پولیس لیز شدہ گاڑیوں کی واپسی کیلئے نجی بینکوں کا ساتھ دینا بند کرے،لاہورہائیکورٹ

پولیس لیز شدہ گاڑیوں کی واپسی کیلئے نجی بینکوں کا ساتھ دینا بند ...

  



لاہور(نامہ نگارًخصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پولیس خان بیگ سے لیز کمپنیوں کی قسطیں ادا نہ کرنے پر صوبے بھر میں پولیس کے قبضہ میں لی گئی گاڑیوں کی رپورٹ ایک ہفتے میں طلب کر لی اور آئی جی کو ہدایت کی ہے کہ لیز شدہ گاڑیوں کی واپسی کیلئے پولیس نجی بینکوں کے کرائے کے اہلکاروں کا ساتھ دینا بند کرے۔ جسٹس عبادالرحمان لودھی اور جسٹس خالد محمود خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پولیس کی طرف سے قبضے میں لی گئی لیز شدہ کار واپس نہ کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کی، درخواست گزار مسلم کمرشل بنک کی طرف سے ایڈووکیٹ نعمان نے بنچ کو بتایا کہ بنک نے ایک شہری شفقت رضا کو لیز پر گاڑی دی، قسطوں کی عدم ادائیگی پر دونوں فریقین میں جھگڑا ہو گیا جس پر گاڑی سال 2011میں جنوبی چھاؤنی پولیس کی تحویل میں دیدی گئی ، اب تمام تنازعات حل ہونے کے باوجود پولیس گاڑی کی سپرد داری نہیں کر رہی ، ابتدائی سماعت کے بعد دو رکنی بنچ نے آئی جی پنجاب خان بیگ کو فوری طور طلب کرلیا، آدھے گھنٹے بعد آئی جی پنجاب وو رکنی بنچ کے روبرو پیش ہوئے تو عدالت نے حکم دیا کہ دو دن میں گاڑی شہری کو حوالے کر رپورٹ جمع کرائی ، عدالت نے مزید حکم دیا کہ پنجاب پولیس کے قبضے میں کھڑی تمام گاڑیوں کی تفصیلات بھی اگلے تاریخ سماعت پر پیش کی جائے، دوان سماعت جسٹس خالد محمود خان نے کہا کہ بنکوں نے غنڈے رکھے ہوئے ہیں جو راہ جاتے ہوئے شہریوں کی گاڑی کی قسطوں کی عدم ادائیگی پر انہیں ہراساں کرتے ہوئے اور گاڑی چھین لیتے ہیں جس پر متعلقہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہتی ہے، انہوں نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کہ بنکوں کے کرائے کے غنڈوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...