میاں صاحب! خدارا، یہ کام بھی کر دکھائیں!

میاں صاحب! خدارا، یہ کام بھی کر دکھائیں!
میاں صاحب! خدارا، یہ کام بھی کر دکھائیں!

  



کہا جاتا ہے، دھن کے پکے اور لگن کے سچے لوگ ہی غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔زندگی میں ایسے لوگ کسی نہ کسی حوالے سے غیر معمولی کارنامہ ضرور انجام دیتے ہیں۔ایسے میں اگر جنونی کیفیت بھی پیدا ہوجائے تو پھر وہ کام بھی دیکھتے ہی دیکھتے ہو جاتے ہیں، جو بظاہر عمومی طور پر ممکن دکھائی نہیں دیتے۔ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ذوالفقار علی بھٹو کی تحریک پر ایٹم بم بنانے کے خفیہ منصوبے پر کام شروع کیا۔بھٹو صاحب اور پھر جنرل ضیاءالحق نے ان سے بھرپور تعاون جاری کھا۔اس بظاہر ناممکن کام کو ممکن بنانے میں ایک اور شخصیت نے بھی ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔یہ ناقابل فراموش کردار، صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے برسوں تک سیکرٹری خزانہ اور پھر چیئرمین سینیٹ کے عہدوں پر فائز رہتے ہوئے ادا کیا کہ انہوں نے وطن عزیز کو ایٹمی قوت بنانے کے خفیہ منصوبے کے لئے مالی وسائل کو یقینی بنانے کے لئے دیوانہ وار کام کیا اور ڈاکٹر عبدالقدیر کو کسی بھی مرحلے پر مالیاتی رکاوٹ کی وجہ سے فکر مند نہیں ہونے دیا،جس کے نتیجے میں پاکستان کو بالآخر ایٹمی قوت بننے کا اعزاز حاصل ہوگیا اور بھارت کا غرور خاک میں مل کر رہ گیا۔یہ سب کچھ پختہ عزم، مقصد کو پانے کے لئے دیوانہ وار محنت اور بظاہر ”ناممکن“ کو ممکن بنانے کی لگن ہی سے ممکن ہوا۔

فروری 1974ءمیں جب پاکستان میں پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی تو دنیا میں اس کی دھوم مچ گئی۔لاہور میں 22تا24فروری کو کانفرنس ہوتی رہی۔ سعودی عرب کے ہر دلعزیز شاہ فیصل، لیبیا کے کرنل قذافی، یوگنڈا کے عیدی امین، فلسطین کے یاسر عرفات سمیت مسلم ممالک کے سربراہان کی آمد اور آخری سیشن تک موجودگی کو دنیا بھر میں بہت بڑا کارنامہ قرار دیا گیا۔یہ کارنامہ ذوالفقار علی بھٹو نے انجام دیا تھا، بھٹو، اس ملک کے میزبان سربراہ تھے، جس نے تازہ تازہ اپنے وجود کے بڑے حصے کی بین الاقوامی سازش کے تحت ازلی دشمن بھارت کے ہاتھوں علیحدگی کا زخم برداشت کیا تھا۔بھٹو صاحب نے بعد میں اپنے اس کارنامے بارے بتایا تھا....” جب شاہ فیصل نے مجھے ”اسلامک سمٹ“ پاکستان میں منعقد کرنے کا آئیڈیا دیا تو کچھ بے یقینی کے ساتھ ، انہوں نے پوچھا کہ بھٹو! میرے بچے!! کیا تم یہ بے حد مشکل کام کرنے کے لئے اپنے اندر بے پناہ جذبہ اور لگن کو اچھی طرح محسوس کرتے ہو؟ کیا تم یہ ثابت کرو گے کہ مسلم سٹیٹ پاکستان کے سربراہ کی آواز پر سبھی مسلم سربراہان اکٹھے ہو کر مستقبل بارے مشترکہ فیصلے کر سکتے ہیں؟؟ تو مَیں نے فوراً اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا تھا، مَیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور آپ کی سرپرستی اور دعاﺅں کے ساتھ یہ کام ضرور کروں گا اور پھر مَیں نے تہیہ کیا کہ چاہے کچھ بھی کرنا پڑے، اپنی جان کی بازی بھی کیوں نہ لگانا پڑے، مَیں اسلامک سمٹ کا خواب پورا کرکے رہوں گا۔چنانچہ مَیں نے وزارت خارجہ کے علاوہ دوسرے شعبوں سے بھی ایسے لوگوں کو اپنی ٹیم میں شامل کیا، جو ڈپلومیٹک ورکنگ کو اچھی طرح جانتے تھے اور انہیں مدعا بیان کرکے سامنے بیٹھے شخص کو اس پر آمادہ کرنے کا فن آتا تھا۔ مَیں نے اپنی ٹیم کے ساتھ دن رات کام کیا اور پھر جب سب لوگ کانفرنس میں شرکت کے لئے تیار ہو گئے تو ایک اور ٹیم کو متحرک کر دیا گیا۔میزبانی اور مہمانداری کی یہ وسیع ٹیم بھی کافی غوروفکر اور محنت کے بعد مکمل ہوئی تھی۔جب پنجاب اسمبلی، واپڈا ہاﺅس اور الفلاح بلڈنگ کے وسط میں ”سمٹ مینار“ بنانے کا فیصلہ ہوا تو اس وقت ہمارے انتظامات اور شبانہ روز جدوجہد کو دیکھتے ہوئے سب نے کہا کہ ہاں، یقینا سمٹ مینار بنایا جانا چاہیے“.... ذوالفقار علی بھٹو نے جب اسلامی سربراہ کانفرنس کے تسلیم شدہ کارنامے کی بنیادی روح اور اس کے لئے ہونے والی جدوجہد کا ذکر کیا تو وہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ جب آپ کوئی کام کرنا چاہتے ہو تو پھر ایک چیلنج سمجھ کر اس کے لئے اپنی صلاحیتیں وقف کر دو! کامیابی اور ناکامی اللہ کی طرف سے ہوتی ہے!!

