مسلمان بچوں کی شرح اموات ہندوﺅں سے کم، معمہ حل ہوگیا

مسلمان بچوں کی شرح اموات ہندوﺅں سے کم، معمہ حل ہوگیا
مسلمان بچوں کی شرح اموات ہندوﺅں سے کم، معمہ حل ہوگیا

  



نئی دہلی (بیورورپورٹ ) بھارت میں تعلیم یافتہ اور امیر ہندوﺅں کی تعداد مسلمانوں سے کہیں زیادہ ہے لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ ہندوﺅں کے بچوں کی شرح اموات مسلمانوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ ماہرین اس معاملہ کو ”مسلم شرح اموات کا معمہ“ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ مگر نئی تحقیق میں محققین نے اس معمے کی گتھی کو سلجھا دیا ہے اور حیران کن طور پر اس کا تعلق صفائی اور گندگی یا پاکی اور پلیدی سے منسلک ہے، یعنی مسلمان صفائی کا زیادہ خیال رکھتے ہیں اور رفع حاجت کے لئے ٹوائلٹ استعمال کرنے کو فوقیت دیتے ہیں جبکہ ہندو زیادہ تر رفع حاجت کے لئے کھلی جگہوں اور کھیت وغیرہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج ہندوستان میں 6 سو ملین سے زیادہ افراد رفع حاجت کے لئے کھلی جگہوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ حالیہ تحقیق کے مطابق کھلی جگہوں پر رفع حاجت کرنا بچوں کی شرح اموات میں اضافہ اور جسمانی نشوونما میںکمی کی ایک بنیادی وجہ ہے لیکن بھارت کے بعض علاقے اس سلسلہ میں افریقہ سے بھی گئے گزرے ہیں۔ ”دہلی سکول آف اکنامکس“ کے ڈین سپیئرز کھلی جگہوں پر رفع حاجت کے اثرات کا ایک عرصہ سے مطالعہ کر رہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اس معاملہ پر بھی تحقیق کی کہ بھارتی بچے افریقی بچوں کی نسبت پست قامت کیوں ہوتے ہیں جبکہ افریقی بچے ہندوستانی بچوں کی نسبت زیادہ غربت اور غذائی قلت کا شکار ہیں۔ تحقیق نے یہ ثابت کیا کہ کھلی جگہوں پر رفع حاجت ایک ایسا عمل ہے کہ جس نے بچوں کی نشوونما اور بڑھوتری کو متاثر کرتا ہے۔ غرباءکے بچے انہی میدانوں میں کھیلتے ہیں، جن میں ان کے والدین اور وہ خود بھی رفع حاجت کرتے ہیں۔ جراثیم ان کے پیروں اور ہاتھوں سے چمٹ کر ان کے گھروں اور پھر خوراک کے ذریعے معدے میں سرایت کر جاتے ہیں۔ ان جراثیم کا فوری رد عمل مرض کی صورت میں رونما ہوتا ہے جبکہ بعض امراض اندر ہی اندر پنپتے رہتے ہیں اور عمر کے کسی حصے میں خطرناک بیماری کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں، مثلاً(enetropathy) معدے کا ایک خطرناک مرض ہے، جو نظام انہضام کو تباہی کا شکار کر دیتا ہے، نتیجتاً نشوونما رک جاتی ہے اور قد بھی چھوٹا رہ جاتا ہے۔ سپیئرز، اربیندا گوش اور آلیور کمنگ کی جانب سے اس مسئلہ کی جو پہلی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی گئی اسے بھارت میں ” بھوک اور غذائی کمی“ کا نام دیا گیا ہے۔ نئی تحقیق کو زیادہ قابل اعتبار بنانے کے لئے اس میں بھارت کے سرکاری ادارے ”نیشنل فیملی ہیلتھ سروے“ کے اعداد و شمار شامل کئے گئے ہیں، جہاں 13سے 49سال کی خواتین سے ان کے گھریلو کام کاج، انفراسٹرکچر، صحت و صفائی کے متعلق عادات اور رفع حاجت کے مقامات کی دستیابی سے متعلق معلومات اکٹھی کی گئیں۔ سپیئرز نے اس ڈیٹابیس میں سے 3لاکھ 10ہزار مسلم و ہندو خواتین کے کوائف اکٹھے کئے، جن کے متعلق 1992ئ، 1998ءاور 2005ءمیں سروے کیا گیا تھا۔ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی نسبت ہندﺅں میں بچوں کی شرح اموات کی ایک بنیادی وجہ صحت و صفائی کا خیال نہ رکھنا اور رفع حاجت کےلئے کھلی جگہوں کا انتخاب کرنا ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ غربت کے باوجود مسلمان ہندﺅں کی نسبت 20فیصد زیادہ ٹوائلٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں ہندوﺅںکی شرح اموات کم جبکہ ہندو اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کے بچوں کی شرح اموات بھی زیادہ ہے، یعنی شرح اموات کی کمی و بیشی صرف صحت و صفائی کی عادت پر ہی نہیں بلکہ ہمسائیوں کی عادات پر بھی منحصر ہوتی ہے۔

مزید : بین الاقوامی