اگلے انتخابات بائیو میٹرک سسٹم اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر ہو ں گے ،انتخابی اصلاحات کا دوسرا سٹر ٹیجک منصوبہ جاری

اگلے انتخابات بائیو میٹرک سسٹم اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر ہو ں گے ،انتخابی ...

  



                                   اسلام آباد(اے این این)سیکرٹری الیکشن کمشن اشتیاق احمد خان نے انتخابی اصلاحات کا دوسرا پانچ سالہ سٹرٹیجک منصوبہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے انتخابات بائیو میٹرک سسٹم اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر ہوں گے، نئی حلقہ بندیاں مردم شماری کے بغیر نہیں ہوسکتیں، الیکشن کمیشن کے ممبران کی میعاد2016ءمیں مکمل ہوگی ، عمران کے چار حلقوں کو کھولنے کا مطالبہ پر اعتراض نہیں، تصدیق ہونی چاہیے گزشتہ الیکشن سیاسی جماعتوں کے مطالبے پر ہی عدلیہ کی زیر نگرانی کرائے تھے۔ جمعرات کی شام الیکشن کمیشن میں پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات برائے 2014-18ءکے منصوبے کا اجراءکررہے ہیں۔ انتخابی اصلاحات سیاسی مطالبہ بھی ہے۔یہ اصلاحات راتوں رات نہیں ہوسکتیں بلکہ بتدریجی عمل ہیں۔ انتخابی اصلاحات کا عمل 2009ءمیں شروع ہوا تھا ، ہم انتخابی عمل میں خامیاں دور کرکے اسے شفاف بنانا چاہتے ہیں۔ ہم نے گزشتہ 5 سال میں پہلے پانچ سالہ منصوبے کے تحت بہت کام کیا ہے۔ ہم مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ شفاف انتخابات ہماری منزل ہیں۔ کمپیوٹرائزڈ ووٹر لسٹ ہماری کامیابی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ 2سال کے اندر اندر الیکٹرانک ووٹنگ مشین متعارف کرادیں گے جس کیلئے بعض کمپنیوں کو آرڈر دیدئیے گئے ہیں تاہم اس کے استعمال کیلئے قانون سازی درکار ہے۔ سیکرٹری نے کہا کہ 2013ءکے عام انتخابات سیاسی جماعتوں کے ہی مطالبے پر عدلیہ کی نگرانی میں کرائے گئے تھے۔ الیکشن میں فوج کا کردار مستحسن تھا۔ غیر ملکی مبصرین نے الیکشن کو شفاف اور تاریخی قرار دیا تھا۔ انتخابات کے بعد 399 عرضداشتیں الیکشن ٹریبونل میں دائر ہوئیں جن میں 300 نمٹا دی گئیں ہیں 99 باقی رہ گئیں ہیں۔ الیکشن کے بارے میں قائم این جی او فافن نے بعض حلقوں میں صرف بد انتظامی کی بات کی ہے دھاندلی کی نہیں کی ۔ ایسے 35 حلقوں کا تعلق تمام صوبوں سے ہے اور ان حلقوں میں تقریباً تمام جماعتوں نے نشستیں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کیلئے قومی اسمبلی کے حلقوں کیلئے 9 کروڑ 20 لاکھ 85 ہزار اور صوبائی اسمبلیوں کیلئے 8 کروڑ96 لاکھ بیلٹ پیپر چھپوائے گئے جس کا سارا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے کسی کو شکایت ہے تو الیکشن ٹریبونلز سے رجوع کرے ۔ تمام بیلٹ پیپرز کے سیریل نمبر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھاندلی کے الزامات لگانے والے ثبوت لائیں۔ سیکرٹری نے نئے منصوبے کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں آئندہ بلدیاتی الیکشن میں بائیو میٹرک سسٹم نافذ ہوگا۔ سندھ حکومت نے بھی درخواست دیدی ہے۔ اگلے عام انتخابات میں بائیو میٹرک سسٹم اور بیرونی ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ دینے کا حق دینے کیلئے قانون سازی ضروری ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کیلئے مردم شماری ناگزیر ہے جو 16سال سے نہیں ہوئی ۔ نئی حلقہ بندیوں میں امیدوار ویب سائٹ پر اپنے حلقہ کا نقشہ دیکھ سکے گا۔ انتخابی اصلاحات کا سیاسی ماحول بنا ہوا ہے۔ آئندہ عام انتخابات 2018 میں ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کے ممبران کی میعاد11 جون 2016 میں مکمل ہوگی۔ اس گیارہ جون کو ممبران کے تین سال پورے ہوں گے۔18ویں ترمیم کے تحت انکی مدت 5 سال ہے ۔ دھاندلی کی شکایت پر ہمارے پاس ازخود نوٹس کا اختیار نہیں۔ کے پی میں بلدیاتی انتخابات خود صوبائی حکومت کی درخواست پر التواءکا شکار ہیں۔ امید ہے یہ نومبر کے آس پاس ہوں گے۔ وہ بائیو میٹرکس پر الیکشن کراناچاہتے ہیں ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے چار حلقوں کی تصدیق کے مطالبے پر ہمیں اعتراض نہیں ہے تاہم یہ کام الیکشن ٹریبونل کا ہے۔ ہمارا موقف ہے کہ تصدیق ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ یورپی یونین نے اگر بعض خامیوں کی نشاندہی کی ہے تو متعلقہ امیدوار الیکشن ٹریبونل سے رجوع کرسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا جمعے کے جمعے الیکشن کے سامنے احتجاج کرنا جمہوریت کا حسن ہے۔ احتجاج ان کا حق ہے۔ الیکشن کمیشن کے اراکین کو ہٹانے کا طریقہ کار آئین میں درج ہے اور یہ کام صرف سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل ہی کرسکتی ہے۔ کسی ممبر کی طرف سے استعفیٰ کی پیشکش کا ہمیں علم نہیں ہے۔

سیکرٹری الیکشن کمشن

مزید : صفحہ اول


loading...