فیصل آباد ،ڈی سی او کا گن مین کانسٹیبل عمران سرکاری گاڑی کی خورد برد کے الزام میں گرفتار

فیصل آباد ،ڈی سی او کا گن مین کانسٹیبل عمران سرکاری گاڑی کی خورد برد کے الزام ...

  



                                      فیصل آباد(بیورورپورٹ)فیصل آباد کے سرکاری افسروں سے ”وصولیوں“ کے سب سے بڑے سکینڈل کے مرکزی کردار ڈی سی او فیصل آباد کے گن مین پولیس کانسٹیبل عمران احمد کو ایک سرکاری گاڑی کے خردبرد کے الزام میں زیر دفعہ 409ت پ درج ایک مقدمہ میں حراست میں لے لیا گیااور اسے مکوآنہ تفتیشی سنٹر لے جایا گیا جہاں اس سے تفتیش کے بعد ضلعی انتظامیہ کے بڑے افسر کی سرکاری رہائش گاہ بھی لے جایا گیا‘ جس گاڑی کی خردبرد کا مقدمہ تھانہ سول لائنز میں 3جون 2014 کو گن مین عمران کے خلاف درج کرایا گیا وہ گاڑی گن مین عمران کی تحویل میں دی گئی تھی جب وہ روپوش ہوا تو وہ اپنی تحویل میں موجود تین گاڑیاں FDL-48-ID9320 اور FDL88اس گن مین کی تحویل میں تھیں اور تقریبا ً16روز قبل گاڑی نمبرID9320پراسرار انداز میں صبح سویرے ڈی سی او آفس کے بیرونی گیٹ پر کھڑی پائی گئی جسے دھکا لگا کر ڈی سی او آفس کے اندر کر لیا گیا پھر وہ گاڑی یکم جون 2014ءکو ڈی او سپیشل پلاننگ فیصل آباد کو الاٹ کر کے ان کی تحویل میں دے دی گئی اور عجلت میں ذمہ داران اس الاٹمنٹ آرڈر کو بھول گئے اور 3جون کو اسی الاٹمنٹ اتھارٹی نے اس گاڑی کے خرد برد کامقدمہ زیر دفعہ 409ت پ تھانہ سول لائنز میںدرج کرا دیا جس سے ذمہ داران کی ”بوکھلاہٹ اور قانونی غلطیوں“کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے یہ گاڑی پہلے اقبال سٹیڈیم کے کیئرٹیکر کی قانونی تحویل میں تھی جوبعدازاں ریاض نامی ایک آفیسر کو دے دی گئی جو اس گاڑی کے لئے سرکاری طور پر پٹرول وغیرہ بھی لیتے رہے مرمت وغیرہ بھی کرواتے رہے پھر گن مین عمران کی وفاداری کی دیکھتے ہوئے اس کے حوالے کر دی گئی جو تقریباً 16روز قبل تک اس کے پاس تھی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اب گن مین کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے انکوائری افسر کے حوالے کیا جانے والا ہے دریں اثناءبدھ کے روز اس کیس کے انکوائری افسر زاہد مسعود نظای نے جب تین سب رجسٹرار اور 6رجسٹری محرروں کو انکوائری میں شامل ہونے کے لئے طلب کیا تھا‘ تب تینوں سب رجسٹرار تو نہ پہنچ سکے مگر 6رجسٹری محرر ضرور پہنچ گئے جنہوں نے شامل تفتیش ہونے سے پہلے سوچ بچار کرنے کا وقت لے لیا تاہم بعدازاں رات کو انہوں نے انکوائری افسر کواپنا اپنا بیان قلم بند کروایا جس میں باخبر ذرائع کے مطابق انہوں نے بتایا کہ انہوں نے نہ تو عمران گن مین کو کوئی ”فٹیک“ کی رقم دی اور نہ ہی عمران نے ان سے کوئی رقم مانگی‘ ایسے ہی بیان کے دیئے جانے کی توقع کی جا رہی تھی مگر ڈی سی او تو 24مئی کو لکھے گئے مراسلہ میں یہ خود ہی کہہ چکے تھے کہ انہیں لاکھوں روپے کی وصولیوں کی شکایت ملی ہے اور اس معاملہ میں ملوث دیگر افراد کو پکڑنے کا بھی کہہ چکے تھے‘ اس طرح چھ رجسٹری محرروں کے اس بیان کے بعد کیس نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے اور اب گن مین کے بیان کے بعد یہ کیس اپنے نئے راستے متعین کرے گا بعض بااثر حلقے اس انتہائی حساس نوعیت کے کیس کو ان سابقہ ڈی سی اوز کی طرف بھی موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کے ساتھ عمران نے بطور گن مین ڈیوٹی کی ہے اس طرح اس کیس کو دوسری جانب الجھانے کی کوشش کر کے اپنی کرپشن کو دوسروں کے کھاتوں میں ڈالنے کی سعی کی جا رہی ہے۔

گن مین گرفتار

مزید : علاقائی


loading...