بات ہو رہی ہے، جذبہ جنون اور مشن کو پورا کرنے کے لئے دیوانہ وار کام کرنے کی....حسن اتفاق کہہ لیں کہ ساہیوال میں 1320۔میگاواٹ کول پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھنے اور نندی پور پاور پراجیکٹ کی پہلی ٹربائن کا پیداواری افتتاح کرنے کے موقع پر لاکھوں دوسرے لوگوں کی طرح ہم بھی ہاتھ میں مینار پاکستان گراﺅنڈ والا شہباز شریف فیم پنکھا پکڑے خود کو ہوا دے رہے تھے۔لوڈشیڈنگ اپنے متاثرین کو صبر اور صبر کرنے کا پیغام دیتی ہے کہ عوام بااختیار حکمرانوں کے رحم و کرم پر زندگی بسر کرنے کے لئے مجبور ہیں۔سچی بات ہے کہ لوڈشیڈنگ کی تکلیف اور غصے کے باوجود ہم بار بار اللہ کے حضور شکر ادا کررہے تھے کہ وطن عزیز میں بالآخر توانائی کے منصوبوں پر عملی کام بھی شروع ہوا ہے، ورنہ نصف صدی سے زائد عرصہ سے یہی سنتے آ رہے ہیں کہ فلاں منصوبہ شروع کیا جائے گا۔فلاں کام جلد آغاز ہو جائے گا۔فلاں مسئلہ بہت جلد حل کر دیا جائے گا، وغیرہ وغیرہ.... نندی پور پراجیکٹ سے 7ماہ کی ریکارڈ مدت میں پیداوار شروع کرنا یقینا قابل فخر کارنامہ ہے۔ساہیوال کول پاور پراجیکٹ پر بھی اسی طرح کام ہوگا۔ میاں برادران جب بھی اقتدار میں آتے ہیں، بہت سے اچھے کام کرنے اور لوگوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے نیک ارادوں کا اظہار تو کرتے ہیں، مگر ”یار لوگ“ انہیں کام کرنے کا موقع ہی نہیں دیتے۔وہ مخالفین کی رکاوٹوں کو عبور کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد سازشی ماحول اور حالات کا شکار ہو کر میاں صاحب اقتدار سے باہر ہو جاتے ہیں۔اس مرتبہ بھی یہی کچھ ہونے کا خطرہ ہے۔

غالباً اس روایت کو ذہن میں رکھتے ہوئے میاں شہبازشریف نے اپنے اس دور میں قلیل مدتی منصوبے شروع کرکے ان کی تکمیل یقینی بنانے کے لئے دیوانہ وار اور شب و روز وقف کر دیئے۔کام، کام اور صرف کام کے ارشاد قائداعظمؒ پر عمل کو شعار بنایا۔سب نے دیکھا کہ ڈینگی کے خلاف مہم شہبازشریف کی اسی ”دیوانگی“ کے سبب کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔اسی طرح میٹروبس پراجیکٹ بھی ان کی نیک نامی اور ناقابلِ فراموش کامیابی کے حوالے سے روزانہ لاکھوں افراد کو انتہائی سستی اور تیز رفتار سفری سہولیات مہیا کررہا ہے۔یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ (سیاسی الزام تراشیاں چھوڑ کر) روائتی انداز میں کام ہوتا تو گیارہ ماہ کی ریکارڈ مدت میں منصوبہ مکمل نہیں ہو سکتا تھا، جبکہ سخت چیکنگ کے باعث معیاری میٹریل استعمال ہوا اور لاگت بھی آدھی رہی۔اس بات کو مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں۔شہبازشریف کو یقین ہے کہ راولپنڈی اسلام آباد میں بھی منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل ہو جائے گا۔یہ سب کچھ شہبازشریف کے جنونی انداز میں کام کرنے کی وجہ سے ممکن ہوگا۔گزشتہ ایک سال سے وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پہلے ترکی میں فنی تعاون اور سرمایہ کاری کے لئے کوشاں رہے اور اب عظیم دوست ملک چین کے ساتھ قابل عمل اور باعث رشک منصوبوں اور سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لئے دن رات ایک کر رکھا ہے۔خدا کرے کہ جلد میاں برادران کی کوششیں رنگ لائیں اور عوام کو ریلیف مل سکے۔

وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، جو کام کررہے ہیں، وہ لانگ ٹرم پلاننگ ہے، اس پر انہیں داد دینی چاہیے۔یہ ثابت ہو رہا ہے کہ اگر حکمران چاہیں تو بظاہر انتہائی مشکل اور ناممکن دکھائی دینے والے کام بھی آسان اور ممکن ہو جاتے ہیں۔یہاں ہم کروڑوں عوام کی اس خواہش کا اظہار کرنا چاہتے ہیں کہ جب میاں صاحبان خود کہتے ہیں کہ سیاست سے بالاتر ہو کر عوام کی خدمت کے لئے کام کرنا چاہیے تو وہ اپنے موجودہ دور حکومت کو یادگار اور مثالی بنانے کے لئے بھی یہ پختہ عزم کریں کہ چاہے سیاسی اور حکومتی روایات کا خاتمہ کرنا پڑے، چاہے ”مَیں“ کو مارنا پڑے، یہ ممکن بنا کر دکھا دیں کہ حکومت اور اپوزیشن کے لوگ (جہاں تک ممکن ہو) دہشت گردی، لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کے خاتمے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جدوجہد کررہے ہیں۔یہ درست ہے کہ کام معمولی اور آسان نہیں، یقینا بہت بڑا چیلنج ہے، مگر جس طرح دوسرے کام کررہے ہیں، اس چیلنج کو بھی قبول کریں اور بظاہر ناممکن کو ممکن بنائیں۔چاہے یہ کام ”ضد“ پوری کرنے کے لئے کریں، ایک بار اپنی انا کے پتھر کو پاش پاش کرکے ثابت کردیں کہ میاں برادران نے ملک اور قوم کے شاندار مستقبل کے لئے اپنے اَنا کے بت کی بجائے عاجزی انکساری اور قربانی کے جذبے کو ترجیح دی ہے۔سیاسی مجبوریوں اور روایات کو بالائے طاق رکھ کر ملک اور قوم کے مفاد میں وہ کچھ کر گزریں، جس کا آج تک ذکر ہی ہوتا چلا آ رہا ہے، عملی طور پر کچھ بھی نہیں ہو رہا۔دہشت گردی، لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کے خاتمے کے لئے یہ غیر معمولی کارنامہ یقینی بنا کر میاں برادران لوگوں کو یہ بھی دکھا دیں کہ کون اس ملک اور قوم سے کتنا اور کس حد تک مخلص ہے۔پھر یقینی طور پر عوام اگلے الیکشن میں مخلص اور صحیح معنوں میں خدمت کرنے والوں کو منتخب کریں گے۔

ملکی ترقی کے لئے خدا کا واسطہ دینے سے اچھا پیغام دیا گیا ہے، مگر خدارا، آپ مزید آگے بڑھیں اور دوسرا قدم اپوزیشن (پارلیمنٹ کے اندر اور باہر) کو سیاست سے بالاتر ہو کر متذکرہ بالا ایجنڈے پر کام کرنے کے لئے اٹھائیں۔اپوزیشن کی محاذ آرائی کے باوجود ترکی بہ ترکی اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی بجائے خود چل کر ایک ایک سیاستدان کے پاس جائیں۔انہیں بامقصد اور خدمت کی سیاست کی طرف آنے کے لئے آمادہ کریں۔اس کے لئے پہلے ایثار کا خود نمونہ بنیں اور پھر دوسروں کو دعوت دیں۔ دوسری قوتیں جو کررہی ہیں، پروا نہ کریں۔آپ اس کام پر ڈٹے رہیں۔صرف اللہ پر بھروسہ رکھیں۔یہی ایک راستہ صاف ستھرا اور کامیابی سے منزل تک پہنچنے کا راستہ ہے۔خدارا ، وقت ضائع کئے بغیر یہ کام بھی جنون والے جذبے کے ساتھ کریں۔سو فیصد یقین رکھیں کہ آپ نے یہ کام کر دکھایا تو تاریخ میں آپ کا کردار ایسے سنہری حروف سے لکھا جائے گا جو ہمیشہ اور ہر حالت میں روشن اور چمکتے رہیں گے۔آزما کر دیکھیں، پھر شاید آپ کو موقع نہ ملے۔

مزید : کالم


loading...