تین بہنوں کے جل کر جاں بحق ہونے کا سانحہ

تین بہنوں کے جل کر جاں بحق ہونے کا سانحہ

  



اچھرہ لاہور میں ماں کی طرف سے گھر میں تالا لگا کر بند کی گئی دو، تین اور چار سال کی تین معصوم بچیاں آتشزدگی سے جل کر اس دنیا سے مُنہ پھیر گئیں۔ بابا اعظم چوک کے قریب تیسری منزل پر مقیم بچیوں کا محنت کش والد سلیم ڈاکٹر کے پاس گیا ہوا تھا، جبکہ اس کی بیوی شبنم اپنی تین بیٹیوں کو گھر پر چھوڑ کر باہر سے تالا لگا کر چوتھی بیٹی کے ساتھ بازار چلی گئی۔ پیچھے سے گھر میں پُراسرار طور پر آگ بھڑک اُٹھی۔ چار سالہ خدیجہ اور دو سالہ عالیہ جھلسنے سے موقع پر جاں بحق ہو گئیں، جبکہ تین سالہ نور شدید زخمی ہو گئی۔ اہل محلہ نے اپنے طور پر آگ بجھانے کی کوشش کی، لیکن علاقے کا ٹیوب ویل خراب ہونے کی وجہ سے گھروں میں پانی کی شدید قلت تھی۔ تاہم اطلاع ملنے پر ریسکیو عملے نے آ کر آگ بجھائی۔ زخمی نو ر کو سروسز ہسپتال میں منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ بچی زیادہ جھلس چکی ہے اسے میو ہسپتال لے جائیں۔ میوہسپتال میں ڈاکٹروں نے بچی کی نازک حالت کے باوجود اُسے طبی امداد دینے سے انکار کیا اور اسے واپس سروسز ہسپتال بھجوا دیا۔ بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے ہی میں دم توڑ گئی۔ علاقے کے مکینوں نے پانی کی سپلائی نہ ہونے کے خلاف احتجاج شروع کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ اگر پانی موجود ہوتا تو شاید بچیاں ہلاک نہ ہوتیں۔ اس دوران ڈی سی او لاہور وہاں پہنچ گئے، جن کے خلاف علاقے کے لوگوں نے نعرے لگائے اور بچیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ضلعی انتظامیہ کو قرار دیا۔ مظاہرین نے ڈاکٹروں کے رویہ کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے ڈی سی او کو واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے سوگوار خاندان کے لئے پانچ لاکھ روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔

تین کمسن بہنوں کا آگ سے جھلس کر جاں بحق ہونے کا یہ واقعہ انتہائی اندوہناک ہے، جس سے پورے علاقے کی فضا سوگوار ہو گئی ہے۔ ریسکیو کے عملے سے بعض کی رائے کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی۔ شدید گرمی میں علاقے کے لوگوں کا پانی سے محروم ہونا ایک دوہرا عذاب تھا، جس وجہ سے وہ کوشش کے باوجود بچیوں کی زندگی بچانے کے لئے کچھ نہ کر سکے، جبکہ ریسکیو ٹیم کو اطلاع کئے جانے اور اس کے پہنچنے تک بہت تاخیر ہو چکی تھی۔ اس کے علاوہ لاہور جیسے شہر میں کسی بھی بڑے سے بڑے ہسپتال کا برن یونٹ کی سہولت سے محروم ہونا شہریوں کی بڑی بدقسمتی ہے۔ سروسز ہسپتال میں جدید برن یونٹ قائم کرنے کی خبریں شائع ہوئی تھیں، لیکن یہ یونٹ بھی عرصہ دراز تک ضروری سامان وصول کرنے سے محروم رہا ۔ گزشتہ دنوں ایسے ہی ایک حادثہ کے سلسلے میں وزیرآباد سے مریض کو لاہور لانے والے افراد کو لاہور کے تمام ہسپتالوں میںمایوسی کا سامنا کرنا پڑا ، بالآخر انہیں کھاریاں کے سی ایم ایچ میں برن یونٹ کی موجودگی کا علم ہوا اور انہوں نے اپنے مریض کو وہاں منتقل کیا۔

