شہد کی مکھیاں پرندوں اور ممالیہ جانوروں کی طرح دماغی نقشوں کی مدد سے گھر جانے کا راستہ تلاش کرتی ہیں , محققین

شہد کی مکھیاں پرندوں اور ممالیہ جانوروں کی طرح دماغی نقشوں کی مدد سے گھر ...

  



لندن (این این آئی) محققین نے اپنی رپورٹ نے کہا ہے کہ شہد کی مکھیاں پرندوں اور ممالیہ جانوروں کی طرح اپنے دماغی نقشوں کی مدد سے گھر جانے کا راستہ تلاش کرتی ہیں۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مکھیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سورج کی مدد سے راستہ تلاش کرتی ہیں تاہم سائنس دانوں میں دوسرے طریقوں کے استعمال پر اختلافات ہیں۔ محققین کی ایک ٹیم نے مکھیوں کے ایک گروپ کو بدحواس کر دیا جس کی وجہ سے وہ سورج کی پوزیشن کو سمجھ نہ سکیں۔

سائنس دانوں کے مطابق مکھیاں اپنے چھتے کی جانب اسی رفتار سے واپس آئیں جس رفتار سے راستہ نہ بھٹکنے والی مکھیاں آئیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اضافی دماغی نقشے استعمال کرتی ہیں۔یہ تحقیق سائنسی جریدے پی این اے ایس میں شائع ہوئی ۔ممالیہ جانور اپنے دماغ میں مسلسل شناسا جگہوں کے ’نقشے‘ بناتے ہیں اور ان کی مدد سے جگہوں کو شناخت کرتے ہیں۔برلن یونیورسٹی کے پروفیسر رینڈولف مینزل کے مطابق یہ بحث عام طور پر کی جاتی ہے کہ چھوٹے دماغ والے کیڑے ایسا کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ مکھیوں کے دماغ کی بناوٹ ممالیہ جانوروں کی طرح ذہنی نقشے بنانے والی نہیں ہوتی تاہم نئی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ شہد کی مکھیاں اِمتیازی نشانات کو پہچان لیتی ہیں اس سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ مکھیاں اپنی جگہ کا تعین کرنے کے لیے سورج پر زیادہ انحصار کرتی ہیں۔شہد کی مکھیاں دنیا کے ہر حصے میں پائی جاتی ہیں وہ روزانہ تقریباً دو ہزار بار پھولوں اور پھلوں کا رس حاصل کرنے جاتی ہیں اور خیال ہے کہ وہ پھولوں کے محل وقوق کا تعین کرنے کے دوران ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ بھی کرتی ہیں۔پروفیسر مینزل اور ان کے دیگر ساتھی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ شہد کی مکھیاں اپنے گھر جانے کا راستہ کیسے تلاش کرتی ہیں؟سائنس دانوں نے یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا مکھیاں اپنے گھروں کا راستے تلاش کرنے میں سورج کی مدد لیتی ہیں انھیں چھ گھنٹوں کے لیے بے ہوش کرنے والی دوا دی تاکہ ان کی حیاتیاتی گھڑی شفٹ ہو سکے اس کا مقصد مکھیوں کو سورج کی پوزیشن سمجھنے میں الجھانا تھا تاکہ وہ اپنے گھر واپس آنے کا راستہ بھول جائیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...