وزیراعظم نواز شریف

وزیراعظم نواز شریف
وزیراعظم نواز شریف

  


نوے کی دہائی میں جب جلسوں میں وزیر اعظم نواز شریف کا نعرہ لگا کرتا تھا تو محترمہ بے نظیر بھٹو کی موجودگی میں اس کا مزہ ہی اور ہوتا تھا، لیکن آج جب آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کے جملہ حقو ق کے محافظ ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف کا کوئی مد مقابل نہیں، اس لئے نعرہ لگے نہ لگے، وزیر اعظم نواز شریف ہی ہیں!

نوے کی دہائی میں نواز شریف کی اٹھان اور تھی، ان کی سیاست اور تھی، سیاست کا انداز اور تھا، اور کمال یہ ہے کہ اس وقت وہ انداز بڑا جاندار لگتا تھا، لوگ واری صدقے جایا کرتے تھے، محترمہ بے نظیر بھٹو ایک طرف میدان لگاتیں تو نواز شریف دوسری جانب طمطراق سے کھڑے نظر آتے، نواز شریف کا سیاست میں سرگرم ہونا پیپلز پارٹی کے جیالوں کو کھلتا تھا، وہ اسے جنرل ضیاءالحق کا بیٹا قرار دیتے تو کبھی لوہار کا بیٹا کہتے، کبھی اس کے گنجے پن کا مذاق اڑاتے تو کبھی ہارس ٹریڈنگ کے طعنے دیتے ،پھبتیاں کستے، نواز شریف کا قد کاٹھ ذوالفقار علی بھٹو جیسا نہ تھا، اس کی اٹھان بھی ذوالفقار علی بھٹو جیسی نہ تھی، لیکن اس کے باوجود اس میں کچھ خاص تھا کہ عام لوگوں نے اسے بھٹو کی بیٹی کے مقابل لاکھڑا کیا تھا اور وہ بھی ڈٹ گیا تھا، اور پھر ایسا ڈٹا کہ آج صرف سندھ رہ گیا ہے کہ جہاں پر اس کی دھاک بیٹھنا باقی رہ گئی ہے وگرنہ سارا ملک اس نے اسی طرح سے جیت لیا ہے جس طرح کبھی بھٹو نے جیتا تھا!

یوں تو نواز شریف سے لوگوں کا تعارف اسی وقت ہو گیا تھا جب انہوںنے مرکز میں قائم بے نظیر بھٹو کی حکومت سے متھا لگاتے ہوئے پنجاب بینک کی بنا ڈالی اور بات پنجاب ٹی وی کے قیام تک جا پہنچی تھی ، بے نظیر بھٹو کا استقبال نہ کرکے انہوںنے ایک نئی قسم کی سیاست کی طرح ڈالی تھی جس کو اس کے بھائی شہباز شریف نے صدر آصف زرداری کا استقبال نہ کر کے مکمل کردیا ، تاہم نواز شریف نے سیاسی طور پر اپنی اصل دھاک اس وقت بٹھائی جب اس نے اسمبلی کے اندر کھڑے ہو کر واشگاف انداز میںکہا تھا کہ کسی سے ڈکٹیشن نہیں لوں گا ، وہ دن گیا اور آج کا دن آیا نواز شریف پاکستان کی سیاست میں ایک بہت بڑی حقیقت کے طور پر موجود ہیں!

لیکن کل کے نواز شریف اور آج کے نواز شریف میں بڑا فرق ہے، نواز شریف نے کل اور طرح سے قوم کا دل موہ لیا تھا اور آج اور طرح سے قابو کیا ہوا ہے، کل وہ ٹکر لے کر ، للکار کر، انکار کرکے اور مردانہ وار مقابلہ کر کے اپنا آپ منوا رہے تھے تو آج وہ صلح جوئی، بردباری اور تدبر کو اپناتے ہوئے عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں ،1985سے لے کر اب تک نواز شریف پاکستان کی سیاست میں موجود ہیں اور ہر دور میں relevantرہے ہیں ، ان پچیس برسوں میں انہوںنے سب کچھ کرلیا، فوجی آمر کو للکارلیا، سیاسی حریفوں سے ٹکرلی، ڈرٹی پالیٹکس کی ، سٹیٹس مین کے روپ میں نظر آئے !

نواز شریف کا کوئی مقابلہ نہیں، عمران خان کا مقابلہ بھی خوداپنے آپ سے ہے ، نواز شریف سے نہیں، آصف علی زرداری کا مقابلہ پیپلز پارٹی سے ہے، پارٹی کے ورکروں سے ہے، نواز شریف سے نہیں، نواز شریف نے سیاسی جماعت کو کارپوریٹ انداز میں چلاکر دکھا دیا، انہوں نے پارٹی کو ایک ڈسپلن میں رکھا، کسی کو جرات نہیں کہ پارٹی کے اندر رہتے ہوئے پارٹی کے خلاف باتیں کرے، ایاز امیر ایسا کیا کرتے تھے ، لیکن پھر وقت آنے پر وہ خود پارٹی سے علیحدہ نہیں ہوئے تو پارٹی نے انہیں علیحدہ کردیا، وہ عمران کی آڑ میں اپنے آپ کو ہیرو ثابت کرنے نکلے تھے، ولن بھی نہ رہے!

جہاں نواز شریف کو چیلنج درپیش ہیںوہیں پر نواز شریف خود بھی ایک چیلنج ہیں، پاکستان کو اتنے عرصے بعد ایک ایسا لیڈر ملا ہے جو خالصتاً پاکستانی ہے، جس کی رگ رگ میں پاکستان خون بن کر دوڑ رہا ہے، اس نے پاکستان کو گرداب سے نکالنا ہے ، امریکہ کو نکیل ڈالنی ہے، طالبان کو ہتھیاروں سمیت ویلکم کرتے ہوئے طالبان کو منانا ہے ، ڈرون کو گرانا ہے، معیشت کو چلاناہے، بجلی کو لانا ہے،

نواز شریف کے بارے میں میاں اظہر نے ایک بار کہا تھا کہ نواز شریف بدترین حالات میں بہترین سودے بازی کرتے ہیں ، وقت نے ثابت کیا کہ میاں اظہر نے ٹھیک کہا تھا، عالمی اسٹیبلشمنٹ کو اب ایک ایسے لیڈر سے بات کرنا پڑے گی جس کے پاس عوام کا مینڈیٹ ہے، وہ ایک لولے لنگڑے ، دوسروں کے محتاج وزیراعظم سے معاملات نہیں کررہی ہوگی، جس کو آئی ایم ایف کی قسط روک کرچلتا کیا جا سکتا ہے، اس کے برعکس انہیں نواز شریف کی شرائط پر معاملات بڑھانے ہوں گے!

مزید : کالم