میٹرو ٹرین منصوبے،بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شروع ،جائیداد کے مالکان کی چا ندی

میٹرو ٹرین منصوبے،بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شروع ،جائیداد کے مالکان کی چا ...

  



لاہور(اپنے نمائندے سے )صوبائی دارالحکومت میں میٹرو ٹرین منصوبہ کی حدود میں آنے والے25سے زائد موضع جات کے جدی مالکان کی چاندی ، ڈیلروں کی بڑی تعداد نے قبل ازوقت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شروع کر دی پٹواریوں نے زائد از حصہ کھاتہ جات کی درستگی کیے بغیر مالکان ریکارڈ کی تسلی کرتے ہوئے طے شدہ رشوت وصولی کا کام شروع کر دیا روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق پنجاب حکومت اور چینی کمپنی میں ماس ٹرانزٹ میٹرو ٹرین منصوبہ کے معاہدے کے بعدجہاں ایل ڈی اے کے ذیلی اداریٹیپا کے افسران27کلومیٹر طویل ریل لائن بچھانے کے حوالے سے منصوبے کا ڈئزاین تیار کروانے میں مصروف ہو چکے ہیں اور6ماہ میں میٹرو ٹرین ٹرانزٹ منصوبے کا مکمل ڈیزائن تیار کیا جائے گا اس ضمن میں غیر ملکی فرموں سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں اس کے علاوہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے زمین ایکوائر کرنے کے حوالے سے بھی لائحہ عمل اور میٹنگیں کی جا رہی ہیں بجٹ اینڈ پلاننگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں ایکوائر ہونے والی زمین کے لیے مجموعی طور پر7ارب50کروڑ روپے مختص کیے جا رہے ہیں اس کے علاوہ گرین لائن کی تعمیر پر لاگت کا مجموعی تخمینہ2ارب 40کروڑ روپے لگایا جا رہا ہے قابل ذکر بات یہ ہے کہ میٹرو ٹرین منصوبہ کی حدو د میں آنے والے محکمہ ریونیو کے25سے زائد موضع جات میں زمین ایکوائر ہونے سے قبل ہی پراپرٹی ڈیلرز کی بڑی لابی متحرک ہو چکی ہے اور ان پٹوار سرکلوں کے تحصیلداروں،قانونگو ز اور پٹواریوں کے ساتھ ساز باز کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر زمینوں کی خریدوفروخت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اس ضمن میں ڈیلروں کی ایک بڑی تعداد ایل ڈی اے ٹیپا، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور محکمہ ریونیو کے دفاترمیں مستقل ڈیرے ڈال چکی ہے ٹیپا میں تیار کردہ نقشہ اور ڈیزائن کی روشنی میں زمینوں کی خرید کی جا رہی ہے اور اس میں انجینئرز صاحبان کے مشوروں پر بھی عمل کیا جا رہا ہے محکمہ ریونیو کے پٹواریوں نے میٹرو ٹرین منصوبے میں آنے والے متنازعہ کھاتہ جات کی درستگی کی بجائے جوں کی توں حالت میں لوٹ مار کی نیت سے جدی مالکان کے ساتھ ساز باز کر رکھی ہے ان پٹوار سرکلوں میں نیاز بیگ ،نواں کوٹ ،جھگیاں ناگرہ، سید پور،شیدا کوٹ،نوناریاں، گنجہ کلاں، ساندہ کلاں،راج گڑھ،قلعہ گوجر سنگھ، مزنگ میاں میر، باغانپورہ، اچھرہ، بابو صابو، پکھی ٹھٹھی، لاہور خاص، محمود بوٹی،بھیو گیسوال، لکھوڈیر،نولکھا، سلامت پورہ ، شاہدرہ کوٹ خواجہ سعیدسمیت دیگر موضع جات شامل ہیں اس وقت ان موضع جات میں بڑے پیمانے پر زمین کی خریداری کی جا رہی ہے اور انوسٹروں کے کروڑوں روپے زمین خریدنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں تاہم محکمہ ریونیو کے اعلیٰ افسران اور ریونیو سٹاف کے مطابق اس منصوبے میں ایکوائر ہونے والی زمین کے حوالے سے نہ تو ہم سے کوئی ریکارڈطلب کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی ہدایت ملی ہے زمین کی خرید و فروخت کوئی بھی کر سکتا ہے کسی کو روک نہیں سکتے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1