جیو بند ہو گیا

جیو بند ہو گیا
جیو بند ہو گیا

  



کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) جیو گروپ نے کہا ہے کہ انہیں پیمرا کا نوٹس موصول ہو گیا ہے اور اب وہ 15 دن کیلئے چینل بند کر رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے وزارت دفاع کی شکایت پر 15 روز کیلئے جیو کو بند کرنے اور ایک کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ جیو گروپ انتظامیہ نے پیمرا کی جانب سے نوٹس موصول ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ پیمرا کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے 15 روز کیلئے اپنی نشریات بند کر رہے ہیں اور 6 جون سے 20 جون تک جیو کی نشریات بند رہیں گی۔ واضح رہے کہ پیمرا کے سنائے گئے فیصلے کے مطابق جیو انتظامیہ کی جانب سے 1 کروڑ روپے جرمانہ ادا کرنے تک نشریات بند رہیں گے۔ قبل ازیں پیمرا نے جیو نیوز کا لائسنس 15روز کے لئے معطل کرتے ہوئے ایک کروڑ روپے جرمانہ عائد کرنے کی سزا سنائی تاہم پرائیویٹ ممبران نے فیصلے پر عدم اطمینان کااظہار کرتے ہوئے عدالت میں چیلنج کرنے کا عندیہ دیا۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ کارروائی وزارت دفاع کی طرف سے موصول ہونے والی شکایت پر کی گئی اور جرمانے کی ادائیگی و15روز بعد جیو کا لائسنس بحال ہوجائے گا۔قائم مقام چیئرمین پیمرا پرویز راٹھور کی زیرصدارت ہونیوالے اجلاس میں جیو نیوز کو قصور وار قراردیاگیاہے اور جیو انتظامیہ کو حکم دیاگیاکہ لائسنس معطلی کے علاوہ ایک کروڑ روپے جرمانہ اداکریں۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ سرکاری ممبران کاتھا اور اِس سے پرائیویٹ ممبران مطمئن نہیں ،وہ پرویز راٹھور کی بطور قائم مقام چیئرمین پیمرا تقرری اور جیو کے خلاف سرکاری ممبران کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرسکتے ہیں۔ پرائیویٹ رکن اسرار عباسی کاکہناتھاکہ پیمرا قوانین میں قائم مقام چیئرمین کی گنجائش نہیں، فیصلے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کریں گے۔ میاں شمس الرحمان کا کہنا تھا کہ رات کو دس بجے ایک ایس ایم ایس کے ذریعے اطلاع دی گئی، قائم مقام چیئرمین کو فیصلے کااختیار نہیں، اگر پرویز راٹھور فارغ ہوئے تو فیصلہ بھی ختم ہوجائے گا۔ ا±نہوں نے بتایاکہ قائم مقام چیئرمین کی تقرری کا معاملہ دراصل عدالتی احکامات کے ساتھ مذاق ہے، واضح حکم موجود ہے کہ کوئی بھی شخص قائم مقام چیئرمین نہیں ہو سکتا، دوسری بات یہ کہ پیمرا قوانین کے مطابق دس لاکھ سے زیادہ جرمانہ ہونہیں سکتا، یہ صرف ایک ڈرامہ تھا۔ فریحہ افتخار کاکہناتھاکہ اجلاس کا نوٹس کم از کم ایک ہفتہ قبل دینا ضروری ہوتاہے جو نہیں دیا گیا۔خیال کیاجارہاہے کہ اقدام سے کہیں کم جرمانے میں معاملے کو نمٹادیا گیاہے۔

مزید : کراچی /Headlines