یوکرین کو ’غیر مستحکم‘ کرنے کا ارادہ نہیں: پیوٹن

یوکرین کو ’غیر مستحکم‘ کرنے کا ارادہ نہیں: پیوٹن

  



واشنگٹن (آن لائن)روسی صدر ولادےمےر پیوٹن نے اس بات کو مسترد کیا ہے کہ روس جنوب مشرقی یوکرین کو ’ضم یا غیرمستحکم‘ کرنا چاہتا، ایسے میں جب یورپی راہنماو¿ں نے ا±ن سے مطالبہ کیا ہے کہ کیئف حکومت کے خلاف بغاوت کے خاتمے میں مدد دینے کے لیے وہ روس نواز علیحدگی پسندوں پر اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کریں۔اپنے اےک انٹرویو میں، صدر ولادیمیر پیوٹن سے کہا کہ جنوب مشرقی یوکرین میں روسی فوجی دستے یا فوجی انسٹرکٹر کبھی بھی نہیں تھے، نا ہی اس وقت موجود ہیں۔ا±نھوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کی حکومت ’اپنے ہی لوگوں کے ساتھ مکالمہ قائم کرے؛ اور اسلحے، ٹینکوں اور جہازوں کے ذریعے نہیں، بلکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جائے‘۔قبل ازےںجرمن چانسلر آنگلہ مرخیل نے کہا کہ روس کو مزید تعزیرات کا سامنا کرنا ہوگا اگر وہ مشرقی یوکرین میں شدت پسندی کو بند کرنے کے سلسلے میں مدد اور تعاون نہیں کرتا۔ا±نھوں نے جرمن قانون سازوں کو بتایا کہ روس مشرقی یوکرین کی سرحد کے اندر ہتھیار اور جنگجوو¿ں کے داخل ہونے کو روکنے میں ناکام رہا ہے، اور یہ کہ اگر یہی صورت حال جاری رہی تو جرمنی روس کے خلاف مزید تعزیرات عائد کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔

برطانیہ نے بھی روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مشرقی یوکرین میں عدم استحکام کے خاتمے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

مزید : عالمی منظر