پنجابی فلموں کا کردار اور پاکستان میں تشدد

پنجابی فلموں کا کردار اور پاکستان میں تشدد
پنجابی فلموں کا کردار اور پاکستان میں تشدد

  



لاہور( شوبز ڈیسک) ےونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات کے دفتر سے جاری کےے جانے والے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق جی سی ےونیورسٹی لاہور کے شعبہ صحافت کے اسسٹنٹ پروفیسر محمد اقبال انجم کو ” پنجابی فلموں کا کردار اور پاکستان میں تشدد “ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری کردی گئی ہے ۔ ان کے مقالہ کے سپروائزر ڈاکٹر احسن اختر ناز تھے ۔

اس تحقیق کا ایک مقصد ےہ تھا کہ تشدد سے لبریزپنجابی فلمیںپاکستانی نوجوان نسل میں تشدد کے رحجانات پیدا کرتی ہیںےا نہیںاور ےہ کہ اگر نوجوان مختصر عرصہ ےا طویل عرصہ کیلئے ےہ فلمیں دیکھیں تو ان پر کیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تحقیق سے ےہ پتہ چلا کہ تشدد آمیز پنجابی فلمیں نوجوانوں کے روےے کو بری طرح سے متاثر کرتی ہیں۔ 1979ءمیں فلم مولاجٹ کی آمد نے پنجاب کی تحمل سے لبریز ثقافت کو تشدد آمیز ثقافت میں تبدیل کردےا۔ کےونکہ اس فلم نے پنجاب سے اُردو فلموں کی مارکیٹ کوتقریباً ختم کردےا۔تشدد سے لبریز پنجابی فلمیں لوگوں میں اسلئے مقبول ہوگئیں کہ وہ پاکستان کے جاگیردارانہ نظام میں مظلوم اور ماےوس طبقے کی نفسےاتی ضرورےات کو پورا کرتی تھیں اوربعد ازاں ےہی فارمولا فلمیں پنجاب کی فلم انڈسٹری کی تباہی کا سبب بنیں جوکبھی دنےا کی دس سب سے بڑی فلم انڈسٹریزمیں سے ایک تھی ۔

تحقیق میں ےہ بھی معلوم ہوا کہ ےہ پنجابی فلمیں نوجوان نسل میں جذباتی رحجانات ، جارحانہ روےے، بھڑکیلامزاج اور نفسےاتی بیماریاں مثلاً ذہنی بیماریوں کو فروغ دیتی ہیں ۔ تاہم یہ فلمیں خواہ کسی بھی چینل ،سینما یا کمپیوٹر پر دیکھی جائیں ان کے مجموعی اثرات نوجوانوں پر یکساں مرتب ہوتے ہیں ۔ محقق نے اپنے مقالہ میں گورنمنٹ کو تجاویز پیش کی ہیں کہ وہ فلم پروڈیوسر زکو سختی سے فلموں کے ضابطہ اخلاق کا پابند کرے اور اعلیٰ پائے کے محققین کو ملک میں پنجابی فلموں کے علاوہ دیگر عوامل جو نوجوان نسل میں متشدد رویوں کو فروغ دے رہے ہیں ¾اُن کے ادراک کی ذمہ داری سونپے تاکہ ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کے رجحانات پر قابو پاکر پاکستان کو ایک پر امن ملک بنایا جاسکے۔محقق نے حکومت کو یہ بھی تجویز دی ہے کہ سنسر بورڈ کے ذریعے ایسی تمام فلموں پر پابندی لگائی جائے جن میں ماورائے عدالت قتل کے مناظر دکھائے جارہے ہوں یا کسی بدنامِ زمانہ بدمعاش کو ہیرو کے طور پر پیش کیا جارہا ہو کیونکہ نوجوان ان ہیروز کو اپنا رول ماڈل تصور کرتے ہوئے عملی زندگی میں بھی اپنے مسائل کو اسی متشدد انداز میں حل کرنے کی کوشش کر تے ہیں جیسے فلم میں اُن کا ہیرو حل کرتا ہے ۔

محقق محمد اقبال انجم کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورانٹو ، کینیڈین کالج آف ایجوکیٹرز ، کینیڈین کالج آف کلچرل اینڈ لینگوئج سٹڈیز ، جی سی یونیورسٹی لاہور ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طالبعلم رہے ہیں ۔ پاکستان کے علاوہ وہ کینیڈا میں بھی مختلف کالجز میں تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔وہ مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ بھی منسلک رہے ہیں۔ وہ آج کل جی سی یونیورسٹی لاہور کے شعبہ صحافت میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں ۔

مزید : کلچر