اسحٰق ڈار کا 5سالوں میں 500انجن لانیکا خواب انکے اپنے دور میں پورا ہونا ممکن نہیں

اسحٰق ڈار کا 5سالوں میں 500انجن لانیکا خواب انکے اپنے دور میں پورا ہونا ممکن ...

  



 لاہور(رپورٹ :حنیف خان)وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا پانچ سالوں میں 500انجن لانے کا خواب ان کی دور حکومت میں پورا ہوتا نظر نہیں آرہا ۔اس بات کا قومی امکان ہے کہ اگر عملی اقدامات اٹھائے بھی گئے تو آنے والی برسر اقتدا ر حکومت اس اقدام سے فائدہ اٹھائے گی۔پاکستانی پیپرا رولز اور تکنیکی وجوہات آڑے آنے کے پیش نظر پانچ سالوں میں 500انجن خریدنے کو عملی جامع پہنانا مشکل ترین عمل ثابت ہوگا ۔جبکہ 1500بوگیاں خریدنا ممکن ہوسکتا ہے،پیپرارولز اور تکنیکی وجوہات کے باعث پیپلزپارٹی کی حکومت بھی اپنے دور حکومت میں ایک انجن بھی پاکستان نہیں لاسکی ۔اگر ٹینڈر کرنے میں کامیاب ہوجاتی تو ریلوے افسروں کی کوتاہی کی وجہ سے عدالتی حکم امتناعی سامنے آجاتے جس کے نتیجے میں پیپلزپا رٹی کی حکومت انجن خریدنے میں ناکا م رہی اور یہ ہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت بھی ابھی ایک سال مکمل ہوجانے کے بعد بھی نیا ایک انجن ٹریک پر نہیں لاسکی جو چین سے 58انجن منگوائے جارہے ہیں وہ پیپلز پارٹی کے دور میں معاہدہ ہوا تھا جس کے ثمرات موجودہ حکومت کو ملیں ۔ماضی کے مطابق پیپلز پارٹی نے سال 2009-10 کا بجٹ پیش کرنے سے لے سال 2012تک دعوے کرتے رہے کہ ریلوے کی بحالی کے لئے انجن منگوائے جائیں گے اس کے لئے رقم بھی مختص کی گئی لیکن انجنوں کی خریداری کا خواب پورا نہیں ہوسکا معاہدہ ضرور پایا مگر انجن ان کے دور میں ٹریک پر نہیں آسکے ۔پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں 150انجن خریدنے کااوپن ٹینڈر ہوا جس میں جنرل الیکٹر ک اور جنرل موٹرز کمپنی نے شرکت کی دونوں کمپنیاں امریکی ہیں یہ ٹینڈر جنرل الیکٹرک کمپنی نے جیت لیا تاہم ٹینڈرہارنے والی کمپنی جنرل موٹر عدالت چلی گئی اور حکم امتناعی لے آئی ۔جس کے باعث ابھی تک مذکورہ (150)انجن خریدے نہیں جاسکے ۔جبکہ پیپلز پارٹی کے سابق دور میں ہی چین کی 58انجن خریدنے کا معاہد ہ طے پایا اس حکومت کی کوشش کے باوجود ان کے دور میں یہ انجن پاکستان نہیں پہنچ سکے اور موجودہ حکومت کے دور میں ان 58انجنوں میں ابھی 14انجن پاکستان پہنچے جبکہ باقی انجن آنا باقی ہے ا س طویل عمل کی بڑی وجہ پیپرا رولزپر عمل درآمد اور تکینکی وجوہات ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ اگرحکومت کی طرف سے انجنوں کی خریداری کی باقاعدہ ہدایت بھی کردی جائے تو اس عمل کو پورا ہوتے ہوئے کم از کم چار سال لگیں گے جس کے بعد انجن پاکستان آنا شروع ہونگے ۔ذرائع نے بتایا کہ جب انجن خریدنے کی ہدایت ملتی ہے تو شعبہ مکینیکل کی ٹیم انجنوں کے حوالے سے تکنیکی بنیادوں پر سمری تیارکرے گی جس میں سپیئر پارٹس کی ڈیمانڈ اور ریٹس سمیت دیگر جمع تفریق کی جائے گی یہ سمری ریلو ے ہیڈکواٹر سے ہوتے ہوئے وزارت ریلوے پہنچے گی جہاں پر اس کا بغور جائزہ لیا جائے گا او ر اس سمری کی نوک پلک سنواری جائے گی اس سمری کی ساری کے عمل کو سنجیدگی کے ساتھ بھی لیا جائے تو کم اکم نو سے بارہ مہینے تک لگ سکتے ہیں جس کے بعد پیپرا رولز اور دیگر قواعد و ضوابط پر عمل پیرا ہونے کا وقت آتا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سارے عمل کے بعد ٹینڈر ہوتے ہوئے کم ازکم ڈیڑھ سال لگ جائے گا اور جو کمپنی ٹینڈ جیتے گی اس کے بعد قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے مذید چھ سات مہینے صر ف ہونگے اور پھر انجن کی تیاری کا مرحلہ آئے گا اور انجنوں کی تیاری پر کم ازکم چار ساڑھے چار سال لگیں گے جب تک اس حکومت کی آئینی مدت بھی پوری ہوچکی ہوگی اور حکومت کا انجن ٹریک پر لانے کا خواب اپنے دور حکومت میں پورا نہیں ہوسکے گا۔ واضح رہے کہ ریلوے انتظامیہ جلد ہی 20انجن خریدنے کا ٹینڈر اوپن کرنے کی تیاری کرچکی ہے یہ 20انجن ہی ان کے دور میں آجائیں تو بڑی بات ہوگی۔ذرائع نے مذید بتایا کہ انجنوں کی تیاری میں چار ساڑھے چار سال لگنے کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں براڈ گیج پر انجن چلائے جاتے ہیں جبکہ دنیا بھر میں سٹینڈر گیج پر انجن چلائے جاتے ہیں جو بھی کمپنی پاکستان ریلوے کو انجن دینے کا ٹینڈر جیتی ہے تو وہ براڈ گیج کے مطابق اسپیشل یونٹس لگاتی ہے اور انجن تیارکرتی ہے ۔علاوہ ازیں بوگیوں کی خریداری کے لئے تکینکی معاملات کا مرحلہ اتنا طویل نہیں ہوگا جس کے باعث موجودہ حکومت کے دور میں ہی 1500بوگیوں کا پاکستان آنا ممکن ہے اور یہ بوگیاں پاکستان باآسانی ٹریک پر رواں دواں ہوسکتی ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...