ہائیکورٹ ،مسیحی برادری پر مسلم عائلی قوانین کے اطلاق کیخلاف درخواست پر جواب طلب

ہائیکورٹ ،مسیحی برادری پر مسلم عائلی قوانین کے اطلاق کیخلاف درخواست پر جواب ...

  



لاہور(نامہ نگارًخصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے مسیحی برادری پر مسلم عائلی قوانین کے اطلاق کیخلاف دائر درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومت کو جواب داخل کرانے کیلئے نوٹس جاری کر دیئے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے یوحنا آباد کے رہائشی امین مسیح کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ شیراز ذکاء نے عدالت کو بتایا کہ ملک بھر میں مسیحی برادری پر مسلم عائلی قوانین کا اطلاق کیا جا رہا ہے اور مسیحی افراد کے خاندانی تنازعات کے حل کیلئے مسلم عائلی قوانین کے تحت فیصلے جاری کیے جا رہے ہیں جو مسیحی برادری کی روایات کیخلاف ہیں،انہوں نے بتایا کہ مسیحی افراد کے طلاق، خرچے کے دعویٰ اور دیگر خاندانی تنازعات کی سماعت کیلئے مسیحی طلاق ایکٹ 1869 لاگو ہوتا ہے، درخواست گزار کا موقف ہے کہ لاہور کی فیملی عدالت نے مسلم عائلی قانون کے تحت اسکی بیوی کے حق میں خرچہ کا دعویٰ جاری کیا ہے جو مسیحی طلاق ایکٹ 1869 کے زمرے میں نہیں آتا، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی اور صوبائی وزارت قانون کو مسیحی برادری کیلئے علیحدہ قانون سازی کرنے کی ہدایات جاری کی جائیں، درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ لاہور کی فیملی عدالت کی طرف سے مسلم عائلی قانون کے تحت اسکی بیوی کے حق میں جاری خرچے کا دعویٰ کالعدم قرار دیا جائے، عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد وفاقی اورصوبائی حکومت کو جواب داخل کرانے کیلئے نوٹس جاری کرتے سماعت 10جون تک ملتوی کر دی ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...