قرضوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کیلئے بجلی مہنگی کی جارہی ہے،ارشد مصطفائی

قرضوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کیلئے بجلی مہنگی کی جارہی ہے،ارشد مصطفائی

  



 لاہور(سٹاف رپورٹر)سنی اتحاد کونسل کے مرکزی ڈپٹی سےکرےڑی اطلاعات ارشد مصطفائی نے کہا ہے کہ نااہل اور ناکام حکمرانوں کا دھڑن تختہ قریب ہے پارلیمنٹ کو طاقت کا مرکز بنانے کی ضرورت ہے گردشی قرضوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے لیے بجلی مہنگی کی جا رہی ہے تحریک طالبان سے الگ ہونے والے گروپ نے اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کا اصلی چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ حکومت طالبان کی دھڑے بندی سے فائدہ اٹھائے فتح جنگ میں فوج کے دو کرنل شہید کرنے کے واقعہ سے حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں وقت آ گیا ہے کہ ریاست مخالف دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا دوٹوک اعلان کیا جائے حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاک فوج کو فری ہینڈ دے پاکستان سے وفاداری کا تقاضا ہے کہ طالبان نواز مذہبی راہنما ریاست مخالف طالبان کی حمایت چھوڑ دیں عالمی ایجنڈے کے تحت پاکستان کے حالات خراب کیے جا رہے ہیں ملک نازک صورتحال سے دوچار ہے جلاﺅ گھیراﺅ کی بجائے آئین و قانون کا راستہ اختیار کیا جائے قومی قیادت ملکی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر متحد ہو جائے قومی راہنما پوائنٹ سکورنگ اور بلےک مےلنگ چھوڑ کر ملک و قوم کے مسائل پر توجہ دیںان خےالات کا اظہار انہوں نے تےن روزہ دورہ فےصل آباد مکمل کرنے کے بعد لاہور پہنچنے پر پارٹی عہدےداروں اورکارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کےا انہوں نے کہا جلتی پر تیل ڈالنے والے راہنما ملکی سلامتی سے کھیل رہے ہیںیہ وقت سیاست کا نہیں ملک بچانے کا ہے پاکستان کو چاروں طرف سے گھیرا جا رہا ہے مشکلات سے دوچار پاکستان کو قومی یکجہتی و اتحاد کی ضرورت ہے حکومت نے عوام دشمن، غریب مار روایتی بجٹ پیش کیا ہے۔

بجٹ میں ساڑھے پانچ سو ارب سے زائد مالیت کے ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا دیا گیا ہے۔ وزیرخزانہ نے سالانہ دو ہزار ارب روپے کی ٹیکس چوری روکنے کے لیے کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا۔ بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص کی گئی رقم مایوس کن ہے۔ حکومت غربت نہیں غریبوں کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ ہم غریب کش بجٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ مہنگائی نے ہر غریب گھر کو پھانسی گھاٹ بنا دیا ہے۔ غربت کی وجہ سے ہونے والی ہر خودکشی کی ایف آئی آر حکمرانوں کے خلاف درج ہونی چاہیے۔ چار حلقوں میں دھاندلی ثابت ہو گئی تو پورا الیکشن مشکوک ہو جائے گا۔ حالات مڈٹرم الیکشن کی طرف جا رہے ہیں۔ شریف برادران ملک کو اتفاق فاﺅنڈی کی طرح چلا رہے ہیں۔ نجکاری سے بیروزگاری کا سیلاب آئے گا۔ نوازشریف فوج سے بدلہ لینے کی سوچ چھوڑ دیں۔ لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہوئی، اب شہباز شریف کو نام تبدیل کر لینا چاہیے۔ رانا ثناءاﷲ مخالف اور تبرہ بازی کی بجائے پنجاب میں اغواءبرائے تاوان ختم کرنے پر توجہ دیں۔ قومی خزانہ لوٹنے والوں کو الٹا لٹکانے کی بڑھکیں مارنے والے قوم کو بتائیں کہ لوٹ مار کرنے والوں کا کیا احتساب ہوا ہے۔ ارشد مصطفائی نے کہا جمہوریت کو خطرہ نہیں مگر حکومت اور فوج کے مابین خلیج بڑھ رہی ہے۔ 65 سالوں سے عوام کے ساتھ جمہوریت کے نام پر مذاق جاری ہے۔ جمہوریت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ منتخب ہونے والوں کو پانچ برس کے لیے سیاہ و سفید کرنے کا اختیار مل گیا ہے حکمرانوں اور بیوروکریٹس کے لیے اپنے اثاثے پاکستان منتقل کرنا لازمی قرار دیا جائے۔ سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے معاف کروائے گئے اربوں روپے کے قرضوں کی وصولی یقینی بنائی جائے۔پاکستانی حکومت کو بھارتی سازشوں پر کڑی نگاہ رکھنا ہو گی، بھارت میں فجر کی اذان پر پابندی کا مطالبہ قابل مذمت ہے۔ مودی کے وزیراعظم بننے سے انتہاپسند ہندوﺅں نے بھارتی مسلمانوں کے خلاف سازشیں تیز کر دی ہیں۔ طالبان کے اپنے ہی ساتھیوں نے ان کے کرتوت آشکار کر دیئے ہیں۔ پاکستان کے نوے فیصد لوگ ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔ پچانوے فیصد عوام کے وسائل پر پانچ فیصد حکام نے قبضہ کر رکھا ہے قومی وسائل لوٹ کر غیرممالک میں جائیدادیں بنانے والے قومی مجرم ہیں، فیصلہ سازی کا مرکز پارلیمنٹ نہیں رائیونڈ بنا ہوا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کا نام ”امیروں کی حکومت امیروں کے لیے“ ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا گرینڈ الائنس وقت کی اہم ضرورت ہےں حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے۔۔۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...