برطانوی حکومت سے اجازت ملنے پر قائم مقام ہائی کمشنز کی الطاف حسین سے ہسپتال میں ملاقات

برطانوی حکومت سے اجازت ملنے پر قائم مقام ہائی کمشنز کی الطاف حسین سے ہسپتال ...

  



                                                       لندن/کراچی(بےورورپورٹ، اے این این )برطانیہ نے پاکستان کومتحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین تک سفارتی رسائی دے دی، اجازت ملنے کے بعد لندن میں پاکستان کے قائم مقام ہائی کمشنرعمران مرزا کی سربراہی میں 3رکنی سفارتی وفد نے الطاف حسین سے ملاقات کی اورا نہےں بھرپور قانونی معاونت کی یقین دہانی کرائی،ادھر کراچی میں ایم کیو ایم کے سربراہ کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری رہا،لیاقت آباد، گلشن اقبال، ناظم آباد، گلبہار اور پاک کالونی میں زبردستی کاروبار بند کرا دیا گیا ۔ تفصےل کے مطابق برطانوی حکام کی اجازت کے بعد قائم مقام پاکستانی ہائی کمشنر عمران مرزا کی قیادت میں 3 رکنی سفارتی عملے نے لندن کے ویلنگٹن ہسپتال میں زیرعلاج متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین سے ملاقات کی ۔ عمران مرزا نے ایم کیو ایم کے قائد سے ان کے طبیعت پوچھی اور موجودہ صورت حال پر تفصیلی خیال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے الطاف حسین کی بھرپور قانونی معاونت کی بھی یقین دہانی کرائی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے قائم مقام پاکستانی ہائی کمشنر نے کہا کہ بات چےت کی الطاف حسین ذرابھی پریشان نظرنہیں آئے، ان کا حوصلہ انتہائی بلند ہے، انھیں ہسپتال میں بہترین طبی امداد فراہم کی جارہی ہیں جبکہ پولیس بھی مکمل طور پر تعاون کیا جارہا ہے، الطاف حسین نے ملاقات کے دوران، صدر مملکت ممنون حسین وزیر اعظم نوازشریف اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پیغام دیاہے کہ دوستوں کوبتائیں کہ فکرکرنےکی ضرورت نہیں، انھیں جب بھی ضرورت پڑی وہ پاکستانی ہائی کمیشن سے رابطہ کریں گے۔ الطاف حسین نے عوام کیلئے نیک تمناﺅں کا اظہار کیا ہے ،دوسری جانب ڈاکٹروں نے الطاف حسین کے بلڈ پریشر اور شوگر لیول کو نارمل قرار دے دیا ہے ۔ برطانیہ میں رائج طبی قوانین کے تحت اینجیو گرافی کے بعد بھی الطاف حسین کو کم از کم 8 سے 10 گھنٹے مکمل آرام کی ضرورت ہے جس کے بعد ڈاکٹروں کی ہدایات پر ہی اسکاٹ لینڈ یارڈ کے اہلکار ان سے پوچھ گچھ کرسکیں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان نے گزشتہ روز لندن میں قائم ہائی کمیشن کے توسط سے برطانیہ کو الطاف حسین تک کونسل رسائی کی درخواست دی تھی۔ الطاف حسین اس وقت برطانوی پولیس کی حراست میں لندن کے ولنگٹن ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں جہاں انھیں منگل کی شام لایا گیا تھا۔ دریں اثناءکراچی میںایم کیو ایم کے سربراہ کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ الطاف حسین کی گرفتاری کے تیسرے دن کراچی میں کاروباری سرگرمیاں بحال ہوئے ابھی چند ہی گھنٹے گزرے تھے کہ بعض علاقوں میں بازار اور مارکیٹیں بند ہونا شروع ہوگئیں، جبکہ حیدر آباد شہر کے بڑے حصے کو بھی بند کرا لیا گیا ہے۔ کراچی کے تاجر اتحاد کے رہنما عتیق میر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لیاقت آباد، گلشن اقبال، ناظم آباد، گلبہار اور پاک کالونی میں زبردستی کاروبار بند کرا لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتاےا کہ موٹر سائیکل پر سوار افراد نے دکان داروں کو للکارتے ہوئے کہا کہ کاروبار بند کردو ورنہ اچھا نہیں ہوگا، جس کے بعد مارکیٹیں بند ہونا شروع ہوگئیں۔ عتیق میر نے کہا کہ انھوں نے پولیس اور رینجرز سے رابطہ کر کے مطالبہ کیا کہ دکانداروں کو تحفظ فراہم کیا جائے کیونکہ دو روز کاروبار بند رہنے سے پہلے ہی بہت نقصان ہوچکا ہے۔ کراچی میں برنس روڈ، صدر، کلفٹن، لانڈھی سمیت ستر فیصد کاروباری اور تجارتی مراکز بند ہوگئے جبکہ فائرنگ اور کاروبار بند ہونے پر نجی گاڑیوں کے مالکان نے پیٹرول پمپوں کا رخ کیا جہاں رش لگ گیا لیکن بعد میں پیٹرول پمپ، بینکوں سمیت تمام نجی ادارے بند ہوگئے۔ شہر کے بند ہونے پر صوبائی حکومت خاموش ہے۔ لوگوں کی جانب سے گھروں کا رخ اختیار کرنے کی وجہ سے ایک بار پھر سڑکوں پر ٹریفک جام اور افرا تفری کے مناظر نظر آئے۔ اس سے پہلے جمعرات کی صبح گذشتہ دو روز سے رکے ہوئے معمولاتِ زندگی سے بحال ہونا شروع ہوئے تھے اور کاروباری مراکز کھل گئے تھے، سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی آگئی تھی جبکہ گیس سٹیشن اور پیٹرول پمپوں نے بھی اپنے کاروبار کا آغاز کیا تھا۔ متحدہ قومی موومنٹ( ایم کیو ایم) کے قائدالطاف حسین سے اظہار یکجہتی کے لئے کارکنوں اور ہمدردوں کی جانب سے کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں دھرنوں کا سلسلہ مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہا۔تفصیلات کے مطابق لندن میں الطاف حسین کی منی لانڈرنگ کیس میں گرفتاری کے بعد ایم کیو ایم کے کارکنان اور ہمدردوں کی جانب سے کراچی میں نمائش چورنگی پر دھرنا تیسرے روز بھی جاری رہا۔۔ دھرنے میں بچوں، بوڑھوں، نوجوانوں اور خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ دھرنے میں شریک افراد کے لئے ناشتے اور کھانے کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا۔ دھرنے کے شرکا کو گرمی کی شدت سے بچانے کے لئے سائبان کے نیچے پنکھوں، ٹھندے پانی، مشروبات اور اس کے علاوہ عارضی ٹوائلٹ بھی بنائے گئے ہیں۔ دھرنے کے شرکا نے الطاف حسین کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں جبکہ کارکنان کی جانب سے الطاف حسین کے حق میں مسلسل شدید نعرے بازی بھی کی جارہی تھی۔ دھرنے کے شرکاءکہناتھا کہ الطاف حسین کی رہائی تک دھرنا جاری رہے گا۔ایم کیوایم کے پارلیمنٹرین، رابطہ کمیٹی کراچی تنظیمی کمیٹی کے اراکین پنڈال میں دھرنے کے شرکا کا حوصلہ بڑھانے کے لئے آ جا رہے ہیں۔ دوسری جانب گرو مندر سے نمائش چورنگی کی طرف جانے والے تمام رستے بند کر دیئے گئے ہیں،ایم کیو ایم کے رضا کاروں کا کہنا ہے کہ عوام دھرنے کے باعث اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے نمائش چورنگی کے بجائے متبادل راستہ اختیار کریں۔الطاف حسین کی گرفتاری کے خلاف ان سے اظہار یک جہتی کے لئے حیدرآباد، سکھر، جامشورو، سانگھڑ، ٹنڈوآدم اور ملک کے دیگر شہروں میں بھی ایم کیو ایم کی جانب سے دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے۔واضح رہے کہ 3 روز قبل لندن میں اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے الطاف حسین کو منی لانڈرنگ کے الزام میں ان کی رہائش گھر سے گرفتاری کی خبر کے ساتھ ہی کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ایم کیو ایم کی جانب سے دھرنوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

مزید : صفحہ اول


loading...