زرعی اراضی اصلاحات کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی

زرعی اراضی اصلاحات کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی
زرعی اراضی اصلاحات کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی

  


 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے زرعی اراضی اصلاحات کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر تے ہوئے چاروں ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیئے ہیں اور خواجہ حارث، مخدوم علی خان، لطیف آفریدی اور ہادی شکیل کو عدالتی معاون مقرر کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ عوام الناس میں سے کوئی بھی شخص مذکورہ مقدمے میں فریق بن سکتا ہے، عدالت کے دروازے سب کیلئے کھلے ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی کی نو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیئے کہ موجودہ فیصلہ کالعدم ہوا تو پھر زمین کی بحق سرکار ضبطگی کا قانون نافذ ہو جائے گا، ملک میں بہتر زرعی نظام نافذ کر کے ہم دنیا بھر کے بہتر معیشت والے ممالک کی صف میں کھڑے ہو سکتے ہیں، زمینیں بنجر پڑی ہیں ان کو قابل کاشت بنا کر ملکی زرعی دولت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، کسانوں کو ان کا حق دیکر بھی زرعی اجناس کی پیداوار میں بخوبی اضافہ ممکن ہے۔ جسٹس سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ دیکھنا ہوگا کہ کیا سپریم کورٹ ایلیٹ بنچ کے حتمی فیصلے کو ختم کر سکتی ہے، معاملات سوچھ سمجھ کر نمٹانا ہوں گے۔ عابد حسن منٹو نے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ کو آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت لا محدود اختیارات حاصل ہیں ویسے بھی بنیادی حقوق کا معاملہ ہے جس کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ایلیٹ بنچ کے فیصلے سے عدالتی اختیارات سلب نہیں ہو سکتے، عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اس مقدمے کی سماعت کرے۔اس پر عدالت نے مقدمے کی اہمیت کے پیش نظر چاروں ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار سینئر وکلاءکو عدالتی معاون مقرر کر دیا۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں