ایسی غذائیں جو بچائیں فالج سے

ایسی غذائیں جو بچائیں فالج سے
ایسی غذائیں جو بچائیں فالج سے

  



نیویارک (نیوزڈیسک) نرسز ہیلتھ سٹڈی نامی طبی تحقیق کے مطابق مغربی انداز کے کھانوں کی وجہ سے دماغی سٹروک کے خدشات میں 58 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ تازہ پھل، سبزیاں، مچھلی اور ان جیسی غذائیں اس بیماری کے امکانات کو 30 فیصد تک کم کر سکتی ہیں۔ یہاں ہم آپ کو ایسی 7 غذاؤں کے بارے میں بتائیں گے، جن کے استعمال سے آپ سٹروک (ایسی بیماری جس میں آکسیجن کی کمی کے باعث دماغی خلیے اچانک مر جاتے ہیں اور دماغی شریان پھٹ جاتی ہے یا جسم کا کوئی حصہ مفلوج ہو جاتا ہے) سے بچ سکتے ہیں۔

لوبیا: لوبیا صرف دل کے لئے اچھا نہیں بلکہ یہ آپ کے دماغ کی حفاظت کا فریضہ بھی سرانجام دیتا ہے، کیوں کہ اس میں وٹامن بی اور فولک ایسڈ شامل ہوتا ہے، جو ذہنی صحت کے لئے نہایت مفید ہے۔

جوء، بادام، سویا بین: یہ تینوں غذائیں برے کولیسٹرول کی سطح کو 28 فیصد تک کم کرکے دماغی صحت کی حفاظت کرتی ہیں۔

اینٹی آکسیڈنٹس (عمل تکسید کو روکنے والا عامل): تازہ پھل اور سبزیاں سٹروک کے خلاف ایک ڈھال کا کام کرتی ہیں، کیوں کہ یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں، جو نالیوں کو کھولتے ہوئے خون کے بہاؤ کو بہتر بناتے ہیں۔

کیلا: کیلے میں پوٹاشیم کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے، جو سٹروک کے خطرات کو کم کر دیتی ہے۔ محققین کے مطابق پوٹاشیم کی کمی کے باعث سٹروک ہونے کے خدشات میں 28 فیصد تک اضافہ جبکہ موجودگی مرض کے خدشات کو 38 فیصد تک کم کر دیتی ہے۔

چکنائی کے بغیر دودھ: اگر آپ دودھ کا استعمال ترک کر چکے ہیں تو اب وقت ہے دوبارہ اسے اپنی خوراک کا حصہ بنانے کا، کیوں کہ چکنائی سے پاک دودھ پوٹاشیم، میگنشیم اور کیلشیم سے بھرپور ہوتا ہے، جو قدرتی طور پر بلڈپریشر کی سطح کو کم کر دیتا ہے۔ اور بلڈ پریشر کی بیماری سٹروک کا باعث بن سکتی ہے۔

جو اور اناج: مختلف تحقیقات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اگر آپ ہائی بلڈ پریشر کے مریض نہیں تو میگنشیم سے بھرپور غذائیں سٹروک کے خطرہ کو 30 فیصد تک کم کر دیتی ہیں۔ اور جو و اناج میگنشیم سے بھرپور غذائیں ہیں۔

مچھلی: مچھلی کا استعمال دل کے لئے تو اچھا ہے ہی، اس میں موجود چکنائی دماغی تندرستی کی بھی ضامن ہے۔ اگر آپ خود کو سٹروک سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو مچھلی کو ضرور اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔

مزید : تعلیم و صحت


loading...