کرپشن سے پاک پاکستان، چیئرمین نیب کا عزم

کرپشن سے پاک پاکستان، چیئرمین نیب کا عزم
 کرپشن سے پاک پاکستان، چیئرمین نیب کا عزم

  

پاکستان کے بانی قائداعظم محمدعلی جناح نے اپنی پہلی تقریر میں بدعنوانی کو ایک لعنت قرار دیا تھا جو معاشی ترقی و سماجی بہبود کی راہ میں بڑی رکاوٹ کے ساتھ ساتھ ترقی اور خوشحالی کا سفرجہاں متاثرکرتی ہے وہاں رشوت اور بدعنوانی سے کمائی ہوئی رقم چند لوگوں کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے جس سے مجموعی طور پر پورے سسٹم کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کوریا، چین اور جاپان کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ جن قوموں نے کرپشن پر قابو پانے کے لئے متحد ہوکربدعنوانی کے خاتمہ کے لئے کاوشیں کیں وہ ممالک تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتے گئے ۔

قومی احتساب بیورو (NAB ) اپنے موجودہ چیئرمین قمرزمان چوہدری کی زیر قیادت ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور عوام میں بدعنوانی کے مضر اثرات سے متعلق شعور اجاگر کرنے اور معاشرے کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لیے نیب ایک جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے ۔نیب کی بدعنوانی کے خاتمے کے لئے کی جانے والی کاوشوں کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ تمام افراد اور ادارے عوام کی کسی لالچ اور رشوت کے بغیر خدمت کریں۔ معاشرے میں اس امر کی بھی اشد ضرورت ہے کہ اخلاقی اقدار کو پروان چڑھایا جائے۔ نیب کی نوجوانوں سے کافی امیدیں وابستہ ہیں والدین اپنے بچوں سے بہتر گریڈز اور پوزیشنز کی توقع کرنے کی علاوہ ان کی کردار سازی پر بھی توجہ دیں۔ اس بات کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے نیب نے صوبائی حکومتوں اور سول سوسائٹی کے تعاون سے کردار سازی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پر تقریباََِ 20 ہزار کریکٹر بلڈنگ سوسائٹیاں بنائی ہیں جن کے اثرات لازمی طور پر آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے۔ جب کردار سازی پر توجہ دی جائے گی تو بدعنوانی کے امکانات بھی کم ہوجاتے ہیں اس کے علاوہ نیب نے ایک ایسا پلیٹ فارم بھی بنایا ہے جو یونین کونسلز لیول پر کا م کرتا ہے اور کہیں بھی ہونے والی بدعنوانی کی نشاندہی کرتا ہے۔

بدعنوانی کے تدارک کے لئے نیب کے

عملی اقدامات:

نیب کسی ایسے عمل جو کرپشن کے زمرے میں آتا ہے کے حوالے سے اطلاع یا شکایت سامنے آنے کے بعد سب سے پہلے معاملے کی چھان بین کرتا ہے اور دیکھتا ہے۔ کہ قانون اس ضمن میں کیا کہتا ہے اس عمل کو شکایت کی جانچ پڑتال کا نا م دیا جاتا ہے اور دیکھتا ہے کہ مذکورہ عمل احتساب آرڈیننس کے زمرے میں آتا ہے کہ نہیں۔نیب شکایت کی جانچ پڑتال کے دوران شکایت کنندہ سے نہ صر ف ثبوت لیتا ہے بلکہ شکایت کنندہ سے اس بات کا حلفیہ بیا ن بھی لیتا ہے کہ اس کی طرف سے فراہم کردہ معلومات اور ثبوت درست ہیں جس کے بعد شکایت کی جانچ پڑتال کا باقاعدہ عمل نیب قانون کے مطابق شروع کیا جاتا ہے۔ شکایت کی جانچ پڑتال کا عمل دو ماہ کے دوران مکمل کیا جاتا ہے اور اگر اس میں بادی النظر میں شواہد موجود ہوں تو متعلقہ شکایت کو قانون کے مطابق انکوائری میں تبدیل کردیا جاتا ہے انکوائری کے دوران شواہد کی بنیاد پر مبینہ طور پر ملزمان کو ان کے خلاف شواہد دیکھا نے کے ساتھ ساتھ ان کے بیانات ریکارڈ کئے جاتے ہیں ۔ انکوائری کے مرحلے پر کسی بھی الزام کا سامنا کرنے والے فرد کے پاس یہ آپشن موجود ہوتا ہے کہ وہ ناجائز طور پر حاصل رقم رضا کارانہ طور پر مطلوبہ رقوم قومی خزانے میں کائبوریٹ کے ساتھ جمع کرائیں۔ انکوائری کا عمل چار ماہ کے دوران مکمل کیا جاتا ہے اور اگر اس میں بادی النظر میں شواہد موجود ہوں تو متعلقہ شکایت کو قانون کے مطابق انویسٹی گیشن میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ یہ تمام مراحل کمبائنڈانوسٹی گیشن ٹیم کی جا نب سے مکمل تحقیقات اور قانون کے مطابق تکمیل تک پہنچتے ہیں۔اگر ایک بار کسی ملزم کے خلاف کیس درج ہو جائے اور وہ ناجائز طور پر حاصل کرد ہ رضاکارانہ طور پر رقم قومی خزانے میں جمع کروانے کو تیار نہ ہو تو پھر انویسٹی گیشن کو چار ماہ کے اندر جمع ہونے والے ثبوتوں اور نیب کے قانونی ماہرین کی رائے کے بعدمتعلقہ فورم سے منظوری کے بعدمتعلقہ ریفرنس احتساب عدالت میں دائرکردیاجاتا ہے۔ انویسٹی گیشن کے دوران ملزم کو موقع دیا جاتاہے کہ وہ شواہد دیکھے اس مرحلے میں ملزم کے پاس پلی بارگینگ کی آپشن بھی ہوتی ہے تاکہ وہ ناجائز طور پر حاصل کردہ رقم واپس کردے اور قومی خزانے میں لوٹی ہوئی کل ر قم کائبوریٹ کے ساتھ جمع کروائے تو پھر اس کیس کی نیب قانون کے مطابق متعلقہ احتساب عدالت سے منظوری لیتا ہے ۔ نیب کا ایکشن تحقیقات کے مرحلے سے شروع ہو تا ہے جس میں بغیر کسی دباؤاور پریشرکے شواہد اکٹھے کیے جاتے ہیں اور ملزم کے خلاف جو شکایت آتی ہے اس کی مکمل چھان بین کی جاتی ہے تمام الزامات جن کا شکایت میں ذکر ہوتا ہے تحقیقات کے دوران ان کا شواہد کی بنیاد پر جائزہ لیا جاتا ہے۔اگر اس دوران ملزم کے نقطہ نظر میں فرق ہوتا ہے تو اس کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ سچ بولے اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پھر اس کے خلاف نیب آرڈیننس1999 کے مطابق قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔اور ٹھوس ثبوت سامنے آنے پر ملزم کو گرفتار کیا جا تاہے۔علاقائی بیورو ز نیب کے متحرک بازو ہیں جو فیلڈ میں کام کرتے ہیں مثلا ً شکایت کی جانچ پڑتال، انکوائری اور انویسٹی گیشن کا تمام عمل دس ماہ میں مکمل کر کے قومی احتساب بیورو بدعنوانی کا ریفرنس متعلقہ احتساب عدالت میں پیش کرتا ہے۔ نیب ہیڈکوارٹر کا آپریشنزڈویژن اور پروسکیوشن ڈویژنز کسی بھی کیس کے ضمن میں تمام مراحل کے دوران مکمل قانونی تعاون فراہم کرتے ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے نیب افسران کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور اسے مزید بہتر بنانے کیلئے جامع معیاری گریڈنگ سسٹم شروع کیا اس نظام کے تحت انھوں نے نیب کے تمام علاقائی بیورو کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔ اس نظام کے تحت تمام شکایات پر پہلے دن سے ہی unique identification number لگانے کی ہدایت نہ صرف کی بلکہ انکوائریوں، انوسٹی گیشن، احتساب عدالتوں میں ریفرنس، ایگزیکٹو بورڈ، ریجنل بورڈز کی تفصیل ، وقت اور تاریخ کے حساب سے ریکارڈ رکھنے کے علاوہ موثر مانیٹرنگ اینڈ اولیویشن سسٹم کے ذریعہ اعدادوشمار کا معیاراور مقدار کا تجزیہ بھی کیا جا رہا ہے۔ نیب نے شکایات کوجلد نمٹانے کیلئے انفراسٹرکچر اور کام کرنے کے طریقہ کار میں جہاں بہتری لائی ہے وہاں شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اوراحتساب عدا لت میں قانون کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کے لئے ((10 دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا۔ اسکے علاوہ چیئرمین نیب قمرزمان چوہدری کی ہدایت پر قومی احتساب بیورو نے اپنے ہر علاقائی دفتر میں ایک شکایت سیل بھی قائم کیا گیا ۔ نیب نے انویسٹی گیشن آفیسرز کے کام کرنے کے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لیا ۔ سینئر سپروائزری افسران کے تجربے اور اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انویسٹی گیشن آفیسرز اور سینئر لیگل کونسل پر مشتمل سی آئی ٹی(CIT) کا نظام قائم کیا جس سے نہ صرف کام کا معیار بہتر ہوگا بلکہ کوئی بھی شخص انفرادی طور پر تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہوسکے گا۔ چیئرمین نیب قمرزمان چوہدری نے ادارے کے اندر بھی احتساب کا عمل شروع کیا ہے اس عمل کے تحت بد دیانت اور غفلت برتنے والے 83 افسران اور اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے 22 افراد کو نہ صرف نوکری سے برطرف کیا ہے بلکہ 34 افسران اور اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے سزائیں دی ہیں۔ نیب کے ہیڈکوارٹر میں ایک اینٹیگریٹی منیجمنٹ سیل قائم کیا گیا ہے مذید براں نیب کے افسران، پراسیکیوٹر اور فیلڈ افسران کی کارکردگی کا موثر جائزہ لینے کیلئے مانیٹرنگ اینڈ ایلویشن سسٹم قائم کیا گیا ہے جو کہ موجودہ کاغذ پر اعتماد کے نظام اور زیادہ وقت لینے والے رپورٹنگ سسٹم کا متبادل ثابت ہوگا اور سرکاری کام میں کارکردگی اورمعیار میں اضافہ ہوگا۔ قومی احتساب بیورو نیب عنوان عناصر سے اپنے قیام سے لیکر اب تک تقریباََ 276ََ ارب روپے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔ مزید برآں ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کے مطابق پاکستان کا کرپشن پرسپشن انڈیکس 126ممالک میں سے 117 تک پہنچ گیاہے جو پاکستان نے 20 سالوں میں قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کی بدولت پہلی دفعہ حاصل کیا ہے۔

