علماء کونسل نے مذہب کے نام پر دہشت گروی و قتل و غارت کو خلاف اسلام قرار دیدیا

علماء کونسل نے مذہب کے نام پر دہشت گروی و قتل و غارت کو خلاف اسلام قرار دیدیا

  



اسلام آباد(آن لائن+اے این این ) علماء کونسل کے زیر اہتمام بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس میں مذہب کے نام پر پر دہشت گردی اور قتل و غارت کو خلاف اسلام قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کسی بھی اسلامی فرقے کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا، کسی بھی مسلم یا غیر مسلم کو ماورائے عدالت واجب القتل قرار نہیں دیا جائے گا، اذان اور عربی کے خطے کے علاوہ لاڈ سپیکر پر مکمل پابندی ہو گی، شر انگیز مواد کی اشاعت، تقسیم اور ترسیل نہیں کی جائے گی، شر انگیز مواد کی انٹرنیٹ یا سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اشاعت پر مکمل پابندی ہو گی ۔ بین المسالک وبین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس جمعرات کویہاں مقامی ہوٹل میں منعقدہوئی جس میں ملک بھر سے علماء کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ وزیراطلاعات پرویزرشید، وزیر برائے مذہبی امور سردار یوسف، چیئرمین پاکستان علماء کونسل طاہرالشرفی، فلسطین ، تاجکستان اور آسٹریلین سفیروں کے علاوہ ناروے کی خاتون سفیر بھی کانفرنس میں شریک ہوئیں ۔کانفرنس میں اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان قیام امن کیلئے بین المسالک اور بین المذاہب اتحاد ناگزیر ہے۔ کانفرنس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تمام پاکستانیوں کے حقوق برابر ہیں، خواہ وہ مسلم ہیں یا غیر مسلم۔ ملک میں مذہب کے نام پر دہشتگردی، قتل و غارت خلاف اسلام ہے۔ اعلامیے کے مطابق کسی بھی اسلامی فرقے کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا۔ کسی بھی مسلم یا غیر مسلم کو ماورائے عدالت واجب القتل قرار نہیں دیا جائے گا۔ تمام مذاہب کے مقدس مقامات کی حفاظت بھی مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور مقدس مقامات کو نشانہ بنانے والے ہاتھوں سے سختی سے نمٹا جائے جو لوگ کہتے ہیں کہ اسلام میں غیرت کے نام پر بیٹیوں کو قتل کردینا جائز ہے ان پر حکومت تین ، تین مقدمات چلائیں، ایک قتل کا ، دوسرا فساد پھیلانے کا اور تیسرا اسلام کو غلط رنگ دینے کا ہے۔ عربی خطے اور اذان کے علاوہ لاؤڈ سپیکر پر پابندی ہوگی، دوسرے مذاہب کو لاؤڈ سپیکر کے استعمال کیلئے مقامی انتظامیہ سے اجازت لینی ہوگی۔ اذان اور عربی کے خطے کے علاوہ لاڈ سپیکر پر مکمل پابندی ہو گی۔ شر انگیز مواد کی اشاعت، تقسیم اور ترسیل نہیں کی جائے گی۔ شر انگیز مواد کی انٹرنیٹ یا سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اشاعت پر مکمل پابندی ہو گی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہندو اور سکھ برادری کی قیادت کے ساتھ مل بیٹھ کر معاملات کے حل کی اپیل کرتے ہیں کانفرنس سے اپنے خطاب میں چیئرمین پاکستان علماء کونسل طاہر محموداشرفی نے کہا کہ پاکستان علماء کونسل نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں اسلام کی تعلیمات پھیلانے کیلئے کوششیں کررہی ہے۔ پاکستان علماء کونسل نے ہمیشہ اختلاف کی بجائے اتحاد، انتشار کی بجائے اتفاق اور ظالم کے خلاف مظلوم کے حق کی تلخ فضاؤں میں بھی بات کی ہے اور ہمارا یہ عزم ہے کہ ہم یہ سلسلہ جاری رکھیں گے، مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ پاکستان علماء کونسل نے اپنی 25 سالہ تاریخ میں ہمیشہ فرقہ وارانہ تشدد اور مختلف مذاہب کے درمیان پیدا ہونے والے تصادم کی صورتحال کے خاتمے کیلئے جدوجہد کی ہے اور الحمداللہ گزشتہ چند سالوں میں ملک کے اندر امن ، رواداری ، عورتوں کے حقوق، مختلف مسالک اور مذاہب کے درمیان متفقہ ضابطہ اخلاق کی تشکیل ، پولیو ویکسین ، ووٹ کی شرعی حیثیت اور پاکستان میں رہنے والے غیر مسلموں کے حقوق کے بارے میں جو راستہ متعین کیا ہے اس کی صدا ہر جگہ سے آرہی ہے جس پر میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ غیر ملکی سفیروں اور دیگر علماء کرام نے مختصراً خطاب اس بات کا مکمل اعادہ کیا گیا کہ پاکستان میں تمام مذاہب اور مسالک کے درمیان اتحاد قائم کرکے بہتر تعلقات استوار کیے جانے چاہیے۔ مذہبی امورکے وزیر سردار محمد یوسف نے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان مکالمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ حکومت مختلف فرقوں اور مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور برداشت کے کلچرکو فروغ دینے میں یقین رکھتی ہے، اسلام میں کسی کو تکلیف دینے کی بالکل بھی گنجائش نہیں ، مسلمان ہونے کی حیثیت سے اقلیتوں کو زندگی گزارنے کی مکمل آزادی دیناہماری ذمہ داری ہے ۔ وہ جمعرات کویہاں ایک مقامی ہوٹل میں بین المذاہب ہم آہنگی کے بارے میں قومی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔سردارمحمدیوسف نے کہاکہ جب سے ہماری حکومت قائم ہوئی ہے، ہم نے تمام علماء کرام کو لیکر پریس کانفرنسز کی ہیں۔ حکومت کی یہ خواہش ہے کہ تمام مذاہب کے درمیان بہتر تعلقات اور اتحاد قائم کیا جائے۔ اسلام میں کسی کو تکلیف دینے کی بالکل بھی گنجائش نہیں ہے، مسلمان ہونے کے ناطے ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اقلیتوں کو بھی اپنی زندگی گزارنے کی مکمل آزادی دیں۔ اسلام زبردستی کسی کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرنا یا کسی کمسن لڑکی کی زبردستی شادی کروانے کی قطعاً اجازت نہیں ۔انہوں نے کہاکہ 1973ء کے آئین میں بھی تمام شہریوں کے حقوق برابر قرار دئیے گئے ہیں چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے ہمیشہ تمام ممالک کی آزادی کیلئے آواز اٹھائی ہے۔ آج پاکستان میں بھی اس بات کی بڑی ضرورت ہے کہ مسلمان اور دوسرے تمام مذاہب کے لوگوں میں بہتر تعلقات استوار ہوں۔ سرکاری سطح پر ایک کونسل بھی قائم کی جانی چاہیے جس میں ہر مذہب کو مساوی نمائندگی دی جائے اور مزید اس طرح کی بین المذاہب اتحاد کانفرنسیں بھی منعقد ہونی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ طالبان سے مذاکرات امن کی خاطر شروع کئے تھے۔

مزید : صفحہ آخر