احمد شفیق پاکستان کا حقیقی سفیر

احمد شفیق پاکستان کا حقیقی سفیر
احمد شفیق پاکستان کا حقیقی سفیر

  



احمد شفیق کو امریکن ایوارڈ ملنے کی تصاویر آج کل کسی نہ کسی اخبار میں روزانہ ضرور شائع ہو رہی ہیں۔ احمد شفیق کون ہے ؟اس نے کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے امریکن ایوارڈ دینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ایوارڈ کیاہے؟ احمد شفیق کا انتخاب ہی کیوں کیا گیا؟ اس پر گورنر ہاوس کے دربار ہال میں ہونے والی خوبصورت تقریب کا آنکھوں دیکھا حال ٹی وی پر نشر اور اخبارات میں تصاویر کے ساتھ شائع ہو چکا ہے۔ یکم جون اتوار کے روز مجھے میرے چھوٹے بھائی اور پاکستان جرنلسٹ فورم کے روح رواں روزنامہ ’’اوصاف‘‘ کے ایڈیٹر ذوالفقار راحت کا ایس ایم ایس آیا کہ آپ نے2جون پیر کی دوپہر ساڑھے بارہ بجے کوتھم کالج 5۔سی مین گلبرگIIمیں ہمارے ساتھ لنچ کرنا ہے۔ ڈاکٹروں کی ہدایات کے بعد ہوٹل کے کھانوں سے اپنے طور پر دور رہنے کی کوشش میں ہوتا ہوں اسی لئے مَیں نے ایس ایم ایس کا جواب نہیں دیا، رات تک تین ایس ایم ایس کے ذریعے لنچ میں شریک ہونے اور ہر صورت کنفرم کرنے کا کہا جا رہا تھا۔ مَیں نے اس کے باوجود اپنے پیارے دوست کے ایس ایم ایس کو نظر انداز کیا کہ شاید جان چھوٹ جائے، مگر پیر کے دن کا آغاز پھر اسی ایس ایم ایس سے ہوا۔11بجے مَیں دفتری امور نمٹا کر فارغ ہوا تو میرے محسن جاوید اختر صاحب دفتر کے باہر گاڑی لے کر پہنچ گئے، فون پر فرمانے لگے سعودی ایئر لائن کے بابر اکرام صاحب سے ملنا ہے، مَیں نے شرط رکھنے کی کوشش کی کہ مَیں آ سکتا ہوں اگر آپ میرے ساتھ حاجی کیمپ بھی جائیں۔ جناب جاوید اختر کے ساتھ جناب ارشد صاحب موجود تھے، دونوں نے رضا مندی کا اظہار کیا۔ ہم سعودی ایئر لائن کے دفتر پہنچ گئے۔ سعودی ایئر لائن کی ہر دلعزیز اور باوقار شخصیت بابر اکرام سے ملا جائے، ان کے دفتر میں داخل ہوئے تو پتہ چلا کہ بابر اکرام بیسمنٹ میں اپنی گاڑی لانے کے لئے گئے ہیں۔ بھاگم بھاگ بیسمنٹ میں پہنچا تو بابر اکرام کا مسکراتا ہوا چہرہ بتا رہا تھا کہ گڑ بڑ ہے۔ مَیں نے عرض کیا بابر بھائی ہم سلام کرنے آئے ہیں، فرمانے لگے میری گاڑی کے دونوں سائیڈ کے شیشے کسی مہربان نے اُتار لئے ہیں یا توڑ دیئے ہیں مَیں ہنڈا والوں کے پاس جا رہا ہوں، ان کی پریشانی دیکھتے ہوئے ان سے اجازت لے کر باہر نکلا تو ذوالفقار راحت صاحب کا فون آ رہا تھا سنے بغیر اندازہ ہوا کہ ایس ایم ایس کا تسلسل ہے۔ حاجی کیمپ میں جناب سعید ملک ڈائریکٹر حج کو سلام کیا تو ان کے اصرار پر ابھی بیٹھے تھے کہ ایس ایم ایس وہ بھی دھمکی آمیز، لنچ سے چھٹی نہیں ملے گی فوراً کوتھم کالج آ جائیں۔ جاوید اختر جو میرے حرمین شریفین کے ساتھی ہیں ان سے درخواست کی آپ کے دفتر کے ساتھ کوتھم کالج ہے آپ میرے ساتھ چلیں گے، دو بج چکے تھے میرا خیال تھا لنچ ہو چکا ہو گا وہاں پہنچتے پہنچتے دس بار راحت بخشتے ہوئے ذوالفقار صاحب سے رہنمائی کرتے رہے۔ کوتھم کالج پہنچے، لڑکے لڑکیاں، اساتذہ اور انتظامیہ منظم انداز میں مہمانوں کے لئے رہنمائی میں مصروف تھے۔ ہال میں داخل ہوا تو سامنے جناب احمد شفیق کی بڑی تصاویر مختلف شخصیات کے ساتھ دیکھ کر ماضی میں کھوتا چلا گیا۔ مگر موقع پر موجود مسلم لیگ(ن) کے ایم پی اے اور سدا بہار نوجوان رانا ارشد، سمیع اللہ خان، کاظم شاہ، شاہد قادر، عظیم نذیر، میاں اسلم، سید انور، ندیم الٰہی اور دیگر سینئر صحافی موجود تھے۔ خوبصورت انداز میں لگائی گئی میز کے ایک طرف رانا ارشدصاحب، سمیع اللہ خان، شاہد قادر براجمان تھے۔ دوسری طرف ذوالفقار راحت، محفل جان نظر آ رہے تھے، میز پر کوتھم کالج کا میگزین رکھا گیا تھا تاکہ خبرکے لئے اس سے استفادہ کیا جا سکے۔ احمد شفیق کی امریکن کے ساتھ تصویر دیکھ کر چھ سات سال پہلے کی فلم چلنا شروع ہوئی۔ میرے بہت ہی عزیز علیم جاوید چودھری جو ٹوررازم کمیٹی اور چیمبر کے ممبر تھے ان کے ساتھ مختصر نشست ہوئی تھی۔ مجھے یاد ہے احمد شفیق کے ساتھ چند سال پہلے کھانے کی نشست میں علیم چودھری سے مَیں نے کہا تھا آپ کا دوست کمال ویژن کا مالک ہے یہ ضرور کمال دکھائے گا مخلص بندہ نظر آتا ہے، کئی برسوں کے بعد آج مَیں اس کے مشکل ترین نام والے کوتھم ادارے میں موجود تھا۔ خدا جانتا ہے مجھے کوتھم کا معنی نہیں پتہ تھے، مَیں نے میگزین سارا دیکھا لوگو میں لکھا تھا کوتھم ’’کالج آف ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ‘‘۔ چند سال پہلے بھی ٹورازم کے حوالے سے نشست ہوئی تھی یاد تازہ ہوتی چلی گئی اس وقت احمد شفیق اس کالج کی بنیاد رکھ رہے تھے اور آج وہ پوری دنیا کو فتح کرتے ہوئے امریکہ جا پہنچے تھے، وہاں سے سٹار آف انڈسٹری ایوارڈ حاصل کر کے آج کی مجلس میں ہیرو کی حیثیت سے اپنی کارکردگی بتا رہے تھے۔ احمد شفیق کا تعارف جناب شاہد قادر نے کراتے ہوئے رانا ارشد صاحب کو خطاب کی دعوت دی تو رانا ارشد فرمانے لگے احمد شفیق نے سٹار آف انڈسٹریز ایوارڈ حاصل کر کے پوری قوم کا سربلند کر دیا تھا مشکل ترین حالات میں پاکستان میں ہاسپٹیلٹی، ٹورازم اور ہوٹل انڈسٹریز کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں جو قابل فخر ہیں۔ پنجاب حکومت ان سے بھرپور استفادہ کرے گی۔ ذوالفقار راحت فرماتے گئے، ٹیررزم کے ماحول میں ٹورازم کی بات کر کے احمد شفیق نے جہاد کیا ہے۔

