جنگوں میں استعمال ہونے والے ’زندہ‘ بم

جنگوں میں استعمال ہونے والے ’زندہ‘ بم
جنگوں میں استعمال ہونے والے ’زندہ‘ بم

  



بوسٹن (نیوز ڈیسک) سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا جتنا استعمال مہلک سے مہلک ترین ہتھیار بنانے کیلئے ہوا ہے اتنا شائد ہی کسی اور شعبے میں ہوا ہو لیکن لاکھوں ڈالر خرچ کر کے کچھ ہتھیار ایسے بھی بنائے گئے ہیں جو مہلک سے زیادہ مضحکہ خیز ہیں۔ ان میں سرفہرست چمگادڑ بم ہے۔ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم میں یہ بم تیار کیا جو کہ اصل میں ایک بڑے سلنڈر کی طرح تھا جس کے اندر 40 چمگادڑیں تھیں۔ ہر چمگادڑ کے جسم کے ساتھ ایک چھوٹا نیپام بم اور ٹائمر باندھ دیا گیا۔ یہ بم بنانے والوں کا خیال تھا کہ چمگادڑیں بم سے نکلنے پر جہاں ٹھکانہ بنائیں گی وہاں مقررہ ٹائم کے بعد دھماکہ ہو جائے گا۔ دوسری جنگ عظیم میں ہی روسیوں نے جرمنی کے ٹینک تباہ کرنے کیلئے کتوں کو ٹینکوں کے نیچے گھسنے کی تربیت دی اور پھر ان کے جسموں کے ساتھ بم باندھ دیئے تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ ہتھیار کبھی کامیاب بھی ہوا یا نہیں۔ جاپان نے ایک ایسی آبدوز تیار کی جو تین جنگی جہازوں کو اپنے پیٹ میں چھپا کر سمندر کے نیچے جا سکتی تھی۔ اوپر آ کر جہازوں کے اڑنے کیلئے رن وے کا کام کر سکتی تھی اور دوبارہ زیر آب جا سکتی تھی۔ امریکہ نے سرد جنگ کے دور میں چھوٹے سائز کے ایٹم بم تیار کئے جنہیں روائتی جنگی ہتھیاروں کی طرح استعمال کیا جا سکتا تھا۔ روس نے ایکرانوپلین نامی ایک ایسا جہاز تیار کیا جو 300 فٹ لمبا تھا اور زمین سے صرف 12 فٹ کی بلندی پر اڑتا تھا۔ امریکی ماہر نفسیات بی ایف سکنر نے ایک کبوتر میزائل تخلیق کیا۔ اس میزائل کے سامنے لگے لینز ٹارگٹ کی تصویر اندر لگی سکرین پر دکھاتے تھے۔ کبوتروں کو تربیت دی گئی تھی کہ وہ ٹارگٹ کی تصویر کو دیکھ کر اس پر ٹھونگا ماریں گے۔ سکنر کا خیال تھا کہ اس طرح کبوتر میزائل کو ٹھیک نشانے پر گرانے میں مدد کریں گے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...