جنگی معاون پاکستانی فرٹیلائزر کمپنی کو امریکہ میں پراجیکٹ لگانے کی اجازت مل گئی

جنگی معاون پاکستانی فرٹیلائزر کمپنی کو امریکہ میں پراجیکٹ لگانے کی اجازت مل ...
جنگی معاون پاکستانی فرٹیلائزر کمپنی کو امریکہ میں پراجیکٹ لگانے کی اجازت مل گئی

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کی جنگ میں تعاون کرنیوالی پاکستانی کمپنی فاطمہ فرٹیلائزر کوامریکہ نے اپنی ریاست انڈیانا میں ایک بڑا پراجیکٹ لگانے کی اجازت دی اور ایک ارب 29 کروڑ ڈالر کے ٹیکس چھوٹ کے میونسپل بانڈ فراہم کر کے مالی مدد بھی کی۔ پرنٹ میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکہ اور نجی کمپنی کے درمیان دوطرفہ تعاون کا یہ سلسلہ 2010ءمیں شروع ہوا جب وہ شدت پسندوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر آئی ای ڈیز بنانے کیلئے فرٹیلائزر کا استعمال کیا جا رہا تھا۔ امریکی اعلیٰ عہدیداروں کو تشویش تھی کہ پاکستان سے فرٹیلائزر افغانستان سمگل ہو رہی ہے، کیلشیم امونیم نائٹریٹ (سی اے این) سڑک کنارے نصب بموں میں سے 70 فیصد دھماکوں کی وجہ بن رہا تھا۔ امریکی محکمہ دفاع یونٹ کے سربراہ باربیرو نے تعاون کے لیے فاطمہ گروپ کے چیئرمین فواد مختار سے ملاقات بھی کی تھی اور پاکستانی وزیر داخلہ، وزیر اعظم سے بھی رابطے میں تھا۔ امونیم نائٹریٹ کی فروخت روکنے کیلئے ایک ٹریکنگ سسٹم بنانے کی تجویز تھی جس میں ڈسٹری بیوٹرز اور خریداروں کی نشاندہی کرنے کا منصوبہ تھا۔ اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے امریکہ کے ساتھ مل کر اس حوالے سے فرٹیلائزر کی بوریوں میں اسے کیمیکل شامل کرنے کا پروگرام بنایا جس کی مدد سے اس مواد کی کسی بھی جگہ موجودگی کا پتہ چلایا جا سکتا تھا۔ اس نظام میں تعاون کے بدلے میں مڈویسٹ فرٹیلائزر کارپوریشن میں 2012 ءمیں فاطمہ گروپ کو حصہ دیا جس کا 48 فیصد حصہ فاطمہ کے پاس ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے مڈ ویسٹ فرٹیلائزر کارپوریشن کو 1.3 ارب ڈالر کی سہولیات بھی دی گئیں۔ انڈیانا اکنامک ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے مڈویسٹ کارپوریشن سے مختلف مدوں میں تعاون کیا۔ اس حوالے سے کمپنی کے سی ای اوفواداحمد مختار نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کا اقرار کیا مگر اپنی کمپنی کی جانب سے کسی بھی طرح کے ٹریکرز رکھنے کی تردید کی ہے۔ کمپنی کی طرف سے کہا گیا کہ صرف (سی اے این) کی بوریوں کو الگ کیا گیا تھا تاکہ ان کی شناخت میں آسانی ہو سکے۔ فوادمختار کے مطابق مڈویسٹ میں فاطمہ کے شیئرز صرف 35 فیصد ہیں۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں


loading...