شیخوپو ر ہ، پولیس کے نجی ٹارچر سیل میں فائرنگ سے 2افراد جاں بحق، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او معطل

شیخوپو ر ہ، پولیس کے نجی ٹارچر سیل میں فائرنگ سے 2افراد جاں بحق، ڈی ایس پی اور ...

  



 شیخوپو ر ہ(بیورورپورٹ)شیخوپورہ کی پوش آبادی گھنگ روڈ شمالی گلی نمبر 13میں کم و بیش گزشتہ دس برس سے چلنے والے پولیس کے ٹارچر سیل میں فائرنگ سے ماہمونوالی گاؤں کا نوجوان عباس جان کی بازی ہار گیا جبکہ اس ٹارچر سیل کو چلانے والے اے ایس آئی سیف اکبر کا محافظ رضا کار ریاض احمد گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا جسے مخدوش حالت کی بناء پر میو ہسپتال لاہور پہنچادیا گیاجہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے دو افراد کی ہلاکت کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی صدر سرکل ملک محمد منشاء، ایس ایچ او بھکھی فیصل عباس چدھڑ کو فوری طور پر معطل کردیا ہے جبکہ اے ایس آئی سیف الاکبر اور اسکے کانسٹیبل بھائی شمس اکبر کی برخاستگی اور دیگر ملزمان سمیت ان کی فوری گرفتاری کا حکم دیکر رپورٹ 48گھنٹے میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔دوہرے قتل کی اس واردات کی بابت موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق مقتول عباس کو تھانہ بھکھی پولیس نے گزشتہ دنوں موٹر سائیکل چوری کے شبہ میں گرفتار کیا جسے تھانہ کی حوالات میں رکھنے کی بجائے اے ایس آئی سیف اکبر نے اپنے مذکورہ نجی ٹارچر سیل میں لا کر غیر قانونی طور پر مبحوس کردیاجہاں اسے تھرڈ ڈگری تشدد کا نشانہ بناتا رہا اور اس کی جاں خلاصی کے عوض دو لاکھ روپے مانگے جو مقتول کے ورثاء کی طرف سے ادا نہ کرسکنے پر اسے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا، واقعہ کی اطلاع پا کر ڈی پی او شیخوپورہ افضال احمد کوثر تھانہ سٹی اے ڈویژن اور تھانہ بھکھی پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے جہاں سٹی اے ڈویژن پولیس نے مقتول عباس کی نعش اپنی تحویل میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچا دی ہے، تاہم ڈی پی او کی آمد سے قبل وہاں پر موجود اے ایس آئی سیف اکبر سمیت چار افراد فرار ہوگئے ڈی پی او افضال کوثر کی ہدایت پر پولیس نے اس ٹارچر سیل میں صفائی وغیرہ کا کام کرنے والے شخص بشیر احمد جو لاہور روڈ کی آبادی جاوید نگر کا رہائشی بتایا گیا ہے کو حراست میں لے لیا ہے جس نے ڈی پی او افضال کوثر ، ڈی ایس پی مرزاعارف رشید، ایس ایچ او تھانہ اے ڈویژن رانا اقبال احمد خاں کی موجودگی میں بتایا کہ عباس کو اے ایس آئی سیف اکبر تین روز قبل ماہمونوالی سے چوری کے شبہ کی بناء پر پکڑ کر لایا تھا اور اس پر تھرڈ ڈگری تشدد کیا جارہا تھا فائرنگ کے وقت اے ایس آئی سیف اکبر، اسکا بھائی شمس اورایڈووکیٹ محمد علی پاشا وہاں موجود تھے جس کی موجودگی میں اے ایس آئی سیف اکبر نے محمد عباس کو گولی ماری اس دوران رضا کار ریاض بھی گولی لگنے سے زخمی ہوگیا ،ایک اطلاع کے مطابق تھانہ سٹی اے ڈویژن پولیس نے مقتول عباس کے پھوپھی زاد بھائی محمد شریف کی رپورٹ پر اے ایس آئی سیف اکبر، اسکے کانسٹیبل بھائی شمس اکبر ، وکیل محمد علی پاشا اور دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے، بعدازاں اس واقعہ کی بابت ڈی پی او شیخوپورہ افضال احمد کوثر نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم کے بعد ایس ایچ او، اے ایس آئی اور کانسٹیبل کو معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف محکمانہ کاروائی کا بھی حکم جاری کردیاہے۔دوہرے مقدمہ قتل میں ملوث اے ایس آئی سیف اکبر اور اسکے کانسٹیبل بھائی شمس اکبر کی گرفتاری کیلئے پولیس ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جنہیں بہت جلد گرفتار کرلیا جائے گا، جبکہ وقوعہ کی تفتیش ایس پی انویسٹی گیشن پر مشتمل ایک انکوائری ٹیم کرے گی،انہوں نے کہا کہ کسی بھی پولیس افسر یا ملازم کو ہرگز یہ اختیار نہیں کہ کسی قسم کے جرائم میں ملوث ملزم کو اپنے نجی ٹارچر سیل میں رکھ کر اسکی تفتیش یا تشددکرے،علاوہ ازیں مقامی افراد کے مطابق عرصہ دراز سے قائم مذکورہ نجی ٹارچرسیل عوام کے بار بار احتجاج کے باوجود بند نہیں کیا گیا اس سیل میں رات کے وقت پولیس تشدد کے دوران نکلنے والی چیخیں دور دور تک سنائی دیتی تھیں اور گرد و نواح میں محلے داروں کے بچے اور خواتین رات بھر سہمے رہتے تھے اس سے قبل بھی اس سیل میں کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...