پرنٹ میڈیا....شعبہ رپورٹنگ زوال پذیر

پرنٹ میڈیا....شعبہ رپورٹنگ زوال پذیر
پرنٹ میڈیا....شعبہ رپورٹنگ زوال پذیر

  



اپنے اس کالم کا عنوان پہلے مَیں برادرم رحمت علی رازی کی تفتیشی رپورٹنگ کے ماہر کی حیثیت سے کافی زیادہ انعامات حاصل کرنے کے حوالے سے رکھنا چاہتا تھا، لیکن پھر ان کی ناراضگی کے ڈر سے عنوان بدل دیا۔ویسے بھی کالم کا عنوان بدلنے میں ماشاءاللہ ہمارے اپنے ایڈیٹر بھی خاصی اچھی شہرت کے حامل ہیں۔کافی دنوں سے چینلوں پر اور اخبارات میں 25برس عمر کی خاتون فرزانہ کے قتل کی کہانی کو کافی ہوا دی جارہی ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے داخلی دروازے پر پتھروں اور اینٹوں سے دو ہفتے قبل اس خاتون کو، جو کہ حاملہ بھی تھی،پیٹ میں اپنے بچے سمیت بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔پاکستان بھر کی جو بدنامی غیر ممالک میں ہوئی، اس کی انتہا یہ ہے کہ برطانوی وزارت خارجہ اور امریکی وزارت خارجہ دونوں ممالک کے ترجمانوں نے بھی اس قتل پر تبصرے کئے ہیں اور اپنی اپنی معلومات کے مطابق اس ظالمانہ واردات پر بے حد تنقید کی ہے، بلکہ ایک تبصرے میں تو یہ بھی بتایا گیا کہ اس خاتون کی بڑی بہن کو جو کہ اولاد والی تھی اور جس کی شادی اس کے گھر والوں نے خود کرائی تھی، اسے بھی گھر بلا کر محض اس لئے زہر دے دیا گیا کہ وہ اپنے شوہر سے والدین کے تقاضوں کے باوجود طلاق نہیں لینا چاہتی تھی اور اس ضمن میں کوئی مقدمہ شروع کرنے سے انکاری تھی۔دنیا کے بڑے اخبارات ”گارڈین۔وال سٹریٹ جرنل۔ نیویارک ٹائمز“ سب نے اس قتل کے محرکات ، تفصیلات اور پس منظر پر لکھا اور اپنے اپنے تجزیے بھی شائع کئے ہیں، تاہم اگر کوئی واضح تفصیل شائع نہیں کی جا سکی تو وہ صرف ہمارے پرنٹ میڈیا میں شائع نہیں کی جا سکی۔

حقیقت یہ ہے کہ 2002ءسے، جب یہاں ٹی وی چینلوں کو اجازت ملی، ہمارے پرنٹ میڈیا کا رپورٹنگ کا شعبہ تقریباً تقریباً تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔آپ کسی بھی چھوٹے بڑے اخبار کا ”سیلری“ رجسٹر منگوا کر دیکھیں، اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ درجنوں کے حساب سے پرنٹ میڈیا میں کام کرنے والے رپورٹر حضرات چینلوں میں بھرتی ہو کر چلے گئے۔کام تو وہ پرنٹ میڈیا میں اخبارات کے دفاتر سے سیکھتے ہیں اور نمک کا حق کہیں اور جا کر ادا کرتے ہیں۔آج برادرم ریاض بٹالوی کی بھی یاد آ رہی ہے۔وہ اگر زندہ ہوتے تو اس وقوعہ کی ایک ایک تفصیل پورے صفحہ پر مع تصاویر سب کے سامنے آ چکی ہوتی۔یہ کون سا خاندان ہے، اس کا خاندانی پس منظر کیا ہے،تعلیم کتنی ہے، بھائی کتنے ہیں، باپ کی بیٹیاں کتنی ہیں اور ان کی تعلیم کیا ہے،ماری جانے والی خاتون فرزانہ کہاں تک تعلیم یافتہ تھی،آیا اس کی پہلے شادی ہوئی تھی،اگر ہوئی تھی تو اس خاندان اور اس کے شوہر کی کہانی کیا ہے،نکاح نامہ کہاں ہے، گواہوں کے نام اور پتے مع شناختی کارڈ نمبر کیا ہیں؟ کیونکہ یہ وہ تمام کوائف ہیں، جو کسی بھی نکاح نامے کے صحیح ہونے کے لئے ضروری ہیں۔نکاح کس نے پڑھایا، کہاں اس نکاح کا اندراج ہوا، کیا نکاح رجسٹرار کے پاس اجازت نامہ ہے یا نہیں؟

