فٹ بال مقابلوں میں جواءجائز قرار، فتویٰ جاری

فٹ بال مقابلوں میں جواءجائز قرار، فتویٰ جاری
فٹ بال مقابلوں میں جواءجائز قرار، فتویٰ جاری

  



تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران میں 1979ءمیں آنیوالے انقلاب کے بعد کھیلوں کے حوالے سے مختلف فتوے سامنے آتے رہے ہیں لیکن حال ہی میں ایک فتویٰ سامنے آیاہے جس میں فٹ بال مقابلوں پر جوئے کو جائز قراردیاگیاہے ۔ عرب میڈیا کے مطابق ایک حالیہ فتوے میں فٹ بال کے مقابلوں میں شرط لگا کر رقم حاصل کرنے کو بھی ’مباح‘ قرار دیا گیا ہے جس کی کی بنیادی وجہ شاید اعلیٰ حکومتی شخصیات اور پاسداران انقلاب کے سینیئر عہدیداروں کی جانب سے فٹ بال مقابلوں کے دوران بھاری رقوم جوے میں خرج کرنے میں دلچسپی ہے۔ فارسی نیوز ویب پورٹل "مشرق" نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کا  عنوان  ہے "ایران میں فٹ بال مقابلوں کے دوران شرط لگانا جائز ہے"۔رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ایک ایجنسی نے انٹرنیٹ پر فروخت شدہ کارڈز کی آمدن ظاہر کی تھی جو پچاس ملین ٹومان یعنی 17 ہزار ڈالر کے برابر تھی، شرط لگانے والی مختلف ایجنسیاں بھاری رقوم جیتنے کے لیے تماشائیوں میں بھی اپنے کارڈز فروخت کرتی ہیں۔سابق ایرانی فٹ بال ٹیم کے سربراہ عزیز محمدی کا کہنا ہے کہ علماءاور فقہاءنے فٹ بال مقابلوں کے دوران شرط لگانے کو جائز قرار دے رکھا ہے۔ نیز ہم اس طرح جو رقم حاصل کرتے ہیں وہ اپنی عیش وعشرت پر نہیں بلکہ اس سے ضرورت مندوں اور کینسر کے مریضوں کی مدد کرتے ہیں، مقابلوں میں شرط کےساتھ رقم لگانے کے لیے وزارت ثقافت مذہبی امور کی جانب سے باقاعدہ اجازت نامہ موجود ہے، اس لیے اسے غیر شرعی یا غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا ۔یہاں یہ امر واضح رہے کہ ایران کی اسلامی تعزیرات کی دفعہ 705ءمیں کسی بھی مقابلے کے لیے شرط لگانے کو ”جوئے“ سے تعبیر کرتے ہوئے اسے قابل سزا ج±رم قرار دیا گیا ہے اور مرتکب افراد کے لیے چھ ماہ قید اور 74 کوڑوں کی سزا مقرر ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...