مسلم لیگ(ن) دوتہائی اکثریت کی حامل، سینیٹ میں بھی پریشانی نہیں ہو گی

مسلم لیگ(ن) دوتہائی اکثریت کی حامل، سینیٹ میں بھی پریشانی نہیں ہو گی
مسلم لیگ(ن) دوتہائی اکثریت کی حامل، سینیٹ میں بھی پریشانی نہیں ہو گی

  


چودہ سال کے بعد میاں محمد نواز شریف وزیراعظم کی حیثیت سے تیسری بار حلف اُٹھا کر ریکارڈ بنا چکے اور انتقال ِ اقتدار بھی ساتھ ہی ہو گیا۔ اب وہ ایک بااختیار چیف ایگزیکٹو اور سیاسی قائد ہیں اس بار اُن کی جماعت کو سادہ اکثریت مل گئی جو بڑھتے بڑھتے دو تہائی اکثریت تک پہنچ گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اب وہ آئین میں ترمیم تک کے اہل ہیں البتہ سینیٹ میں مشکل پیش آ سکتی ہے لیکن یہ احساس موجود ہے کہ زمینی حقائق میاں محمد نواز شریف کے حق میں ہیں اسی لئے تو سینیٹ میں بھی قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی حیثیت تبدیل ہوئی۔ اسحاق ڈار قائد حزب اختلاف اور فاروق نائیک قائد ایوان کے عہدہ سے مستعفی ہو گئے اب قائد ایوان کا تقرر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور قائد حزب اختلاف کا سینیٹ کے چیئرمین نیئر بخاری ایوان کی رائے سے کریں گے۔ جب خراب موسم آتا ہے تو پتے بھی ہوا دینے لگتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی نے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کی اور قائد ایوان کے لئے مخدوم امین فہیم کو نامزد کر دیا تھا، لیکن حالات تو سینیٹ میں بھی موافق نہیں ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اور متحدہ قومی موومنٹ نے وزیراعظم کی حمایت کی، سینیٹ میں فاٹا والے الگ ہو گئے۔ اے این پی نے خود مختار اپوزیشن کا نعرہ لگایا اور پیپلزپارٹی کے بعض سینیٹر فارورڈ بلاک کا فیصلہ کر چکے ہوئے ہیں ، اعلان باقی ہے۔ یوں وزیراعظم کو سینیٹ میں بھی کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔ البتہ پیپلزپارٹی کے لئے یہ آخری مشکلات والے ہیں جس کے بعد سیاسی گرد بیٹھ جائے گی اور جس نے جو ٹھکانہ بنانا ہے وہ بنا چکے گا دیکھنا یہ ہو گا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف پیپلزپارٹی سے ہو گا یا پھر قوعہ فال تحریک انصاف کے حق میں نکلے گا کہ کنجی متحدہ کے پاس ہے جس کے 23 اراکین ہیں۔ ان کالموں میں گزارش کی تھی کہ پیپلزپارٹی سے قائد حزب اختلاف کا منصب بھی چھیننے کی بھرپور سعی ہو گی۔

جہاں تک پیپلزپارٹی کی ہزیمت اور سندھ میں فتح کا تعلق ہے تو یہ بہت بڑا المیہ ہے اس سے چاروں صوبوں کی زنجیر والے نعرے کو نقصان پہنچا ہے لیکن یہ سب کیوں اور کیسے ہوا، خود صدر آصف علی زرداری اور ان کی جماعت کے اکابرین بیٹھ کر سوچنے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک دھاندلی ہوئی جبکہ صحیح فکر کے مالک پیپلزپارٹی والے کہتے ہیں پارٹی اصولوں کے برعکس سمجھوتوں، مفاہمتی عمل اور کرپشن نے یہ دن دکھایا اور آج بھی وہ سب جن کی مبینہ بدعنوانیوں اور نااہلیت کی وجہ سے یہ ہوا جماعت پر حاوی ہیں جبکہ آنے والا وقت ان کا نہیں،ELECTABLEاپنا راستہ بنائیں گے اور مبینہ کرپٹ رہنماﺅں کو جماعت میں پذیرائی نہیں ملے گی۔ یہاں صرف یہ سوال ہو گا کہ کیا جماعت کے اندر ایسا ٹیلنٹ موجود ہے جو پارٹی کو واپس بنیادی اصولوں کے مطابق چلانے کے لئے آگے بڑھے یا پھر خود آصف علی زرداری کو کوئی انقلابی قدم اُٹھانا پڑے گا اور وہ یہی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بے خوف و خطر سیاست میں جھونک دیں اور خود پس پردہ چلے جائیں اس صورت میں جماعت کی تنظیم نو اور بنیادی اراکین کی واپسی اور عملی شرکت لازم ہو گی۔

صدر آصف علی زرداری کے گزشتہ دنوں والے انٹرویو سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مستقبل میں پیش آنے والے ہر قسم کے حالات کے لئے تیار ہیں اور جو بھی مقدمات کھلیں گے ان کا سامنا بھی کریں گے۔ سوئس کیس کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ وہ سزا بھی بھگت چکے، لیکن صرف اتنا ہی نہیں ہے، میمو گیٹ کا بھوت اب تک موجود ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حسین حقانی امریکہ میں پناہ گزین ہونے کو ترجیح دیں گے۔چہ جائیکہ وہ پاکستان آ کر پھنس جائیں، امکانی طور پر فیصلہ تو بہرحال مخالفانہ ہی دکھائی پڑتا ہے۔

ان حالات میں دو باتوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ایک یہ کہ آصف علی زرداری پارٹی امور سے بالکل لاتعلق ہو جائیں یا پھر جیسا بھی ہے، جہاں بھی ہے اور جو بھی ہے کے مطابق خود فرنٹ لائن پر آتے ہیں یہ فیصلہ وہ عہدہ صدارت چھوڑنے کے بعد ہی کریں گے۔ ویسے سندھ کارڈ کو بھول جانا یا نظر انداز کرنا غلط ہو گا۔ صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ(ن) حکومت کے درمیان پہلا مکالمہ، تنازعہ یا مشکل مرحلہ اس وقت آئے گا جب پارلیمان کا پہلا اجلاس ہو گا اور ان کو صدر کی حیثیت سے خطاب کرنا ہو گا کہ یہ بھی آئینی اور پارلیمانی ذمہ داری ہے۔ تاہم پارلیمانی طرز حکومت میں صدر کا خطاب بھی سرکاری پالیسی کا مظہر ہوتا ہے اور تقریر حکومت کی طرف سے مہیا کی جاتی ہے کہ یہ حکومتی پالیسی کا اظہار ہوتا ہے۔ صدر اس میں ترامیم تجویز کر سکتے ہیں۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت کی ناقد ہے اس لئے تقریر میں اس میں نکتہ چینی کا عکس ضرور ہو گا جبکہ صدر آصف علی زرداری اپنی کامیابیوں کا ذکر کرنا چاہیں گے یہ مشکل مرحلہ ہے۔ کیا باہمی افہام و تفہیم سے یہ طے ہو جائے؟ اس کا اندازہ تو وقت آنے پر ہی ہو گا۔

مزید : تجزیہ