اسی طرح فرزانہ کے موجودہ شوہر اقبال کے خاندان کی تفصیل بھی سامنے آتی۔اقبال کیا کرتا ہے؟ بھائی بہنوں کی تفصیل کیا ہے، باپ کیا کرتا ہے؟غرض اخبارات کے دفاتر میں انٹرنیٹ سے ذرا ہٹ کر ہمارے رپورٹر حضرات اگر تھوڑی سی محنت کرنے فیلڈ میں چلے جاتے تو یہ کسی بھی نکمے ترین رپورٹر کے بھی بائیں ہاتھ کا کھیل تھا کہ وہ ساری کی ساری معلومات حاصل کرلیتا اور فیچر نہ سہی، جگہ کی قلت کی وجہ سے پورا صفحہ نہ سہی، کم از کم ضروری معلومات کی حد تک تو کوریج کی جا سکتی تھی، لیکن خدا غارت کرے اس انٹرنیٹ کو جو اصل میں تو سہولت ہے، لیکن ہمارے رپورٹنگ کے شعبے کا اس نے سرے سے بیڑہ ہی غرق کردیا ہے۔کسی رپورٹر نے ان مقدمات کی ابتدائی رپورٹس بھی شائع کرنا مناسب نہیں سمجھا، جو اب تک فرزانہ کے خاندان نے اقبال کے خلاف درج کرائے یا اقبال کے یعنی اس کے موجودہ شوہر نے فرزانہ کے بھائیوں اور باپ کے خلاف درج کرائے ،نہ ہی ان مقدمات کی تفصیل سامنے آئی ہے جو اس قتل سے قبل فرزانہ کی بڑی بہن کو زہر دینے کے وقوعہ کے سلسلے میں درج ہیں۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہمارے کسی ”نگینے رپورٹر“ نے سرے سے اس مقدمے کی تفصیل میں جانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی، حالانکہ یہ تفصیلات ”گارڈین“ اور ”واشنگٹن پوسٹ“ جیسے اخبارات میں بھی شائع ہو چکی ہیں اور بہت سے ممالک کی وزارت خارجہ نے بھی ان کا تذکرہ اپنی عام روزانہ ہونے والی بریفنگ میں کیا ہے۔ہمارے یہ انٹرنیٹ کے رسیا رپورٹر حضرات جن کی ڈگریاں یقینا اب ان کا منہ چڑا رہی ہوں گی، اتنا بھی نہیں کیا کہ انٹرنیٹ سے ہی یہ معلومات حاصل کرکے اپنے اپنے اخبارات کو دے دیتے۔

برادرم رحمت علی رازی نے ایسے ہی واقعات کو تفصیل سے اور مکمل تفتیش کے بعد شائع کرنے میں جو مہارت حاصل کی تھی، اس میں جہاں ان کی قومی خدمات کا اعتراف حکومت پاکستان نے کیا، وہاں اخبارات کے مالکان کی سوسائٹی(اے پی این ایس) نے بھی انہیں متعدد مرتبہ انعامات سے نوازا، لیکن لگتا یہ ہے کہ وہ بھی اب اپنا کام محض پی آئی او اور صوبوں کے ڈی جی پی آرز کے سپرد کرکے صحافت کے اصل کام سے دستبردار ہو چکے ہیں، غالباً ان کی کوشش اور توجہ محض اس پر صرف ہو رہی ہے کہ برادرم طاہر جمیل کا بھانجا ان کے کس کام آ سکتا ہے اور کس طرح سے وہ اپنے اخبار کی سرکولیشن کو دریائے سندھ کی لہروں سے بھی اونچا ”دِکھا“ سکتے ہیں۔ورنہ فرزانہ کا واقعہ ایسا ہے کہ اس پر ہمارے سارے پرنٹ میڈیا کو ہر لحاظ سے اپنی اپنی تفتیش کرکے کوریج کرنی چاہیے تھی۔بڑی بڑی خبروں کے لئے تو اب پرنٹ میڈیا کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ابھی گزشتہ روز جب وفاقی وزیر اطلاعات نے اخبار فروش انجمنوں کے نمائندوں کے ذریعے لاہور کے اخبارات کی سرکولیشن کی اصل کہانی دریافت کی تو بتانے والوں نے جو بتایا ،اس سے تو میری سٹی ہی گم ہوگئی۔حد یہ کہ انہوں نے فیصل موورز اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ سے بھی متعدد مقامات پر بنڈلوں سے ارسال کردہ اخبارات کی جو تفصیلات حاصل کیں، اس کا علم شائد لاہور کے پی آئی ڈی انچارج کو ہے، کیونکہ اس طرح کی تمام کہانیاں ان دفاتر میں گلگت سے پشاور اور پھر کراچی تک تیار کی جا رہی ہیں۔

