بونس حصص پر پانچ فیصد ٹیکس واپس لیا جائے،بروکرز، سرمایہ کار

بونس حصص پر پانچ فیصد ٹیکس واپس لیا جائے،بروکرز، سرمایہ کار

  



لاہور(کامرس رپورٹر)سٹاک مارکیٹ کے بروکرز اور سرمایہ کاروں نے نئے مالی سال کے بجٹ کو ایک متوازن بجٹ قرار دیا ہے اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے اپیل کی ہے کہ کمپنیوں کی جانب سے جاری کئے جانے والے بونس حصص پر پانچ فیصد ٹیکس واپس لیا جائے کیونکہ اس ٹیکس کے نفاذ سے سرمایہ کار متاثر ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار لاہور سٹاک مارکیٹ کے بروکرز محمد لطیف،ابرار احمد،شبیر احمد،وسیم احمد اور عبدالرزاق نے اپنے بجٹ ردعمل میں کیا۔ان سٹاک بروکرز اور سرمایہ کاروں نے نئے وفاقی بجٹ کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ موجودہ حالات میں اس سے بہترین بجٹ پیش نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ حکومت نے نئے بجٹ میں سٹاک مارکیٹ پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا صرف کیپٹل گین ٹیکس میں اڑھائی فیصد کا اضافہ کیا ہے جس سے سٹاک مارکیٹ پر کسی قسم کا منفی اثر نہیں پڑے گا تاہم 30جون2014ء کو ختم ہونے والی ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں توسیع کی جائے کیونکہ اس سکیم کے تحت سٹاک مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری ہوئی ہے جس کی وجہ سے گزشتہ ایک سال کے دوران سٹاک مارکیٹ کے انڈکس میں 30فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے ۔ان سٹاک بروکرز کا کہنا ہے کہ بجٹ میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 34فیصد سے کم کر کے 33فیصد کرنے کے سٹاک مارکیٹ پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔بجٹ میں ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے مراعاتی پیکج کے اعلان سے سٹاک مارکیٹ میں ٹیکسٹائل سے متعلقہ لسٹڈ کمپنیوں کی کارکردگی بہتر ہوگی اور منافع بڑھے گا جس سے سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچے گا اسی طرح ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کو بجٹ میں دی جانے والی مراعات سے بھی آئی ٹی سیکٹر کی کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔ان سٹاک بروکرز کا کہنا تھا کہ اس وقت سٹاک مارکیٹ پر متعدد ٹیکس عائد ہیں جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو مشکلات کا سامنا ہے لہٰذا وفاقی ٹیکسوں کے علاوہ سٹاک مارکیٹ میں کسی قسم کا صوبائی ٹیکس عائد نہیں ہونا چاہئے۔

مزید : صفحہ آخر