اس سے پہلے گورنر پنجاب چودھری سرور احمد شفیق کو ملنے والے ایوارڈ کو20کروڑ پاکستانیوں کے لئے اعزاز قرار دے چکے ہیں۔

احمد شفیق نے صحافی دوستوں کو بتایا اللہ کے فضل سے مشکل ترین حالات میں مشکل ٹاسک اہل پاکستان کی دُعاؤں سے مکمل کر سکا ہوں۔ ایک کوتھم9کالجوں پر پھیل چکا ہے اللہ کے فضل سے اب یونیورسٹی بنے گی۔ احمد شفیق نے خوشخبری دیتے ہوئے بتایا کہ اب ہمارے بچے بچیاں بڑے بڑے ہوٹلوں کا حصہ ہیں، ہمارا سفر توانا عزم سے جاری رہے گا۔ پاکستان کی پہچان کراتے رہیں گے اور پاکستان کے مستقبل کے معماروں کی تربیت ہاسپٹیلٹی، ٹورازم اور ہوٹل انڈسٹری کے ذریعے کرتے رہیں گے۔

احمد شفیق کے الفاظ مجھے اتنے خوبصورت لگ رہے تھے اور دُعا نکل رہی تھی اللہ انہیں کامیاب کرے، پاکستان کا امیج جو اس وقت پوری دنیا میں بنا ہے یا بنایا جا رہا ہے ان حالات میں احمد شفیق پاکستان کا حقیقی سفیر نظر آیا۔ بلا شبہ کوتھم ان کا کاروبار ہے، کاروبار جو پاکستان کے لئے ہو، پاکستان کے ساتھ ہو، پاکستان کی پہچان کے لئے ہو، پاکستان کی سفارت کاری کے لئے ہو، اس کے لئے دل و جان سے ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔ احمد شفیق بڑھتے چلو ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت، پاکستان کی حقیقی تصاویر دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے پوری قوم کو کردار ادا کرنا ہو گا، قوم کے ایک ایک فرد کو احمد شفیق بننا ہو گا۔ امریکن نے تو ایوارڈ دے دیا، کیا پاکستانی حکمران بھی پاکستان کا نام روشن کرنے والوں کے لئے کچھ کریں گے یقیناًکریں گے۔ میاں برادران ضرور کریں گے۔ احمد شفیق جیسے مزید احمد شفیق پیدا کرنے کے لئے سرپرستی ضروری ہے وہ صرف حکمران کر سکتے ہیں، ہم تو صرف دُعا کر سکتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

مزید : کالم


loading...