یہودی احسان فراموشی اور ٹونی بلیئر کی سبکدوشی

یہودی احسان فراموشی اور ٹونی بلیئر کی سبکدوشی
یہودی احسان فراموشی اور ٹونی بلیئر کی سبکدوشی

  

برطانیہ کے چالاک سابق وزیراعظم اپنے مشن میں ناکامی کے بعد گمنامی کے اندھیروں میں دفن ہونے کے لئے سبکدوش کر دیئے گئے، اس کے یارِ ناہنجار سابق امریکی صدر بش نے تو اسے اپنا دم چھلا بنا کر عراق کی تباہی اور عراقی تیل کی لوٹ مار میں شریک کرنا قبول کر لیا تھا، مگر برطانوی عوام ٹونی بلیئر کی اس رسوا کن شرکت پر راضی نہ تھے،کیونکہ ایک تو اس لوٹ مار کے مال غنیمت عراقی تیل میں بش اکیلا پیٹ بھرنے کے موڈ میں تھا، دوسرے بش کا اصل حصہ دار اسرائیل بننا چاہتا تھا اس لئے اور کسی بھی حصہ دار کی اس میں گنجائش نہ تھی تاہم ٹونی بلیئر اس امید موہوم پر شرکت کے لئے مصر تھا کہ شاید وہ انگریز قوم کے لئے سرونسٹن چرچل سے بھی بڑا کارنامہ انجام دے کر ’’ہیرو‘‘ بن جائے، مگر اسے یہ اندازہ نہ تھا کہ اسے تو ایک دن ’’زیرو‘‘ بن کر مشرقِ وسطیٰ سے ناکام و نامراد لوٹنا ہو گا! لیکن ٹونی بلیئر کی اس رسوائی اور ناکامی کا اصل ذمہ دار اسرائیل کا احسان فراموش یہودی ہے!

مطلب پرستی، بے وفائی اور احسان فراموشی یہود کی فطرت ہے اب تو عالمی صہیونیت انکل سام سے مسلمانوں کو مروانا چاہتی ہے، جو بظاہر فضول اور ناممکن ہے، مگر جو آنکھیں بند کر کے اپنا ہاتھ کسی مانے ہوئے فریب کار اور دغا باز کے ہاتھ میں دے دے اس کا انجام کسی پر مخفی نہیں رہ سکتا، مگر انکل سام کو اس فریب خوری سے صرف امریکی عوام بچا سکتے ہیں، جو بہادر بھی ہیں اور بیدار مغز بھی، وہی امریکہ کو سوویت یونین بننے سے بچا سکتے ہیں ورنہ جو حشر روس کا افغانوں کے ہاتھوں ہوا ہے وہی حشر انکل سام کا مسلمانوں کے ہاتھوں ہو سکتا ہے!

لیکن اصل بات کرنا ہے ٹونی بلیئر اور احسان فراموش اسرائیل کے یہودی کی! بش نے عراق پر حملے کے وقت اسرائیل کو حصہ دار بنانے کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا نہ ہو سکا، تو بش صاحب نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی سوچی کہ اسرائیل کا کام بھی ہو جائے اور ٹونی بلیئر کی بھی اشک شوئی ہو جائے! اسرائیل کے لئے دو خطرناک مسائل درپیش تھے، ایک طرف تو فلسطینی ریاست کا قیام تھا اور دوسری جانب مسلح اور سنجیدہ ایران کے خطرات تھے، بش صاحب کا طوطی بول رہا تھا، اس لئے روس کے علاوہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کو بھی راغب کر لیا کہ اسرائیل کو بچانے کے لئے ان چاروں۔۔۔ امریکہ، روس، یورپی یونین اور اقوام متحدہ۔۔۔ کو اسرائیل کو مذکورہ دونوں خطرات سے اسرائیل کو بچا کر ثواب کمانا چاہئے اور ایک مشترکہ مشن اور اس کے زوردار سربراہ کے ذریعے یہ کام ممکن ہو گا، چنانچہ مشن کمشن بن گیا اور زور وار سربراہ ٹونی بلیئر کو بنوا دیا گیا،جو گزشتہ چار پانچ سال سے اس ’’کار ثواب‘‘ میں لگا ہوا تھا۔

ٹونی بلیئر کو یہ امید تھی کہ وہ بھی برطانوی قوم کے لئے وہی کچھ کرے گا، جو برطانوی فوج کا ایک کرنل مشرقِ وسطیٰ میں کر چکا ہے۔یہ کرنل تھا لارینس آف عریبیا جو عربوں اور ترکوں کو دائمی دشمنی کے طوق لعنت میں پھنسا گیا ہے، عثمانی ترک بھی تاریخ میں گم ہو گئے اور عرب شہنشاہیت کا خواب دیکھنے والے شریف مکہ اور اس کے تمام بیٹے بھی اپنے خواب کی طرح بکھر گئے اور عربوں کی تاریخ کو داغدار کر گئے! ٹونی صاحب نے یہ’’ کرنیلی کردار‘‘ ادا کرنے کی بڑی کوشش کی، مگر بُری طرح ناکام رہا! اس کی بدقسمتی یہ تھی کہ چاروں کے چندہ کے کھربوں ڈالر اپنی تنخواہ اور کمشن کے ملازمین کی تنخواہوں اور اخراجات میں ڈبونے کے باوجود ’’صفر کامیابی‘‘ کا تمغہ لے کر گمنامی کی موت مرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

ٹونی صاحب فلسطینیوں کو یہ سمجھاتے رہے کہ غزہ بھی تمہارا ہے اور تمہاری فلسطینی ریاست بھی یقینی ہے بس تم اسرائیل سے صلح کر لو، یہودی آبادیوں کے لئے زمین دیتے جاؤ اور ریاست کے لئے نیتن یاہو سے مذاکرات کرتے چلے جاؤ، کبھی نہ کبھی تمہاری ریاست تمہارے قدموں میں ہو گی، مگر فلسطینیوں نے ٹونی صاحب کی ٹن ٹن بجا دی۔ نیتن یاہو سے کہا کہ تم کم سے کم فلسطین میں دو ریاستوں کے قیام کو ممکن ہی کہہ دو ، مگر ضدی یہودی نے صاف انکار کر دیا اور قسم کھائی کہ وہ فلسطینی ریاست تو کبھی نہیں بننے دے گا! ٹونی نے نیتن یاہو سے غزہ پر مسلسل آگ برسوائی، مگر غزہ کے مسلمان بھی فولاد ثابت ہوئے، رہا ایران تو اس کے ملاں تو انکل سام کو بھی تگنی کا ناچ نچوا رہے ہیں، ٹونی کس کھیت کا بتھوا ہے! *

مزید :

کالم -