ایک پودا جسے سونگھ کر آپ اپنی یادداشت کو دْگنا کرسکتے ہیں

ایک پودا جسے سونگھ کر آپ اپنی یادداشت کو دْگنا کرسکتے ہیں
ایک پودا جسے سونگھ کر آپ اپنی یادداشت کو دْگنا کرسکتے ہیں

  

لندن(نیوزڈیسک) کئی طرح کے پودے اور جڑی بوٹیاں ایسی ہیں جس کو کھانے یا سونگھنے سے ہمارے جسم پر مثبت یا منفی اثرات ہوسکتے ہیں۔انہیں میں سے ایک پودا روزمیری (اکلیل کوہستانی)کا بھی ہے جسے مختلف طرح کی ادویات اور کچن میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کو سونگھنے سے یاداشت بھی مضبوط اور تیز ہوتی ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق اسے سلطنت روما کے دور ہی سے ’یاداشت والا پودا‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔زمانہ قدیم میں اسے جلاکر مردہ افراد کے ساتھ قبر میں ڈال دیا جاتا تھا اور اس کی توجیہیہ یہ بتائی جاتی تھی کہ اس طرح وہ زندہ لوگوں کو یاد رکھیں گے۔قرون وسطیٰ کے عرب طبیب بھی اسے یاداشت کومضبوط بنانے کے لئے ذوق و شوق سے استعمال کرتے تھے۔اسے تکیوں کے نیچے رکھ کر بھی سویا جاتاتھا اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی تھی کہ اس کی خوشبو سے سونے والے کو ڈراؤنے خواب نہیں آئیں گے۔

مزیدپڑھیں:یہ لکیر صرف چند خوش نصیبوں کے ہاتھ پر ہوتی ہے، اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ ماہرین علم نجوم نے انتہائی حیران کن انکشاف کردیا

2012ء میں کی گئی ایک تحقیق میں 75سال سے زائد افراد کو روزمیری کے خشک پتے سونگھنے کے لئے دئیے گئے اور یہ بات سامنے آئی کہ ان کی یاداشت میں بہتری آئی۔ایک برطانوی ادارے نارتھ امبریا یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا کہ روزمیری میں ایسا کمپاؤنڈ cineoleپایا جاتا ہے جس کی وجہ سے انسان کا موڈ اچھارہتا ہے اور اس کی یاداشت میں بہتری آتی ہے۔

اگرآپ کے ذہن میں یہ سوال آرہا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سانس کے ذریعے ایک چیز جسم میں داخل ہوکر یاداشت بہتر کرسکتی ہے تو اس کا جواب بھی سادہ ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کچھ خوشبوئیں جسم میں داخل ہوکر خون میں سرائیت کرسکتی ہیں۔ایک ایسا ہی کمپاؤنڈ terpenesہے جو جسم میں داخل ہوکر دماغ تک سرائیت کرجانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس