شہباز شریف ملتان آ گئے

شہباز شریف ملتان آ گئے
شہباز شریف ملتان آ گئے

  



بدھ کی شام شعیب بن عزیز صاحب کا فون آیا کہ میں ملتان میں ہوں آپ کہاں ہیں؟ میں نے کہا گھر ہوں۔ اپنے مخصوص پنجابی لہجے میں کہنے لگے۔ ”کی گل اے ہر ویلے گھر ای وڑے رہندے او“ (کیا بات ہے ہر وقت گر ہی پڑے رہتے ہو) میں نے کہا آپ حکم کریں کہاں آنا ہے۔ گھر والوں نے میرا نام ای سی ایل میں نہیں ڈال رکھا کہ میں گھر سے نکل نہ سکوں، چند منٹوں کے بعد ہم ایک جگہ اکٹھے تھے۔ اُن کی ملتان آمد سے مجھے یقین ہو گیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی ملتان آ رہے ہیں کیونکہ شعیب بن عزیز صاحب وزیر اعلیٰ کے ہراول دستے کے سرخیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میں نے شعیب صاحب سے کہا کہ آج کل تو بہت سیر سپاٹا ہو رہا ہے۔ کبھی ترکی، کبھی چین اور کبھی برطانیہ، کہنے لگے آپ میاں شہباز شریف کو نہیں جانتے، ان کے ساتھ جا کر آدمی سیر سپاٹا نہیں کر سکتا۔ وہ اس قدر متحرک اور انتھک شخص ہیں کہ کام کے علاوہ اُنہیں کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ ان کے معمولات پر نظر رکھنے کے لئے حد درجہ توجہ اور کمٹ منٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ہم وزیر اعلیٰ کے ساتھ بیرون ملک جا کر سیر سپاٹا یا موسم انجوائے کرتے ہیں۔ تو یہ اس کی خوش فہمی ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ ابھی چونکہ وزیر اعلیٰ ملتان نہیں ہیں۔ اس لئے مجھے آپ سے ملنے کا وقت مل گیا ہے، کل سرکھجانے کی فرصت نہیں ہو گی۔ اس موقع پر شعیب بن عزیز نے ان پر خوبصورت شعر بھی سنایا:

ہم نیند کے شوقین زیادہ نہیں لیکن

کچھ خواب نہ دیکھیں تو گزارا نہیں ہوتا

وزیر اعلیٰ شہباز شریف ایک طویل عرصے کے بعد ملتان کے سرکاری دورے پر آئے۔ جیسے سینٹ والے وزیر اعظم محمد نوازشریف کی آمد کے ایک سال تک منتظر رہے اسی طرح اہل ملتان نے بھی وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا طویل انتظار کیا۔ ان کے سیاسی ُمعترضین یہ کہتے رہے کہ وزیر اعلیٰ لاہور سے نکل کر بیرون ملک تو آسانی کے ساتھ چلے جاتے ہیں مگرا نہیں جنوبی پنجاب کی طرف آنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ ملتان تو ویسے بھی لاہور کے بعد صوبے کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ جس کی سیاسی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔ پھر جنوبی پنجاب کا مرکزی شہر ہونے کی وجہ سے عوام یہ توقع کرتے ہیں کہ حکومت اس کی طرف توجہ دے گی لیکن جب وزیر اعلیٰ پجاب کئی کئی ماہ تک اس خطے اور شہر کا رخ نہیں کرتے تو یہ کہا جاتاہے کہ وہ پنجاب کے نہیں بلکہ صرف لاہور کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ شاید یہ اسی تاثر کا اثر ہے کہ وزیر اعلیٰ کی ملتان آمد پر مسلم لیگی رہنماﺅں نے جو بیانات دیئے یا اشتہارات چھپوائے ان میں بطورِ خاص اس بات کا ذکر کیا کہ وزیر اعلیٰ نے ملتان کا دورہ کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انہیں ملتان کے عوام سے کتنی محبت ہے۔ میری وزیر اعلیٰ تک رسائی ہو تو میں انہیں مشورہ دوں کہ وہ ہر ماہ کم از کم ایک ہفتے اپنا تختِ اقتدار ملتان میں بچھائیں۔ یہیں بیٹھ کر فیصلے کریں اور یہیں سے امور حکومت چلائیں۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ان کی مقبولیت کو چار چاند لگ جائیں گے اور جو حلقے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے لاہور کو ہی پنجاب سمجھ رکھا ہے، ان کی زبانیں بھی بند ہو جائیں گی۔

وزیر اعلیٰ شہباز شریف ملتان میں میٹرو بس منصوبے کا روٹ دیکھنے آئے تھے۔ یہ وہ منصوبہ ہے جو لاہور میں شروع ہوا تو اس پر یہ اعتراض کیا گیا کہ ہر بڑا منصوبہ لاہور ہی کو کیوں دیا جاتا ہے۔ اس تصور کو غلط ثابت کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے پہلے راولپنڈی میں میٹرو بس منصوبہ شروع کیا اور اب ملتان میں اس کا آغاز کرنے جا رہے ہیں ملتان گزشتہ چھ برسوں سے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی نظر کرم کا منتظر ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی جب وزیر اعظم تھے تو وزیر اعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے شہباز شریف نے ملتان سے لاتعلقی کا رویہ رکھا۔ کیونکہ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی یہ چاہتے تھے کہ ملتان کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے انہوں نے جو منصوبے شروع کر رکھے ہیں وہ انہی کے حوالے سے پایہ تکمیل کو پہنچیں۔

 وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی یہ ایک طرح سے سیاسی مفاہمت تھی کہ انہوں نے خود کو ملتان سے دور رکھا اور بعد ازاں انہیں 11 مئی کے انتخابات میں اس کی قیمت بھی چکانی پڑی جب شہر سے قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی ایک نشست پاکستان تحریک انصاف جیت گئی۔ اس کے بعد ایک دوسرا منظر نامہ شروع ہوتا ہے۔ ملتان شہر سے جیتنے والے مخدوم جاوید ہاشمی اور مخدوم شاہ محمود قریشی بالترتیب تحریک انصاف کے صدر اور وائس چیئرمین ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف جان بوجھ کر ملتان کو نظر انداز کر رہے ہیں تاکہ ملتان کے ووٹرز کو سزا دی جا سکے۔ لیکن جب سے وزیر اعلیٰ نے ملتان کو میٹرو بس کا منصوبہ دیا ہے۔ اب بات ملتان کی بجائے ان دو حلقوں کی ہونے لگی ہے جہاں سے مخدوم جاوید ہاشمی اور غلام شاہ محمود قریشی جیتے ہیں تاہم یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ میٹرو بس کا منصوبہ انہی دو حلقوں سے گزرتا ہے اور ملتان میں جس نوازشریف انجینئرنگ یونیورسٹی کا آغاز ہوا ہے وہ بھی شاہ محمود قریشی کے حلقے میں موجود ہے۔

بجٹ پر اتنا اعتراض نہیں کیا جاتا، جتنا یہاں کے حلقے اس بات پر کرتے ہیں کہ صوبائی بجٹ میں جنوبی پنجاب کو آبادی کے تناسب سے حصہ نہیں دیا جاتا۔ لوگ ترقی کا موازنہ لاہور یا راجن پور کے درمیان نہیں کرتے بلکہ لاہور اور ملتان کے درمیان کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے ملتان جنوبی پنجاب کا دل ہے یہ ترقی کرے گا تو پورے جنوبی پنجاب میں ترقی ہو گی وزیر اعلیٰ اگر یہاں کے لوگوں کو ترسا ترسا کر ملتان آئیں گے تو اس کے سیاسی اثرات منفی ہی نکلیں گے۔ اگر وہ ملتان کو لاہور کی طرح ترقی یافتہ شہر بنانے کے لئے اپنا وقت، توجہ اور صوبے کے وسائل مختص کریں گے تو ان کے اقتدار کا تخت مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہیں ذوالفقار علی بھٹو ملتان کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ انہوں نے بطور وزیر اعظم ملتان کے سب سے زیادہ دورے کئے۔ حتیٰ کہ انہوں نے ملتان سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ بھی کیا۔ ملتان کی مسلمہ سیاسی حیثیت کی وجہ سے کوئی بھی اسے نظر انداز نہیں کر سکتا۔ مسلم لیگ (ن) کو تو اب اسے بالکل بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی آمد سے سیاسی میدان میں تبدیلیوں کے آثار نمایاں ہیں۔ لاہور میں بھی تحریک انصاف کا اثر و نفوذ بڑھ رہا ہے۔ ملتان پر وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو اس لئے بھی توجہ دینی چاہئے کہ یہاں تحریک انصاف اپنا ووٹ بنک بنا چکی ہے۔ آنے والے ادوار میں پنجاب کے اندر سیاست مختلف انداز سے ہو گی عوام کا بڑھتا ہوا سیاسی شعور اس میں کلیدی کردار ادا کرے گا، صرف لاہور کی بنیاد پر سیاست اب شاید نہ ہو سکے۔ بلکہ اُلٹا یہ صورتِ حال سیاسی طور پر نقصان دے سکتی ہے۔

وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اپنے اس دورے میں ڈیرہ غازیخان میں قائم ہونے والے غازی میڈیکل کالج کا افتتاح بھی کیا۔ جو کام ڈی جی خان سے صدر مملکت وزیر اعظم گورنر اور وزیر بننے والے نہ کر سکے، وہ شہباز شریف نے کر دیا ہے۔ اب ملتان تا کراچی موٹر وے کا منصوبہ بھی جلد شروع ہو رہا ہے۔ گویا ترقی کے ثمرات پہنچ رہے ہیں تاہم احساس محرومی اس لئے موجود ہے کہ پنجاب کی حکمرانی میں جنوبی پنجاب کے عوام کو شریک نہیں کیا جاتا، یہ کام وزیر اعلیٰ شہباز شریف بڑی آسانی سے کر سکتے ہیں۔ اگر وہ طویل وقفوں کی بجائے تھوڑی تھوڑی مدت کے بعد ملتان اور جنوبی پنجاب کا دوہ کرتے رہیں تو یہاں کی زنگ آلود انتظامی مشینری بھی رواں ہو جائے گی اور عوام کو یہ بھی نہیں لگے گا کہ انہیں تخت لاہور پر بیٹھے حکمرانوں نے بے یارو مدد گار چھوڑ رکھا ہے۔

مزید : کالم


loading...