قومی احتساب بیورو نے اپنے نئے بھرتی ہونے والے تفتیشی افسرا ن کو جدید خطوط پرپولیس کالج سہالہ میں ٹرینگ دی ہے جہان ان کو کرپشن اور وائٹ کالر جرائم جسے جرائم سے متعلق جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کے بارے میںآگاہی فراہم کی ہے یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیور و کا مجموعی طور پر 1999 سے اب تک Conviction Rate تقریباََ75 فیصد ہے۔ نیب کے چےئرمین قمرزمان چوہدری انتہائی ایماندار، دیانتدار اور اچھی شہرت کے حامل اعلیٰ افسر ہیں جنہوں نے اپنی تقریبا دو سالہ تقرری کے دوران قومی احتساب بیورو کی کارکردگی کو مذید بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ نیب کو ایک مؤثر اور غیر جانبدار ادارہ کے طور پر بنانے میں اہم کردار ادا کیاہے انہوں نے احتیارات کی مرکزیت کی بجائے اپنے اختیارات علاقائی سطح پر کام کرنے والے نیب کے بیوروز کو تفویض کر دئیے ہیں تا کہ کام کی رفتار رکنے کی بجائے مؤ ثر طور پر کرپشن کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جا سکیں۔ نیب (NAB) ایس او پیز یعنی سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز دراصل ان رولز اور اصولوں پر مبنی ہیں جن کی بدولت بدعنوانی کی لعنت پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے ۔ نیب کی موثر حکمت عملی اور مانیٹرنگ کے باعث نہ صرف پاکستان میں کرپشن کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے بلکہ نیب نے 276بلین روپے کی خطیر رقم بد عنوان عناصر سے برامد کرکے قومی خزانے میں جمع کرواکے ملکی ترقی میں اپنا بھر پور کردار اداکیا ہے۔ نیب(NAB) کی کاوشوں کو ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل , پلڈاٹ ,صد ر مملکت جناب ممنون حسین کے علاوہ معاشرے کے تمام طبقوں نے سراہا ہیں۔ نیب کے چےئرمین قمرزمان چوہدری نے نیب کے افسران اور اہلکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ کرپشن سے پاک پاکستان ہمارامقصد، نصب العین اور عزم ہے جس کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔نیب کے چےئرمین قمرزمان چوہدری جلد ہی چین کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے تحت دونو ں ممالک بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے مل کر کام کریں گے جو کہ خوش آیندبات ہے۔

مزید : کالم