سیاست کا غیر یقینی پن

سیاست کا غیر یقینی پن
سیاست کا غیر یقینی پن

  


 سیاست ہمیشہ حقائق کے سنگلاخ پتھروں کی طرح واضح نہیںہوتی ، بلکہ یہ پگھلے ہوئے مادوں کی طرح اس طرح باہم الجھی ہوئی ہوتی ہے کہ یہ پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ اس کی ماہیت کیا ہے؟تجزیہ نگاری اور توقعات ، بلکہ خدشات کی بنیاد اسی بے یقینی پر استوار ہوتی ہے۔ دہلی میںعظیم الشان بلڈنگ کی وہ جگہ، جہاں بھارتی پارلیمنٹ واقع ہے اور جہاں اراکین قطاروں میں بیٹھے ہوتے ہیں اور جہاں دھواں دھار بحث و مباحثے کے دور چلتے ہیں، سیاست کے حقیقی منظر نامے کا سٹیج نہیں ہے۔ اس کا مرکز وہ پُر سکون مقام ہے، جسے سنٹرل ہال کہتے ہیں۔ یہ ہال ماحول اورجذبات کے اعتبار سے ٹھنڈا رہتا ہے۔ یہاں گرم جوش رویوں کا کوئی گزر نہیں، تاہم یہ وہ مقام ہے ،جہاں حقیقی سیاسی کارروائی نہایت دوستانہ ماحول میں عمل میں آتی ہے۔ وہ اراکین ِ پارلیمنٹ جو محترم سپیکر اور متعدد ٹی وی کیمروں کے سامنے ایک دوسرے پر گرج برس رہے ہوتے ہیں، یہاں نہایت پر سکون انداز اور دوستانہ ماحول میں چائے پیتے اور مکھن لگے توس کھاتے ہوئے گپ شپ میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں اُن کی پارٹیوں کا روایتی نقطہ ءنظر فراموشی کے عالم میں چلا جاتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں مثال کے طور پر ملائم سنگھ بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے اپنے ساتھی کو بتا سکتا ہے کہ اس وقت اتر پردیش کے انتخابی حلقوں کے بارے میں کس دورغ گوئی سے کام لیا جا رہا ہے۔ جب پارلیمنٹ کا اجلاس نہ بھی ہو تو بھی یہاں رونق رہتی ہے ،کیونکہ مختلف کمیٹیاں کام کرتی رہتی ہیں ، پھر اس قیمت پر آپ دارالحکومت میں اس طرح کا لنچ کہیں اور سے نہیں لے سکتے ہیں۔

اب موضوع ِ گفتگو یہ ہے کہ حکومت جولائی کے پہلے ہفتے میں پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے والی ہے۔ حکومت کو توقع ہے کہ وہ اس اجلاس میں دو بل منظور کرانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ ان کا تعلق فوڈ سیکیورٹی اور زمین کے حصول سے ہے۔ ان کے ذریعے کانگرس کے کچھ نقصانات کی تلافی ہو جائے گی۔ نجی گفتگو میں بہت سے اراکین ِ پارلیمنٹ فوڈ سیکیورٹی کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہارکرتے ہیں ،کیونکہ انڈیا میں اس منصوبے کے لئے درکار انفرا سٹرکچر موجود نہیںہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی امکان ہے کہ اس سکیم کے ذریعے بہت سے فنڈز بدعنوانی کی نذ رہوجائیں اور ملکی خزانے کو نقصان پہنچے، تاہم عوامی سطح پر کوئی سیاسی جماعت اس تصور کی مخالفت کرنے کی جرات نہیں کرے گی، اگرچہ سب یہ کہتے سنائی دیں کہ اس منصوبےا میں ترمیم کی ضرورت ہے ۔

اہم بات یہ بل نہیں، بلکہ خصوصی اجلاس ہے۔ یہ اجلاس کیوں بلایا جارہا ہے ؟جب عام طور پر اگست کے وسط میں معمول کے مطابق اجلاس ہونا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ جاننے کے لئے اس سطر پر غور کیجیے”کانگرس فوڈ بل چاہتی ہے ،لیکن وہ اس کو نافذ کرتے ہوئے متوقع نقائص کا سامنے کرنے کے لئے تیار نہیں....اگر انتخابات اگلے اپریل یا مئی میںہوتے ہیں تو فوڈ سیکیورٹی کے نفاذ میں ہونے والی خرابی مہنگی پڑ سکتی ہے، چنانچہ بہترین حکمت ِ عملی یہ ہے کہ بل پاس کیا جائے اور نومبر یا دسمبر میں انتخابات کا اعلان کر دیا جائے۔ اس ٹائمنگ میں حکمران پارٹی کی منطق سمجھ میں آتی ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت اس مرتبہ موسم ِ سرما کے انتخابات کا تجربہ کرے گا۔ کانگرس میں ہی بہت سے گروہ اس بات پر مصر ہیں کہ اسمبلی کو اپنی آئینی مدت پوری کرنی چاہیے ،کیونکہ حکومت میں ہر دن ایک اہم دن ہوتا ہے، تاہم بہت سی جماعتیں انتخابات کے لئے ذہن بنا رہی ہیں۔ انہوںنے اپنے اپنے پتے کھیلنا شروع کر دیئے ہیں۔ چھوٹی پارٹیاںاپنے تمام آپشنز کو کھلا چھوڑ کر متوقع امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں۔

