مصر میں خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کیخلاف نئے قوانین متعارف

مصر میں خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کیخلاف نئے قوانین متعارف
مصر میں خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کیخلاف نئے قوانین متعارف

  



قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کی طرف سے خواتین کے جنسی تشدد کے لرزہ خیز رپورٹ سامنے آنے کے ایک سال بعد مصر نے ایسے واقعات پر قابو پانے کے لیے نئے قوانین متعارف کرادیئے ہیں جن کے تحت جنسی طورپر ہراساں کرنے کے واقعات میں ملوث افراد کو پانچ سال تک قید ہوسکتی ہے ۔ اقوامِ متحدہ کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ دس میں سے نو مصری خواتین کو کسی نہ کسی شکل میں جنسی ہراس کا سامنا کرنا پڑا جس میں معمولی جنسی ہراس سے لے کر ریپ تک کے واقعات شامل ہیں جبکہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے مصر میں جنسی ہراس کے واقعات میں اضافے کو ’خوفناک‘ قرار دیا ہے۔ملک کے سبکدوش ہونے والے نگران صدر عدلی منصور نے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت جنسی ہراس کو ایسا جرم قرار دیا گیا ہے جس میں ملو ث ملزموں کو چھ ماہ سے پانچ سال قید تک ہو سکتی ہے تاہم یہ سزااُسی شخص کو دی سکتی ہے جو متاثرہ فرد پر طاقت اور اختیارات کے لحاظ سے حاوی ہو جیسا کہ وہ شخص متاثرہ فرد کا کسی دفتر میں افسر ہو یا اس کے ہاتھ میں ہتھیار ہو۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق  صدارتی ترجمان ایحاب بداوی نے کہا کہ اس حکم نامے میں اس فرد کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والا بیان کیا گیا ہے جوجنسی طرز کی خواہش پوری کرنا چاہتا ہو اور مذکورہ جرم دوسری بار کرنے والوں کی سزائیں بھی دگنی ہوجائیں گی جبکہ ملزمان کو 714امریکی ڈالر جرمانہ بھی ہوسکتاہے۔یادرہے کہ ابھی تک مصر میں جنسی ہراس کی قانونی طور پر کوئی تعریف نہیں کی گئی تھی۔

مزید : بین الاقوامی