منصورملک کی یاد میں

منصورملک کی یاد میں
منصورملک کی یاد میں

  



ایک وکیل دوست تھے، منصور ملک ان کا نام تھا، کورٹس رپورٹنگ اور پھر اس کے بعد گزشتہ چند سالوں سے مجموعی طور پر رپورٹنگ سے الگ ہو کر شعبہ تحریر سے وابستگی کے باعث باہر کی آمدورفت میں بہت کمی آ گئی اسی لئے اکثر تقاریب میں بھی جانا نہیں ہوتا، دوستوں اور ملنے والوں کی شکائت سر آنکھوں پر فیلڈ میں بہت زیادہ مصروف وقت گزار لیا اب تو یہی جی چاہتا ہے کہ معمول کا کام پورا ہو اور گھر جا کر آرام کریں یا پھر کوئی کتاب پڑھ لیں، اکثر تو یہ بھی نہیں ہو پاتا کہ ٹی وی پر کوئی بہتر پروگرام یا اچھا کرکٹ میچ ہو تو کتاب بھی دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔مراد یہ کہ سرگرمیوں کو محدود کر لینے سے بعض اوقات اچھے دوستوں کی بھی اچھی یا بری خبر نہیں ملتی، البتہ ایک جو نئی دلچسپی ہے وہ سیر صبح کی محفل سے ہے، جب محلے دار حضرات آدھ پون گھنٹے کے لئے مل بیٹھتے ہیں تو دنیا جہاں کی گفتگو کر لیتے ہیں۔ہمارے محترم پروفیسر گل صاحب بھی جب جی چاہے تشریف لے آتے ہیں، خالص لاہوری ہونے کے سبب پرانے لاہور کی پرانی باتیں بھی ہو جاتی ہیں۔ایک روز اچانک سوال کر بیٹھے، آپ منصور ملک ایڈووکیٹ کو جانتے ہیں، جواب دیا، جانتا ہی نہیں، وہ تو بہترین دوست اور ان جیالوں میں سے تھے جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو سیاسی جماعت بنانے کے لئے انگیخت کیا تھا، گل صاحب نے بتایا کہ منصور ملک سے ان کی عزیز داری ہو گئی ہے اور ان (گل) کے صاحبزادے کی منصور ملک کی نواسی کے ساتھ نسبت طے پا گئی ہے۔وہ تفصیل بتا رہے تھے کہ جب تقریب کے لئے بیٹھے تو ان کی سمدھن نے ہی بتایا کہ وہ منصور ملک کی صاحبزادی ہیں، قدرتی طور پر ہم نے سوال کیا کہ خود منصور ملک ملے تھے تو جواب صدمے والا تھا، بولے! ان کے انتقال کو تو دو تین سال ہو چکے ہیں، بہت افسوس ہوا کہ ایک ایسے شخص کی وفات کا علم نہ ہو سکا جس کے ساتھ بہت اچھے اور خوشگوار تعلقات رہے۔

منصور ملک سے ہمارا تعارف تو ضلع کچہری میں ہوا وہ رفیق احمد باجوہ، محمد لطیف راں، قیصر مصطفےٰ، ملک اسلم حیات، خاقان بابر اور چودھری برکت علی سلیمی وغیرہ کے ہم عصر تھے اور متحرک وکلاءمیں سے تھے، حتیٰ کہ انہوں نے ڈسٹرکٹ بار کے صدارتی انتخاب میں بھی کامیابی حاصل کی۔جب وہ صدر بنے تو ہم نے تجویز دی اور انہوں نے صاد کیا اور پھر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ عشائیہ کا سلسلہ شروع ہوا۔منصور ملک بار کی تحریکوں اور سرگرمیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہے، انہوں نے ساٹھ کی دہائی میں ینگ لائرز سرکل کے نام سے ایک تنظیم بھی بنا ڈالی جس کا مقصد پیشہ وکالت میں آنے والے نوجوان وکلاءکے مفادات کا تحفظ اور عدالتی نظام میں اردو کو رائج کرانے کی جدوجہد تھا ، وہ اردو کے بہت بڑے داعی تھے اور خود زیادہ تر درخواستیں اردو ہی میں لکھا کرتے تھے۔

