ہر بار بھارتی صحافیوں اور دانشور حضرات ہی سے مکالمہ ہوتا رہا ہے۔ ہم نے بھی عرض کیا کہ ہم چندی گڑھ پریس کلب کے اعزازی رکن کا اعزاز بھی رکھتے ہیں ،جب لاہور پریس کلب کے وفد کے ساتھ ہم وہاں تھے، چندی گڑھ پریس کلب میں مجلس مذاکرہ ہو رہی تھی تو اس میں شریک ورکنگ جرنلسٹس (کارکن صحافی) حضرات مضطرب تھے کہ میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا ریٹنگ کے چکر میں بہت آگے بڑھ جاتا ہے۔ مجلس مذاکرہ میں مسئلے کی نشاندہی تو ہو گئی ، تاہم جو حل پیش کیا گیا، وہ یہ تھا کہ کارکن صحافیوں کو رضاکارانہ طور پر احتیاط ملحوظ رکھنی چاہئے۔ حیرت انگیز طور پر ڈاکٹر ویدک بھی بھارتی الیکٹرانک میڈیا کے عمل سے بیزار نکلے اور انہوں نے یہ کہہ کر حیران کیا کہ جب سے نئے گھر میں منتقل ہوئے ہیں، انہوں نے ٹیلی ویژن دیکھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ ان کی رائے تھی کہ الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان تربیت سے عاری ہیں۔ بہرحال محفل میں موجود سینئر حضرات نے پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا کا بھی ذکر کیا اور معزز ڈپلومیٹ کو بتایا کہ یہاں اس طرح کا تعصب نہیں پایا جاتا، جیسا بھارت میں ہے۔

ڈاکٹر ویدک سے پاکستان کے سیاسی قائدین، خصوصاً میاں محمد نواز شریف کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے تاثرات جاننے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے بہت ہی اچھے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارتی قیادت کو یقین ہے کہ میاں محمد نواز شریف کے برسر اقتدار آنے سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری آئے گی ، ماضی میں ان کا ریکارڈ بہت شاندار ہے اور میاں محمد نواز شریف گو محتاط تھے، لیکن وہ یقین رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات خطے کے امن اور ترقی کے لئے ضروری ہیں۔ ڈاکٹر ویدک کے مطابق میاں محمد نواز شریف جب اپنے سابقہ دور کا ذکرکرتے ہیں تو سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کو یا تو واجپائی کہتے یا پھر اٹل صاحب کہہ کر یاد کرتے ہیں۔ یہاں انہوں نے لسانیت کے حوالے سے تصحیح کی تو لطیفہ ہو گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سابق وزیراعظم کا نام دراصل واجپئی ہے جو سنسکرت کا لفظ ہے، جس کے لفظی معنی گھوڑے اور اس کے سوار کے حوالے سے ہوتے ہیں۔ محترم مجیب الرحمن شامی نے لقمہ دیا: ”شہسوار“ تو فوراً تائید کی، جی یہی مطلب ہے، لیکن واجپائی کہیں تو پھر معنی گھوڑے کے سم بن جاتے ہیں۔ اس پر قہقہہ بھی بلند ہوا۔

پاک بھارت تعلقات میں تنازع کشمیر کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی طالب علم امتحان دیتا ہے تو اصول یہ ہے کہ پہلے آسان سوال حل کیا جائے، چنانچہ مذاکرات کے عمل میں بھی اسی فارمولے کو پیش نظر رکھنا چاہئے اور جہاں تک کشمیر کاتعلق ہے توبالفرض محال حق خود ارادیت بھی مل جائے تو کیا ضمانت ہے کہ کشمیری پاکستان کے حق میں فیصلہ دیں وہ بھارت کے ساتھ بھی تو مل سکتے ہیں، یا پھر آزاد ہو جانے کو ترجیح دیں گے، ایسی صورت میں کشمیر کی ریاست قابل عمل نہیں ہو گی، اس لئے پاکستان اور بھارت کو مل کر کوئی حقیقت پسندانہ حل ڈھونڈنا چاہئے۔ بزرگ دانشور اس حوالے سے ایک سوال بھی کر لیتے ہیں، وہ پوچھتے ہیں: ”آپ کو کشمیر کیوں چاہئے“؟ اس محفل میں بھی یہ سوال کیا گیا تو ہم نے بے ساختہ کہا اس لئے کہ ہمیں پانی چاہئے“۔ یہاں ڈاکٹر تسلیم کر گئے اور اس بار ہم نے ایک بھارتی مفکر سے یہ سنا کہ ”اس میں کچھ بیرونی قوتیں بھی ملوث ہیں“۔ بہرحال بات یہی تھی کہ تعلقات بہتر ہونے سے دونوں کا فائدہ ہے۔

ہم ڈاکٹر موصوف سے جاننا چاہتے تھے کہ پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے بھارتی سرمایہ داروں، اجارہ داروں کا کیا نقطہ نظر ہے اور کیا کانگرس اور بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں کی صحیح نیت یہی ہے اور ان کی ”سیاسی فکر“ ہے۔ ڈاکٹر ویدک نے ان دونوں سوالوں کا جواب براہ راست نہ دیا اور دو تین بار پوچھنے کے بعد رائے دی: ”کانگرس اور بی جے پی دونوں بھارت کی بڑی پارٹیاں ہیں، اور دونوں ہی تعلقات بہتر بنانا چاہتی ہیں، اب معلوم نہیں کہ جب بھی بات چیت نتیجہ خیز ہونے لگتی ہے تو کوئی نہ کوئی وقوعہ کیوں ہو جاتا ہے، دوسرے سوال کا تو براہ راست جواب نہیں تھا۔ وہ کہتے ہیں، پاک بھارت دوستانہ تعلقات سے پاکستان کو بہت فائدہ ہے، تعلقات اچھے ہوں گے تو تجارت بھی ہو گی۔ بھارت پاکستان کے زمینی راستے سے وسطی ایشیائی ریاستوں سے تجارت کرے گا تو پاکستان کو تو راہداری فیس ہی سے بہت آمدنی ہو گی۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ بھارت نے افغانستان میں دو درجن سے زیادہ قونصل خانے کھول کر پاکستان میں مداخلت کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے تو انہوں نے وضاحت کی اور بتایا کہ ایسا نہیں، افغانستان میں قونصل خانے صرف دو تین شہروں میں ہیں اور پہلے سے ہیں۔ عطاءالحق قاسمی (سفیر رہ چکے ہیں) نے کہا قونصل خانوں پر تو اعتراض نہیں، تخریب کاری یا مداخلت نہ کریں، جو عموماً ہوتی ہے۔ محترم مجیب الرحمن شامی نے مسکرا کر کہا: یہ بات درست ہے۔ جاسوسی تو سب کرتے ہیں، لیکن مداخلت نہیں ہونی چاہئے۔

میاں عامر محمود کی یہ کاوش بہتر تھی، کافی معلومات افزا محفل رہی، ہم ضروری گھریلو کام کی وجہ سے کچھ دیر پہلے چلے آئے، بعد میں بھی محفل جمی رہی تھی۔ بہرحال ہمارے ذاتی تجربے کے مطابق تو بھارت میں پریشر گروپ ہیں جو تعلقات کو معمول پر لانے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں اور اس کی مثال سربجیت سنگھ کو بھارتی ہیرو قرار دینا اور دو روز قبل دہلی میں پاکستانی سفارت کار پر تشدد جیسے واقعات ہیں۔    ٭

مزید : کالم