اسرائیل کی عرب ممالک اور فلسطین پر چھ روزہ یلغار کو آج47 برس مکمل

اسرائیل کی عرب ممالک اور فلسطین پر چھ روزہ یلغار کو آج47 برس مکمل

  



غزہ (اے این این)پانچ جون 1967 ء کو اسرائیل کی عرب ممالک اور فلسطین پر چھ روزہ یلغار کو آج 47 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ اس جنگ میں صہیونی فوج نے جس رعونت اور وحشت کا مظاہرہ کیا اس نے ماضی کی جنگوں میں تباہی و بربادی کو بھی بھلا دیا تھا۔ جنگ میں صہیونی فوج نے فلسطین کے دریائے اردن کے مغربی کنارے، غزہ کی پٹی، مقبوضہ بیت المقدس، شام کی وادی گولان اور مصر کے جزیرہ نما سینا پر قبضہ کر لیا تھا۔پانچ جون سے دس جون تک جاری رہنے والی چھ روزہ جنگ کے اثرات آج بھی قائم ہیں اور صہیونی فوج اپنی ہٹ دھرمی پر آج بھی قائم ہے۔ قابض فوج نے جزیرہ نما سینا کا کچھ حصہ خالی کرنے کے بعد نو سال قبل غزہ کی پٹی سے بھی فوجیں واپس بلا لیں تھیں تاہم مغربی کنارے، بیت المقدس اور وادی گولان پر اب بھی اسرائیل کا تسلط برقرار ہے۔سنہ 1967 کی چھ روزہ عرب، اسرائیل جنگ سنہ 1948 میں صہیونی ریاست کے قیام کے بعد عرب ممالک کے خلاف اسرائیل کی تیسری جنگ تھی۔ اس جنگ میں عرب اور فلسطینیوں کا جانی و مالی نقصان اسرائیل کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھا۔ جنگ میں 15 سے 25 ہزار افراد مارے گئے جبکہ اسرائیل میں مرنے والوں کی تعداد 800 سے زیادہ نہیں۔ اسرائیل نے شام، فلسطین اور مصر کے دفاعی انفراسٹرکچر کا 70 سے 80 فی صد تباہ کردیا تھا جب کہ عرب ممالک کے مشترکہ حملے میں اسرائیلی دفاع کو دو سے پانچ فی صد ہی نقصان پہنچایا جاسکا۔ زخمیوں میں بھی اتنا بڑا تفاوت موجود ہے۔جنگ کے بعد سلامتی کونسل نے قرار داد نمبر 242 جاری کی، جس کے تحت سوڈان کے صدر مقام خرطوم میں تین ملکوں کی سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں مقبوضہ بیت المقدس، مغربی کنارے، شام کے القنیطرہ قصبے اور مصر کے نہر سویز کے شہریوں کو نقل مکانی کی اجازت دے دی گئی۔

اس کے نتیجے میں بیت المقدس اور مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کو قبضہ مضبوط بنانے کا جواز مل گیا۔مبصرین کے خیال میں سنہ 1967 کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ کے کئی دوسرے منفی پہلو بھی ہیں۔ ان میں سنہ 1991 میں عرب ملکوں نے اسرائیل کے ساتھ "امن کے بدلے زمین" کے اصول کے تحت صہیونی ریاست سے سفارتی تعلقات کا آغاز کیا۔ عرب ممالک کی اس پالیسی سے فلسطینیوں کی تحریک آزادی کو بے پناہ نقصان پہنچایا۔

مزید : عالمی منظر