پرنٹ میڈیا میں رپورٹنگ وہ واحد شعبہ ہے جو اخبار کی ریڑھ کی ہڈی کے مترادف ہے۔خود اس خادم نے بھی بطور رپورٹر ہی 1965-66ءمیں روزنامہ ”کوہستان“ سے صحافت کا آغاز کیا تھا۔ان دنوں وکالت کا امتحان پاس کر کے مَیں ایک سینئر وکیل سے کام سیکھ رہا تھا کہ مرحوم ملک خدا بخش بچہ نے جو مغربی پاکستان کنونشن مسلم لیگ کے صدر تھے، مجھے بلوا کرپہلے کنونشن مسلم لیگ کے دفتر میں تعلقات عامہ کے شعبے کا سربراہ بنایا۔اس وقت اس شعبے میں غلام حیدر وائیں مرحوم بھی کام کرتے تھے۔اس کے بعد روزنامہ ”کوہستان“ جسے کنونشن مسلم لیگ نے نسیم حجازی سے خرید لیا تھا، اس کے لاہور آفس میں رپورٹر تعینات کردیا۔وہاں غالباً ان دنوں مرحوم سید سلطان عارف اور مرحوم سعادت خیالی کے درمیان ”چیف رپورٹر“ کے عہدے کا جھگڑا چل رہا تھا۔مجھے اس وقت کے ایڈیٹر جناب عالی رضوی نے مرحوم عبدالوحید خان کے سپرد کیا۔انہوںنے اپنی عینک کے نیچے سے جھانک کر مجھے بیٹھنے کے لئے کہا۔ ایک چھوٹی سی ڈائری تحفہ دی اور ایک قلم دے کر لکھنے کو کہا کہ آج سے آپ کے ذمہ تعلیمی اداروں کی کوریج ہے۔آپ پنجاب یونیورسٹی اور انجینئرنگ یونیورسٹی (UET)سے شروع کریں، پھر یہ دائرہ گورنمنٹ کالج، ایف سی کالج، اسلامیہ کالج، ایم اے او کالج، کنگ ایڈورڈ کالج تک پھیلا دیں۔کون کون وائس چانسلر ہے، پرنسپل ہے، ان کے اہم افسران کون کون ہیں۔کون کون سی وہاں طلباءکی سوسائٹیاں ہیں۔ان کی تقریبات کی تفصیلات، پوسٹنگ، ٹرانسفر، داخلوں کی کیفیت، غرض آدھے گھنٹے کی اس بریفنگ میں انہوں نے تعلیمی اداروں کی ”ایچی بیچی“ سب گنوا دی، جسے اکٹھا کرنے اور کوائف جمع کرنے میں کئی ہفتے لگ گئے ۔اسی طرح تعلیم کے شعبے کا بجٹ، مغربی پاکستان کے کالجوں، یونیورسٹیوں کے بجٹ کی تفصیلات،سرکاری ہائی سکولوں کی تعداد، پرائمری سکولوں کی تعداد، ان کی عمارتوں کی، جو ابھی تعمیر ہونا ہیں، پانچ برس کی تفصیل، پرائیویٹ اداروں ایچی سن، سینٹ اینھونی اور چرچ کے مسلک والے تعلیمی اداروں کے علاوہ ٹرسٹ کے سکولوں کی تفصیلات جمع کرنے کا کام بھی سونپا گیا۔

