داعش عالمی و علاقائی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی پیداوار ہے : امام و خطیب مسجد الحرام شیخ صالح آل طیب

داعش عالمی و علاقائی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی پیداوار ہے : امام و خطیب مسجد ...
داعش عالمی و علاقائی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی پیداوار ہے : امام و خطیب مسجد الحرام شیخ صالح آل طیب

  

مکہ مکرمہ (محمد اکرم اسد / بیورو چیف) داعش عالمی و علاقائی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی پیداوار ہے جس کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ صالح آل طیب نے لاکھوں نمازیوں کی موجودگی میں جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اسلام دشمن تنظیم 3 ستونوں پر قائم ہے، اس کا پہلا ستون داعش کی قیادت ہے جس کی اسلام دشمنی واضح ہے۔ دوسر استون وہ نادان لوگ ہیں جنہیں خوارج امت کہا جاسکتا ہے جبکہ تیسرا ستون داعش کی سازش کا ایندھن بننے والے وہ نوجوان ہیں جنہیں نہ شرعی علوم سے واقفیت ہے اور نہ ہی انہیں کوئی سیاسی بصیرت ہے۔

شیخ آل طالب نے کہا کہ سیاست کی الف ب سے واقفیت رکھنے والا شخص جانتا ہے کہ سازش کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ اس میں شریک اکثریت کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہ سازش کا حصہ بن رہے ہیں۔ داعش کی مختصر مگر سفاک تاریخ کا سرسری جائزہ لینے سے معلوم ہوگا کہ اس کا نشانہ بننے والے مسلمان ہی ہیں، وہ نہ صرف بے قصور مسلمانوں کا خون بہا رہی ہے بلکہ مسلمانوں کے شہروں پر  قبضہ کئے جارہی ہے جس کے خلاف اس کا مقابلہ ہونا چاہیے تھا اور جسے وہ دشمن ظاہر کررہی ہے، وہ اس سے محفوظ ہے۔

داعش کی قیادت اپنے ارکان کو بیوقوف بنانے کیلئے اپنے حقیقی دشمن سے فرضی مقابلے کرواکر انہیں خوش کرتی ہے۔ اس کا اصل مقصد اسلام کی شبیہ بگاڑنا اور دنیا کو اسلام سے متنفر کرنا ہے۔ داعش کی چال بازیوں میں سے ایک چال یہ بھی ہے کہ وہ سچے ذہن کے نوجوانوں کو ورغلا کر اپنے ساتھ شامل کرے تاکہ وہ اس جنگ کا ایندھن بنیں۔ یہ نادان نوجوان سمجھتے ہیں کہ وہ ا سلام اور مسلمانوں کی خدمت کررہے ہیں۔ا نہیں اندازہ ہی نہیں کہ وہ ایسی جنگ کا ایندھن بن رہے ہیں جس کا حاصل کچھ نہیں، داعش اپنے مقاصد کے حصول کے بعد ان نوجوانوں کو قربان کرنے میں دریغ نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ جب جزیرہ عرب میں اسلام کے نور کا آغاز ہوا تو اللہ کے رسول ﷺ نے دعوت تبلیغ اور حسن اخلاق سے صحابہ کرامؓ کو اس دین کی سربلندی کیلئے یہ قربانی پیش کرنے کیلئے تیار کیا۔ انہوں نے دین کو پھیلانے کے لئے اپنے وطنوں کو چھوڑ دیا اور زمین میں پھیل گئے، ان کی قربانیاں اسلام کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی، ان کے جہاد سے  انسانیت کا تحفظ ہوا۔ انہوں نے انسان کو محترم اور اس کے خون کو مقدس جانا، ان کا جہاد انسانوں کے دین، جان، عقل، مال اور عزت کے تحفط کیلئے تھا۔ ان سنہری اصولوں کی وجہ سے اسلام دنیا پر غالب ہوا اور اسلامی ریاست کرہ ارض پر پھیل گئی۔

صحابہ کرام کی ان قربانیوں کی وجہ سے دنیا میں اسلامی تہذیب و تمدن کے وہ زریں اصول قائم ہوئے اور اسلامی ریاست کے اندر دیگر مذاہب کے ماننے والے لوگ آزادانہ طور پر رہنے لگے اور انہیں ان کے تمام حقوق فراہم کئے جارہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مملکت کے مشرقی ریجن میں گزشتہ 2 ہفتوں میں جو واقعات ہوئے ان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ان مجرمانہ سرگرمیوں کا مقصد مملکت کے امن وا ستحکام کو متذلزل کرکے یہاں فرقہ واریت کو ہوا دینا ہے۔ یہ مجرمانہ کارروائیاں کسی خاص فرقے کے خلاف نہیں ہوئیں بلکہ یہ ریاست اور اس میں مقیم تمام شہریوں کے خلاف ہوئیں۔ اسلام مخالف فرقے کے ماننے والوں کے خون کو بھی محترم قرار دیا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -