این میری شمل کی کتاب کا ترجمہ نعیم اللّٰہ ملک کی تخلیق مکررہے

این میری شمل کی کتاب کا ترجمہ نعیم اللّٰہ ملک کی تخلیق مکررہے

  



لاہور ( پ ر ) لاہور پریس کلب لٹریری سوسائٹی کے زیر اہتمام سیر ت نگار اور لائف ممبر نعیم اللہ ملک کی این میری شمل کی سیر ت النبی ﷺ پر کتاب کے ترجمہ \"محمد رسول اللہ ﷺ کی تقریب پذیرائی ہوئی ۔ تقریب کی صدارت سابق سفیر توحید احمد،مہمان خصوصی سیکرٹری محکمہ آثار قدیمہ پنجاب ، معروف دانشوراوریا مقبول جان جبکہ مقررین میں صحافی تجمل گرمانی ، طارق کامران ، پروین سجل ، چودھری محمد مشتاق ، تاثیر مصطفی، خواجہ نصیر احمد، پریس کلب کے جنرل سیکرٹری شہباز میاں، نواز کھرل ، ڈاکٹر آصف محمود جاہ، محکمہ اوقاف پنجاب کے سابق ڈائریکٹر جنرل طاہر رضا بخاری شامل تھے ، قمر زمان بھٹی نے نظامت کے فرائض انجام دئیے جبکہ چودھری اصغر علی نے نعت رسول مقبول کی سعادت حاصل کی۔ سابق سفیر توحید احمد نے خطاب میں کہا کہ جرمن خاتون سکالر این میری شمل کے پاکستان پر بہت زیادہ احسانا ت ہیں لیکن ہم نے انھیں فراموش کر دیا ہے ۔این میری شمل کو اسلام ، تصوف اور پاکستان سے گہرا لگاؤ تھا۔ انھوں نے مسلمانوں کی اپنے نبی کریم ﷺ سے محبت سے متاثر ہو کر سیرت پر کتاب لکھی۔ نعیم اللہ ملک نے کتاب کا جو ترجمہ کیا ہے وہ دراصل تخلیق مکر ر ہے ۔ اوریا مقبول جان نے کہا کہ نثر لکھتے لکھتے ان کی عمر بیت گئی لیکن انھیں ایسی سعادت نصیب نہیں ہو سکی جو نعیم اللہ ملک کو حاصل ہوئی ہے۔ نعیم اللہ ملک کو اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کے قرب سے نواز ا ہے اور یہ کتاب ان کے لئے توشہ آخرت ثابت ہو گی۔ نوجوان مذہبی دانشور نواز کھرل نے کہا کہ نعیم اللہ ملک نے عشق رسول کی چھاؤں اور محبت رسول میں ڈوب کر کتاب کا ترجمہ کیا ہے ۔ انھوں نے تقریب میں قرار داد پیش کی کہ حکومت پنجاب اس کتاب کو تعلیمی اداروں اور لائبریریوں کے لئے خریدے جسے حاضرین نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ محکمہ اوقاف پنجاب کے سابق ڈائریکٹرجنرل طاہر رضا بخاری نے کہا کہ نعیم اللہ ملک اس کتاب میں لفظوں کے پیچھے نہیں بھاگے بلکہ انھوں نے ترجمے کے بجائے سیرت نبوی کی ترجمانی کی ہے اور عشق رسول کا حق ادا کر دیا ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سیر ت النبی کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے کہا کہ محمد رسول اللہ ﷺ عشق مصطفی میں ڈوب پر لکھی گئی ہے۔ سیرت نگار نعیم اللہ ملک نے کہا کہ وہ 2007میں عمرے کے لئے گئے تو ان کی زندگی کی ڈگر بدل گئی ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ انھیں کروڑوں افراد میں سے سیرت نگاری کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔تقریب کے دوران سماجی اور فلاحی تنظیم موو آن پاکستان کے چیئرمین ایم کامران کی جانب سے علی گھمن نے تعلیمی اداروں کے لئے ایک سو کتابیں خریدنے کا اعلان کیا جس پر حاضرین نے انھیں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

مزید : صفحہ آخر


loading...