جناب عبدالوحید خان سے ایک ہی ملاقات میں جو بریفنگ اس رپورٹر کو ملی، شاید ہی کوئی رپورٹر آج یہاں پرنٹ میڈیا میں اپنی کسی ”بیٹ“ کے بارے میں اپنے ایڈیٹر سے حاصل کرسکے۔ یہی حال تب ہوا، جب کورٹس رپورٹنگ کی ڈیوٹی لگی۔آنے والے پورے ہفتے کے تمام اہم مقدمات کی خبریں،جو سپریم کورٹ میں یا ہائی کورٹ لاہور میں زیر سماعت آنے والے ہوتے، ان کی تفصیلات پہلے ہی شائع کردی جاتیں، پھر سماعت کی روداد بھی شائع کی جاتی۔یاد رہے کہ ساٹھ کی دہائی میں سپریم کورٹ کا صدر دفتر بھی لاہور میں ہی تھا جو غالباً 1970ءکے بعد راولپنڈی اور پھر اسلام آباد میں منتقل کیا گیا۔اس سے ملتی جلتی کہانی سیاسی رپورٹنگ کی تھی۔ایڈیٹر کی اس ضمن میں ایک ہی بریفنگ کافی تھی کہ سیاسی پارٹیاں کتنی ہیں؟صدر دفاتر اور ذیلی دفاتر کہاں کہاں ہیں؟تنظیم کا نقشہ، نام ، ٹیلی فون نمبر (اس زمانے میں موبائل نہیں تھے اور فون کی کال بھی دوسرے شہروں میں کال بک کروا کر ملائی جاتی تھی)۔ سیاسی جماعتوں کے منشور، ان کے اندرونی الیکشنوں کی تفصیلات اور تاریخ،آنے والے جلسوں، یعنی متوقع جلسوں جلوسوں کی پیشگی تفصیلات، ہر ضلع میں ان کی مقبولیت کا گراف (جو کہ اخبارات کے نمائندوں سے حاصل کرنا تھی اور وہ بھی مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے تمام اضلاع کو سامنے رکھ کر جو تقریباً اس وقت ایک سو کے قریب تھے۔

وہاں کے تمام ڈپٹی کمشنروں اور پولیس کپتانوں کے نام اور نمبر، تاکہ کسی بھی وقوعہ کے وقت انہیں فون کرکے معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔یہ سب ان معاملات کے علاوہ تھا جو روزمرہ کی پریس کانفرنس، پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کی کوریج یا متعدد زعماء کے انٹرویو وغیرہ سے کوریج کی جاتی تھی۔اب آپ خود فیصلہ کریں کہ وسائل کم ہونے کے باوجود یہ حالت تھی اور آج تو ہمارے قابل رپورٹر حضرات اور خواتین کمپیوٹر کی مدد سے اور انٹرنیٹ، ای میل کے ذریعے پوری دنیا سے رابطے میں ہیں، لہٰذا کسی ایک شہر، ضلع، ڈویژن یا صوبے کی تو بات ہی الگ ہے، ایسے میں بے چاری فرزانہ کی کہانی رہ گئی ہے تو شاید کسی جیالے قسم کے رپورٹر کو کبھی جوش آ جائے اور وہ اس کام میں اپنی محنت سے نام کما جائے.... ”اللہ کرے زور قلم اور زیادہ“.... آمین....امید ہے کہ فرزانہ نہیں تو اب راولپنڈی میں اپنے دو بچوں کو گولی مار کر خود کو پھندا لگانے والی خاتون کے بارے میں ضرور اپنی رپورٹنگ کا جال پھیلائیں گے اور اپنے قارئین کو بتائیں گے کہ اس کا خاوند کیا کرتا ہے۔اس کی دوسری بیوی کا نکاح کب، کہاں کیسے ہوا؟ یہ بچے کہاں پڑھتے تھے،اساتذہ کے تاثرات کیا ہیں، مرنے والی کی سہیلیوں کے تاثرات، محلہ داروں کے تاثرات، مرنے والی کے والدین سے بات چیت کی تفصیل، صرف پولیس والوں کے بیانات پر رپورٹنگ مبنی نہیں ہوگی، بلکہ صحیح تصویر سامنے لائیں گے؟

مزید : کالم


loading...