آج کی سیاسی صورت 2004ءسے بہت مختلف ہے، کیونکہ کانگرس اپنے بہت سے اتحادیوںسے ہاتھ دھو چکی ہے۔ ممتا بنرجی نے حکومت کوچھوڑا ۔ اس کے بعد ”ڈی ایم کے“ نے بھی اپنی راہیں الگ کر لیں۔ ملائم سنگھ یادیو اور مایاوتی کبھی بھی حقیقی معنوں میں کانگرس کے ساتھ نہیں تھے۔ یادیو نے اپنی تقاریر میں کانگرس پر شدید نکتہ چینی شروع کر دی ہے۔ جب بھی وہ حکومت پر کوئی من پسند نشتر چلاتے ہیں تو عوام کی یہ رائے تقویت پکڑتی جاتی ہے کہ یہ حکومت اُ ن کی نظروں میں بھی ناکام ہو چکی ہے ،جو اسے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اگر دہلی میں انتخابات کے علاوہ بھی کوئی دلچسپ موضوع ہے تو وہ یہ ہے کہ شارد پاور کون سی چال چلے گا۔ پاور پوکر کا کھلاڑی ہے۔ پوکر شطرنج کے اصولوں پر کھیلی جاتی ہے اور شطرنج سے حاصل کردہ مہارت پوکر میں بھی کام آتی ہے اور جوئے میںبھی۔ اگر اسی کھیل کے استعارے میںبات جاری رکھی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ پاور اُس وقت تک اپنے پتے ظاہر نہیں کرے گا، جب تک شرط لگانے والے تمام افراد میز پر اپنی شرائط ظاہر نہ کردیں۔ پھر وہ دیکھے گا اس کا فائدہ کس میںہے؟ اُس کی جماعت کے نوجوان دھڑے ، نیشنل کانگرس پارٹی، نے ایک قرار داد منظور کی ہے کہ وزیر ِ مالیات پی چدم برم نے غریب دشمنی کا ثبو ت دیتے ہوئے فلاحی کاموں کے لئے صرف ہونے والی رقوم میں ایک چوتھائی کمی کی ہے۔ یہ بات درست ہے، لیکن اگر پاور کو اس بات کا احساس ہے تووہ یہ اعلان کر سکتا ہے کہ فوڈ سیکورٹی بل کانگرس کی طرف سے کی گئی تلافی ہے اور یہ کہ مہان سرمایہ رکھتے ہوئے بھی یہ جماعت غریب عوام سے ہرگز دور نہیںہوئی ۔

پاور صرف ایک صورت میں اپنی ترجیحات تبدیل کرے گا، جب اُسے سو فیصد یقین ہوگا کہ کانگرس کے ساتھ رہنے سے اُسے سیاسی طور پر نقصان ہوگا، تاہم اس بات کا بھی امکان نہیںہے کہ وہ چشم زدن میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کا حصہ بن جائے۔ اس کی بجائے وہ کنارے پر رہتے ہوئے ”دیکھو اورانتظار کرو“ کی پالیسی پر عمل کرنا بہتر سمجھے گا۔ مہاراشٹرمیں بننے والا حتمی منظر شاید اُسی وقت واضح ہو گا، جب الیکشن کمیشن کاغذات ِ نامزدگی وصول کرنا شروع کرے گا۔ اس میںکوئی شک نہیں کہ آنے والے انتخابات نوے کی دہائی کے بعد سے ہونے والے انتخابات میں سب سے زیادہ بے یقینی پن رکھتے ہیں۔ تمام جماعتوں کو یقین ہے کہ کانگرس ناکامی سے ہمکنار ہو گی ، تاہم یہ کسی کو علم نہیں کہ اس کا فائدہ کس کو ہو گا اور کس حد تک ہو گا؟ تمام پارٹیوںکی کوشش ہوگی کہ وہ اپنے اراکین کی تعداد بڑھائیں تا کہ جب دہلی میں حکومت سازی کا مرحلہ آئے تو ا ُن کے پاس ظاہر کرنے کے لئے کچھ پتے ہوں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کسی بڑی مرکزی جماعت کے بغیر حکومت غیر مستحکم ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سنٹرل ہال اب ٹھنڈا ہی نہیں، گرم جوشی سے بھی لبریز ہو گا۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں ہے۔     ٭

مزید : کالم