نمل یونیورسٹی، حقائق یہ ہیں

نمل یونیورسٹی، حقائق یہ ہیں
نمل یونیورسٹی، حقائق یہ ہیں

  



گزشتہ دنوں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا یہ بیان سامنے آیا کہ حکومت پنجاب نمل (Namal) یونیورسٹی میانوالی کے معاملات میں رکاوٹیںکھڑی کررہی ہے-پنجاب حکومت پر عمران خان کے اس الزام کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے-حقیقت یہ ہے کہ میانوالی کے نواح میں نمل یونیورسٹی کے قیام کے لئے وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے بھرپور تعاون کیا ہے-عمران خان کی نمل یونیورسٹی کے ساتھ عملی تعاون کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر اس یونیورسٹی کے لئے سرکاری اراضی بھی فراہم کی گئی ہے-

عمران خان کے پنجاب حکومت پر نمل یونیورسٹی کے معاملات میں مداخلت کے حوالے سے الزامات حقائق کے برعکس ہیں- میانوالی کے نواحی علاقے نمل میں یونیورسٹی کے قیام کے سلسلے میں وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے کھلے دل کے ساتھ ہرنوعیت کا تعاون کیا ہے جس میں یونیورسٹی کے لئے سرکاری اراضی کی فراہمی بھی شامل ہے- حکومت نے نمل یونیورسٹی کے قیام کے لئے ایک ہزار ایکڑ زمین ایکوائر کی تھی جبکہ ایچی سن کالج کا رقبہ 200 ایکڑ، صادق پبلک سکول کا100 ایکڑ اور حسن ابدال کالج کا رقبہ 100 ایکڑ ہے- علاوہ ازیں نمل یونیورسٹی کے نزدیک ایک سرکاری کالج بھی ہے اور نمل یونیورسٹی کی انتظامیہ گذشتہ 3 سال سے مذکورہ کالج کے ہوسٹل کو اپنے طلباءکی رہائش کے لئے استعمال کر رہی ہے- مزید برآں صوبائی حکومت نے نمل یونیورسٹی کے اساتذہ کی رہائش کے لئے مذکورہ سرکاری کالج کی 12 رہائش گاہیں بھی مفت فراہم کی ہوئی ہیں- حکومت پنجاب صوبے میں اعلی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے سرکاری اور پرائیویٹ شعبے میں حکومت کے ساتھ اشتراک عمل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس سلسلے میں آئندہ بھی تعاون کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا-

عمران خان ایک بڑی سیاسی جماعت کے رہنما ہیں اور اس وقت ملک کے ا یک صوبے پر ان کی جماعت کی حکمرانی ہے-انہیں اس طرح کے معاملات کے متعلق رائے زنی کرتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اور حقائق کے خلاف گفتگو سے گریز کرنا چاہیے-انہیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر پنجاب حکومت نے نمل ( Namal) یونیورسٹی کے لئے 1000 ایکڑ اراضی ایکوائر کی-اسی طرح پنجاب حکومت نمل یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کو رہائش کے لئے بھی خاطر خواہ سہولتیں فراہم کررہی ہے اور اس یونیورسٹی کے طالب علم ایک سرکاری کالج کے ہاسٹل میں مقیم ہیں جبکہ پنجاب حکومت کی طرف سے نمل یونیورسٹی کے اساتذہ کو بھی مفت رہائش گاہیں فراہم کی گئی ہیں اور عمران خان نے خود بھی اس حوالے سے وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کیاتھا-

مذکورہ بالا حقائق کے تناظر میں عمران خان کے بیان کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی- اگر انہوں نے یہ بیان سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے دیا ہے تو انہیں اس میں نمل یونیورسٹی کو نہیں گھسیٹنا چاہیے تھا- پنجاب حکومت کی شعبہ تعلیم کے لئے خدمات اور کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے- وزیراعلی پنجاب نے صوبے میں جدید تعلیمی اصلاحات متعارف کرائی ہیں-طلبا و طالبات کو اعلی تعلیم کے حصول کے جتنے مواقع وزیراعلی شہباز شریف کی حکومت میں میسر ہیں اس سے قبل کبھی حاصل نہیں تھے-ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ، لیپ ٹاپ سکیم، سولر لیمپس سکیم ، دانش سکولز، ای لرننگ پروگرام، پنجاب سکول ریفارمز روڈ میپ ، پنجاب ایجوکیشن وآ¶چر سکیم، لٹریسی اور نان فارمل بیسک ایجوکیشن وزیراعلی پنجاب کے ویژن کے مطابق صوبے میں شروع کئے گئے ایسے منصوبے ہیںجن کا مقصد طلبا و طالبات کو سہولیات کی فراہمی کے ذریعے تعلیمی معیار میں اضافہ کرنا ہے- وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر نہ صرف پنجاب بلکہ دیگر صوبوں کے ٹاپ پوزیشن ہولڈر طلبا و طالبات کویورپی ممالک کی عالمی سطح کی حامل یونیورسٹیوں کے دورے پر بھجوایا جاتا ہے تاکہ ان طلبا و طالبات کا تعلیمی ویژن بلند ہوسکے-

پنجاب حکومت کے شعبہ تعلیم کی بہتری کے لئے ان انقلابی اقدامات کے سامنے عمران خان کے الزام کی اگرچہ کوئی حیثیت نہیں لیکن ایک سیاسی جماعت کے رہنما کی طرف سے اس طرح کی بے بنیاد الزام تراشی بہرحال قابل افسوس ہے-عمران خان کو سیاسی حریفوں کا مقابلہ سیاسی طور پر سیاسی میدان میں کرنا چاہیے -شعبہ تعلیم کو سیاسی پوائنٹ سکورننگ کے لئے استعمال کرنے سے عمران خان کی اپنی شخصیت داغدار ہوگی -پنجاب حکومت وزیراعلی محمد شہباز شریف کی قیادت میں تعلیمی انقلاب کی جس منزل کی طرف گامزن ہے عمران خان کے بیانات اس میں رکاوٹ نہیں بن سکتے لیکن قومی سطح کے ایک رہنما کو ایسی الزام تراشی زیب نہیں دیتی- عمران خان صاحب کو اس حوالے سے ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے-

مزید : کالم


loading...