غیر یقینی حالات

غیر یقینی حالات
غیر یقینی حالات

  



پاکستان میں انتخابات کو ہوئے ابھی ایک سال ہی مکمل ہوا ہے۔ حکومتیں اپنی اپنی جگہ کام کر رہی ہیں۔ ملک میں آج بھی اطمینان بخش صورت حال اس لئے نہیں ہے کہ سیاست اور معیشت اور عام لوگوں کی بنیادی ضروریات کے درمیان کوئی توازن نہیں ہے۔ ملک بھر میں عام لوگ پینے کے پانی اور بجلی جیسی اہم ترین ضرورت پوری کرنے کے لئے پریشان ہیں ۔ ایسی ناہموار صورت حال میں سیاست گرم ہے۔ ایک جانب بعض پاکستانی سیاست دان لندن میں ملاقاتیں کر کے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ جیسے موجودہ حکومت کے خلاف کسی تحریک کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور ایک سالہ حکومت کو پیک اپ کرنے کا نوٹس دیا جانا ہے۔ دوسری طرف متحدہ قومی موومنٹ کے قائد کی لندن میں گرفتاری نے سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ایم کیو ایم جو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاوہ سندھ کے کئی شہروں کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر شہروں میں بھی احتجاج منظم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ کراچی حیدرآباد و دیگر شہروں میں معمولات زندگی دو روز معطل رہنے کے بعد جمعرات سے دوبارہ بحال ہوئے ہیں۔ رابطہ کمیٹی نے محسوس کیا کہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کے لئے مسائل پیدا ہورے ہیں ۔ اس لئے کاروبار بحال کرنے کی اپیل کی گئی۔ کراچی سمیت صوبے کے کئی شہروں میں منگل کی شام سے شروع ہونے والے دھرنے جاری ہیں اور کارکن اور ہمدرد دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ وہ اپنے قائد کی آواز سن کر ہی دھرنا ختم کریں گے۔ ان کے اس مطالبے کا اثر برطانوی حکومت پر کتنا پڑتا ہے یا نہیں اور برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ یارڈ اور لندن میٹرو پولیٹن پولیس پاکستان میں دھرنے پر بیٹھے ہوئے لوگوں کے مطالبے کا کس طرح خیر مقدم کرتی ہے اس پر کوئی رائے زنی نہیں کی جاسکتی۔

ایم کیو ایم کی مقبولیت اور طاقت سے خائف عناصر الطاف حسین کی حراست کو اپنے اپنے رنگ میں پیش کر رہے ہیں، لیکن ایم کیو ایم کے حامی اور ہمدرد اس سارے کھیل کو ایک ایسی سازش قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد ایم کیو ایم کو کمزور کرنا ہے ،جس کے لئے ان کے خیال میں یہ راستہ اختیار کیا گیا کہ اس کے قائد کو جلد نہ سلجھنے والے مقدمات میں الجھا دیا جائے۔ لندن میں کئے جانے والے اقدامات کا پاکستان کی سیاست پر گہرا اثر پڑنا، اس لئے لازم ہے کہ ایم کیو ایم کی مقبولیت اور طاقت ان دھرنوں کی صورت میں بھی سا منے آئی ہے۔ کراچی جیسا شہر مکمل مفلوج رہا ۔ حیدرآباد مفلوج تھا۔ اندرون سندھ کے کئی شہر اگر مفلوج نہیں تو بیک وقت متاثر ضرور تھے۔ ایم کیو ایم کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنے والے سیاست دانوں کے ایک گروہ کی رائے ہے کہ اس ساری صورت حال سے اسکاٹ لینڈ یارڈ کیوں کر متاثر ہوگا۔ اسکاٹ لینڈ متاثرہو یا نہیں، لیکن پاکستان ، اس کی سیاست اور معیشت تو ہر حال میں متاثر ہوں گے۔

سیاست کو بے رحم کھیل کا نام بھی دیا جاتا ہے۔سیاست کے اس کھیل میں دنیا کے اہم ممالک کے ساتھ ساتھ ملکوں کے اپنے سیاست دانوں کو بھی ایک کردار ہوتا ہے۔ ابھی عرب اسپرنگ کی اصطلاح زیادہ پرانی نہیں ہوئی ہے۔ دیکھتے دیکھتے کئی ممالک میں ایک ہی وقت میں جس انداز سے تبدیلی آئی اس کے نتیجے میں استحکام دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔ کسی بھی ملک کے لئے اگر سیاست اہم ہے تو معیشت اس سے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ مضبوط معیشت ملک کو کئی مشکلات کا سامنا کرنے کے لئے تیار کرتی ہے اور مضبوط معیشت کے لئے ملک کے اندر سیاسی استحکام لازمی قرار پاتا ہے۔ سیاست کے اس بے رحم کھیل میں اس بات سے کسی غیر ملکی کو کوئی سروکار نہیں کہ پاکستان کی معیشت کس قدر مستحکم ہے یا کتنی کمزور ہے۔ ان کے اپنے عزائم اور منصوبے ہوتے ہیں جن کے ہدف حاصل کرنا، ان کا اہم ترین ہدف ہوتا ہے۔

پاکستانی سیاست دانوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ سیاست میں شطرنج کی چال چلنے میں چابک دستی کا مظاہرہ کرنے اور شطرنج کا مہرا ہونے کے درمیاں فرق ہوتا ہے۔ شطر نج کی بساط سمیٹ دی جائے تو دوبارہ سجائی جاسکتی ہے، لیکن سیاست کی بساط اگر ایک بار سمیٹ دی جائے تو دوبارہ بچھانے میں پے در پے مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ انتخابات ہو چکے ہیں۔ جو کچھ بھی ہوا ، اس کے بعد حکومتیں قائم ہو چکی ہیں۔ انتخابات میں دھاندلی کی شکایات کا وقت بھی شکایات کرنے والوں کے ہاتھوں سے اس لئے نکل گیا ہے کہ انہوں نے خود بھی حکومتیں بنالی ہیں اور منتخب ایوانوں کی رکنیت کا حلف بھی اٹھا لیا ہے۔ اس لئے اب تو حکومتیں ختم کرنے یا درمیانی مدت کے انتخابات کے لئے مہم جوئی کی بجائے ملک میں انتخابی اصلاحات اور دھاندلیوں سے پاک انتخابات کی داغ بیل ڈالنے کے لئے کوئی عملی کام کیا جائے، تاکہ آئندہ صاف اور شفاف انتخابات کے بارے میں شکوک پیدا نہ ہو سکیں۔ حکومتوں کو بھی اپنے طرز حکمرانی پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے ۔ ان کی طرز حکمرانی بھی سیاست دانوں کو یہ موقع فراہم کرنے کی وجہ بنی ہے جو حکومتوں کے خلاف محاذ آرائی پر تلے ہوئے ہیں۔

  غیر یقینی حالات معیشت کے لئے زہر قاتل سے کم نہیں ہوتے۔ کوئی بھی حکومت آئے یا جائے، پاکستان میں طرز حکمرانی بہتر کرنا ان سیاسی جماعتوں کے بس کی بات اس لئے نہیں ہے کہ وہ خود ایک ایسی کارپوریٹ سیاست میں الجھ گئی ہیں جس سے فوری چھٹکارا ممکن نہیں ہے۔ اس چھٹکارے کے لئے ملک میں موجود تمام اداروں کے درمیان اعتماد سازی کی سخت ضرورت ہے۔ اعتماد کا بحران گہرا ہوتا جارہا ہے اور خلیج بڑھ رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں بھی اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں عملا یہ باور کرانے کی بھی ضرورت ہے کہ وہ صرف نعرے لگانے کے لئے نہیں ہیں، بلکہ انہیں بھی ملک کی تقدیر بدلنے دینے والے فیصلوں میں شرکت کا بھر پور موقع مل سکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین اور عوام کے درمیان اگر کوئی پل کا کام سر انجام دیتا ہے تو وہ یہی کارکن ہوتے ہیں جو اپنی جماعت کی قیادت کا پیغام آگے بڑھاتے ہیں۔ اگر ان کارکنوں کی باقاعدہ تربیت نہ کی جائے اور اعتماد میں نہ لیا جائے تو وہ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہتے ہیں جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لئے کسی طور پر بہتر نہیں ہوتا ہے۔

مزید : کالم


loading...