سیاست میں دلچسپی تھی، جب مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے متحدہ حزب اختلاف کی اپیل پر صدر ایوب کے مقابلے میں صدارتی انتخاب لڑا تو منصور ملک بھی سرگرم ترین حمائتی وکلاءمیں شامل تھے اور یوں وہ صدر ایوب کی مخالف فورس کے نوجوان تھے، تاہم بار میں وکلاءحضرات کے آپس میں تعلقات مثالی رہتے تھے۔آج کے دور کی طرح روٹھے روٹھے رہنے والی بات نہیں تھی۔سی ایم لطیف راں کا تعلق مسلم لیگ کنونشن سے تھا اس کے باوجود منصور ملک سے اچھے تعلقات تھے، انہی تعلقات کی بناءپر ایک روز لطیف راں نے منصور ملک سے کہا، یار! کچھ عرصہ کے لئے اپنا ینگ لائرز سرکل تو ادھار دے دو، ملک نے فوراً ہاں کر دی اور لطیف راں اس سرکل کے صدر بن گئے اور پھر چند سرگرمیوں کے بعد معلوم ہوا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جانے والی پاکستانی وفد کے ایک رکن لطیف راں بھی ہیں، بہرحال منصور ملک کو کوئی افسوس نہیں تھا۔

یہ سلسلہ یونہی چل رہا تھا کہ 1965ءکی جنگ کے بعد معاہدہ تاشقند کے وقت ذوالفقار علی بھٹو نے وزارت چھوڑ کر ایوب خان سے علیحدگی اختیار کرلی۔ یوں بہت سی نظروں میں آ گئے لاہور بار میں جن وکلاءنے فوراً حمایت کی ان میں منصور ملک شامل تھے اور بہت پرجوش تھے، حتیٰ کہ ایک روز جب ہم اور احمد مظہر خان مرحوم(مشرق) ان کے ساتھ بیٹھے باتیں کررہے تھے کہ چودھری محمد لطیف وہاں آ گئے، منصور ملک کو فوراً خیال آیا اور انہوں نے چودھری لطیف راں سے ینگ لائرز سرکل واپس مانگ لیا اور اسی ینگ لائرز سرکل کے پلیٹ فارم سے ذوالفقار علی بھٹو کو لاہور بار میں مدعو کیا اور ایک تقریب کر ڈالی۔بھٹو نے زبردست تقریر بھی کی، یہاں منصور ملک نے ان کو پارٹی بنانے کا مشورہ بھی دیا۔بعد کی بات طویل ہے، پھر پیپلزپارٹی بنی منصور ملک سرگرم رکن تھے، حتیٰ کہ ان کی اہلیہ بھابی نجمہ(میں نام بھولا نہیں) بھی عملی سیاست میں آئیں، ہر دو نے بڑی مشکلیں جھیلیں،تھانے، حوالاتیں اور تشدد دیکھا برداشت کیا، بہرحال یہ کہنا تو بے کار ہو گا کہ بعد میں منصور ملک کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوا، جو بادشاہ، بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں لیکن ان میاں بیوی کی وفاداری میں فرق نہ ایا یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنے جیسوں کے حق کے لئے لڑتے رہے اور یہ جنگ ناکام رہی تھی۔

اپنے ایک سیر صبح کے ساتھی اور پرانے لاہوری سے ان کا ذکر سنا اور ان کی وفات کی خبر نے صدمہ پہنچایا کہ اتنا متحرک شخص یوں گیا کہ ہمیں بھی خبر نہ ہوئی۔زیادہ تفصیل یوں نہ جان سکے کہ یہ ملک مرحوم ہی کے بچوں کے علم میں ہو گی کبھی ملاقات ہوگئی تو پوچھ لیں گے اب تو دعا ہی کی جا سکتی ہے ،اچھے لوگوں میں سے تھا۔

مزید : کالم


loading...