یہ حادثہ بچیوں کے ماں باپ کے لئے بلا شبہ غم و اندوہ کا بھاری بوجھ لے کر آیا ہے، جس بچی کو بچانے کی کوشش کی گئی اس کے سلسلے میں بھی اگر کچھ ہو سکتا تھا تو وہ ڈاکٹروں کے رویے کی وجہ سے نہ ہو سکا۔ اس طرح پانی کی کمی اور ہسپتالوں کی افسوسناک صورت حال کا علم ملک کے دوسرے لوگوں کو بھی ہو سکا، لیکن سب سے اہم تین معصوم جانوں کے اس کربناک طریقے سے ضائع ہونے کا معاملہ ہے، جن کی اس المناک موت کے پیچھے کسی نہ کسی کی غفلت کا ہاتھ ضرور ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے اس واقعہ کی تفصیلی رپورٹ کے لئے فوری احکامات جاری کرنا اور سوگوار خاندان کی امداد کے لئے پانچ لاکھ کی امداد کا اعلان ان کی نیک دلی اور انسان دوستی کی علامت ہے، جس سے غریب اور بے بس شہریوں کو کسی نہ کسی سطح پر اپنا کوئی غم خوار اور ہمدرد موجود ہونے کا احساس ہوتا ہے، لیکن شہریوں کو اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ یا کسی پر الزام دینے سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ اس میں ابتدائی اور بنیادی غلطی کس کی ہے؟ کیا اس چھوٹی عمر میں بچیوں کو گھر میں اکیلے چھوڑ کر باہر سے تالے لگا کر جانے کا کوئی جواز تھا؟ کیا باہر جانے کی مجبوری کی صورت میں ہمسایوں یا کسی عزیز کو بچیوں کے پاس نہیں چھوڑا جا سکتا تھا؟ اگر بچیوں کو اکیلے گھر میں چھوڑے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا تو کیا گھر کو باہر سے تالا لگا کر بچیوں کو اس طرح بے بس کردینا ضروری تھا؟ کیا اس طرح کے رویے ہمارے معاشرے کی عمومی بے حسی کے غماز نہیں ؟کیا غربت اور کم وسائل کی صورت میں ہمارے شہریوں کو خاندانی منصوبہ بندی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں؟

دیکھا جائے تو بچوں کے بنیادی حقوق اور والدین اور اساتذہ کے بچوں کے ساتھ رویے کے سلسلے میں ہمارے معاشرے میں بچوں کے حقوق کے عالمی معاہدہ کی40 سے زائد شقوں کے متعلق ہم اپنے عوام کو عمومی طور پر بے شعور اور بے حس پاتے ہیں۔ خواتین اور بچوں پر گھروں میں مرد خواہ جیسا بھی ظلم اور تشدد کریں،لیکن اردگرد والے اور دیکھنے والے محض اس لئے خاموش رہتے ہیں کہ کسی کے اپنے گھر کا معاملہ ہے اور دوسروں کو اس میں مداخلت کا کوئی حق نہیں پہنچتا، جبکہ بے حسی والا ایسا رویہ سرا سر قانون شکنی اور جرم میں اعانت کرنے والا رویہ ہے۔ اگر دیکھنے اور سننے والے کسی گھر میں ہونے والے ظلم کو روک نہیں سکتے، تو کم از کم انہیں اس کی اطلاع پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں یا ریسکیو عملے کو ضرور کر سکتے ہیں۔

خنجراب سے لے کر گوادر تک اور درہ¿ خیبر سے لے کر کراچی تک پورے ملک میں ہمیں بچوں اور خواتین کے حقوق سے عوام کو آگاہ اور باخبر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے اخبارات کے علاوہ ٹیلی وژن چینل بے مثال سماجی خدمات سرانجام دے سکتے ہیں۔ بچوں کی تربیت، ان کی زندگی کی حفاظت، نشو ونما اور صحت، عزت نفس کی حفاظت، خود اعتمادی اور خود انحصاری، اخلاقیات اور معاشرتی آداب، خوراک ، لباس اور رہائش کی مناسب سہولتوں کی فراہمی،بڑوں کے ہر طرح کے تشدد اور جبر سے آزادی، لازمی تعلیم، اور چائلڈ لیبر سے اجتناب جےسے معاملات سے متعلق غریب، اَن پڑھ اور محنت کش طبقوں کے والدین کو عام فہم اور موثر انداز میں تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ حفظان صحت کے اصولوں، بیماریوں کے خلاف حفاظتی انتظامات، خوشگوار گھریلو زندگی، بنیادی انسانی حقوق، صبرو تحمل، حسن اخلاق اور لین دین میں دیانت داری اور ایک دوسرے کے لئے پسندیدہ اور قابل قبول رویے اختیار کرنے کی اہمیت، ٹریفک قوانین کی پابندی اور معاشرے میں رہتے ہوئے اپنی سماجی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرنے کی اہمیت وغیرہ کے معاملات سے متعلق عوام الناس کو آگاہ و باخبر کرنے اور ان باتوں کا تسلسل کے ساتھ لوگوں کو احساس دلاتے رہنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے مذہبی پلیٹ فارم کے علاوہ این جی اوز، پیشہ ورانہ تنظیموں، تعلیمی اداروں اور میڈیا پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔

 اخبارات و رسائل اور الیکٹرانک میڈیا کو سنسنی خیزی اور ہر وقت کی سیاست سے باہر آنے کی ضرورت ہے۔ معاشرے میں ہر روز سامنے آنے والے اس طرح کے المیوں کے سامنے آنے سے پہلے ان کے پیچھے موجود محرکات و اسباب اور ان کے تدارک کی تدابیر اور درست رویوں اور اچھی اقدار و روایات کو اپنانے کی ضرورت واضح کی جانی چاہئے۔ ٹیلی وژن اس ضمن میں اہم ترین کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جس قدر شدید اور وسیع تر بگاڑ موجود ہے اس کا تقاضا ہے کہ میڈیا ان مسائل سے نکلنے کے لئے اسی بڑے پیمانے پر جدوجہد کرے۔ عوام کی تربیت، اصلاح اور عمومی تعلیم کا کام میڈیا ہی نے سرانجام دینا ہے۔ صحت و صفائی، اخلاق و کردار اور سماجی ذمہ داریوں کے سلسلے میں ہمارے ہر ٹیلی وژن چینل کو کم از کم15فیصد وقت ضرور دینا چاہئے۔ یہ سب کچھ بھی اتنا ہی دلچسپ ہونا چاہئے جتنے کہ دوسرے پروگرام ، تاکہ ان پروگراموں سے زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کر سکیں، ان سے اُکتاہٹ اور پریشانی محسوس نہ کریں، بلکہ ان میں بتائی ہوئی باتوں کو اپنی زندگی کے لئے بے حد اہم اور لازمی تصور کرتے ہوئے اپنائیں ۔    

ٹیلی وژن اور پرنٹ میڈیا کو بچوں کے تمام حقوق والدین پر واضح کرنے کی ضرورت ہے، والدین کو معلوم ہونا چاہئے کہ چائلڈ لیبر غیر قانونی ہے۔ بچوں پر تشدد کرنے والوں کو جیل بھجوایا جا سکتا ہے۔ بچوں کی حفاظت سے غفلت برتنے اور ان کی جسمانی و ذہنی صحت اور زندگی کے لئے خطرات پیدا کرنے والی حرکتیں والدین نہیں کر سکتے، ایک ایک موٹر سائیکل پر نہایت غیر محفوظ طریقے سے کئی کئی بچوں کو لاد کر مصروف ترین سڑکوں پر لے جانا قانوناً منع ہے۔ یورپ و امریکہ میں والدین پنے کمسن بچوں کو اکیلے گھر میں چھوڑ کر نہیںجا سکتے۔ کار میں لے جانے کے لئے بھی کمسن بچوں کے لئے تیار کردہ خصوصی سیٹ کار میں فکس کر کے اس پر بیلٹ لگا کر بچوں کو بٹھانا قانوناً ضروری ہے۔ بخار یا کسی بھی طبی مسئلہ کی صورت میں بچوں کو فوری طور پر کوالیفائیڈ ڈاکٹر کے پاس لے جانا ضروری ہے۔ بچوں کو مارنے کے علاوہ جھاڑ جھپاڑ کی بھی ممانعت ہے۔ گھر میں بچوں کو رہائش اور خوراک کی مناسب سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے، کینیڈا اور یورپین ممالک میں کم آمدنی والے بچوں کے والدین کو بچوں کی بہتر خوراک اور سہولتوں کے لئے مناسب وظیفہ مقرر کر دیا جاتا ہے۔ بیمار یا معذور بچوں کی نگہداشت کرنے والے والدین کا بھی اس کام کے لئے معاوضہ مقرر کیا جاتا ہے تاکہ بچوں کی نگہداشت میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔

پاکستان1990ءمیں نیویارک میں ہونے والی عالمی سربراہی کانفرنس میں منطور کردہ بچوں کے حقوق کے عالمی معاہدہ پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہے، لیکن اس معاہدہ میں تسلیم کئے گئے بچوں کے فطری و سماجی حقوق پر عمل درآمد کرانے کے سلسلے میں پاکستانی معاشرے کی صورتحال قابل رحم ہے۔ 40 سے زائد تسلیم شدہ بچوں کے حقوق کے سلسلے میں شاید ہی کوئی حق ایسا ہو گا، جو پاکستان میں بچوں کو ہر جگہ پوری طرح میسر ہو۔ بہت سے معاملات میں ان حقوق کی حفاظت کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے، جو ہمارے اس عالمی معاہدہ پر دستخط کرنے کے بعد ربع صدی گزر جانے کے باوجود ابھی تک مکمل نہیں ہوئی، جو قانون موجود بھی ہیں ان پر کہیں عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آ رہا۔پورے معاشرے میں ہر بات پر حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ عوام کی طرف سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور اپنے فرائض کا احساس کرنے کا مزاج موجود نہیں۔ بگاڑ کی بنیادوں میں زیادہ دخل ایسے ہی عوامی رویوں کا ہے۔ اگر مائیں اپنے کمسن بچوں کو کسی حفاظت اور نگہداشت کے بغیر گھروں میں تالے لگا کر اسی طرح بند کرنے کی غفلت کا شکار رہیں گی، تو بچوں کے ساتھ ایسے ہی المناک حادثات پیش آتے رہیں گے،

مزید : اداریہ


loading...