آف شور کمپنیوں اور بیرونِ ملک اکاؤنٹس تک رسائی

آف شور کمپنیوں اور بیرونِ ملک اکاؤنٹس تک رسائی

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آف شور کمپنیوں تک رسائی کا بل بھی آئے گا عالمی ادارے او ای سی ڈی کی رکنیت کے لئے انکم ٹیکس قانون میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے ترمیم سے پاکستان ادارے کی رکنیت کا اہل ہو جائیگا۔ کوئی پاکستانی بیرون ملک پیسہ منتقل کرے گا یا آف شور کمپنی چلائے گا تو حکومت معلومات حاصل کر سکے گی آف شور کمپنیو ں کے معاملات، پاکستانی شہریوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس اور مالیاتی امور اور ٹیکس ادائیگی سے متعلق معلومات تک رسائی کے لئے فنانس بل 2016-17ء میں انکم ٹیکس قانون میں ترمیم کی تجویز پیش کر دی ہے۔ عالمی ادارے کی رکنیت کے لئے پاکستان او ای سی ڈی کے ساتھ سوئٹزر لینڈ کے شہر برن میں 23جون کو مذاکرات کرے گا۔ ایف بی آر، سٹیٹ بینک اور سیکیورٹیز ایکسچینج کمیشن مل کر لیگل پیکیج کے لئے کام کر رہے ہیں حکومت نے فنانس بل کے انکم ٹیکس کے سیکشن 107 میں ترمیم کی تجویز دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت ٹیکس معلومات کے تبادلے کے لئے کثیر الجہتی کنونشن کے ساتھ بین الحکومتی معاہدہ کر سکتی ہے یا دوہرے ٹیکسیشن سے بچنے کے لئے اسی طرح کے میکنزم کا معاہدہ کر سکتی ہے یا ٹیکس چوری اور مالیاتی چوری کی روک تھام کے لئے معلومات کے تبادلے کا معاہدہ کر سکتی ہے۔ اس کے تحت آمدن پر ٹیکس سے متعلق معلومات کا خودکار تبادلہ ہو سکے گا اگر کوئی پاکستانی بیرون ملک کوئی اثاثہ خریدے گا یا ان ممالک کے بینکوں میں پیسہ منتقل کرے گا یا اکاؤنٹ کھولے گا یا کوئی آف شور کمپنی چلائے گا تو حکومت پاکستان اس ملک کی ٹیکس اتھارٹی سے معلومات حاصل کر سکے گی۔

پاکستان نے 2014ء میں اکنامک کو آپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ گلوبل فورم( او ای سی ڈی )کی رکنیت کے لئے درخواست دی تھی۔ حال ہی میں پانامہ لیکس کے ذریعے آف شور کمپنیوں کے معاملات سامنے آنے پر کام کی رفتار کو تیز کر دیا ہے پاکستان 31اگست تک او ای سی ڈی کا رکن بن سکتا ہے اس کے بعد 2018ء سے معلومات کا تبادلہ کر سکے گا ۔وزیر اعظم کے صاحبزادوں کی آ ف شور کمپنیوں کا ذکر سامنے آنے پر مخالف سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں نے تمام تر پروپیگنڈے کا رخ وزیر اعظم کی جانب موڑ دیا ، وزیر اعظم نے اس سلسلے میں چیف جسٹس کو خط لکھ کر معاملے کی تحقیقات کے لئے کہا لیکن انہوں نے جوابی خط میں بعض رہنما اصول متعین کئے جن کے بغیر تحقیقات سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ اسی خط کی روشنی میں ضوابط کار طے کرنے کے لئے حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں کام جاری ہے اور ڈیڈ لاک کے بعد کام سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے، پاناما لیکس میں وزیر اعظم کے صاحبزادوں کے حوالے سے جن کمپنیوں کا ذکر آیا ہے ان کے بارے میں ان میں کوئی تفصیلات موجود نہیں نہ یہ معلوم ہے کہ ان کمپنیوں کے کاروبار کی نوعیت کیا ہے ان کا سرمایہ کتنا ہے، یہ سرمایہ پاکستان سے گیا یا بیرون ملک ہی اس کا بندوبست کیا گیا اور اگر یہ سرمایہ پاکستان سے منتقل کیا گیا تو کیا اس پر پورا ٹیکس دیا گیا تھا، یہ ایسی معلومات ہیں جو اس وقت دستیاب نہیں اور یہ صرف کمپنیوں کے مالکان کی جانب سے دی جا سکتی ہیں یا پھر پانا ما لیکس والے ہمت کریں اور محض نام سے آگے بڑھ کر بھی تفصیلات دیں ۔لیکن ابھی تک ان کی تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں پاکستان اگر او ای سی ڈی کا رکن بن جاتا ہے تو پھر اس کی رسائی آف شور کمپنیوں کے متعلق معلومات تک ہو سکتی ہے اور یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ کس کس پاکستانی کے اکاؤنٹس بیرون ملک میں ہیں۔

جہاں تک پاناما لیکس کے حوالے سے آف شور کمپنیوں کے انکشافات کا تعلق ہے ان میں دُنیا کے بڑے بڑے حکمرانوں کے نام آئے تھے اور چند دن تک ان کا شوررہا پھر یہ معاملہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اب ان ملکوں میں کسی کو یاد بھی نہیں کہ پانامہ لیکس کا کوئی معاملہ بھی تھا۔ آئس لینڈ کے وزیر اعظم سے استعفا طلب کیا گیا لیکن انہوں نے اپنے اختیارات ایک ساتھی وزیر کو سونپ دئے اور وقتی طور پر خود ایک طرف ہو گئے (مستعفی نہیں ہوئے یہ غلط فہمی ہے)تو وہاں بھی معاملہ ٹھپ ہو گیا۔ برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے خلاف معاملہ چند دن تک شور پیدا کرتا رہا کیونکہ ان کے والد کے نام پر آف شور کمپنی تھی اور وہ اس کمپنی کے منافع سے مستفید (بینی فشری) ہو رہے تھے ۔ اس کے باوجود انہوں نے جب پارلیمنٹ میں وضاحت کر دی تو معاملہ وہاں بھی ختم ہو گیا اور برطانوی عوام اپنے دوسرے اہم تر معاملات میں مصروف ہو گئے۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز، چین کے صدر شی چن پنگ اور روس کے صدر پوٹن کے نام بھی آئے تھے لیکن ان ملکوں میں کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ پاکستان میں البتہ پوری قوم اسی ہذیان میں مبتلا ہو گئی اور اب تک اس کے اثرات کی زد میں ہے، یوں لگتا ہے کہ اس قوم کا اصل مسئلہ پانا ما لیکس تھا باقی سارے مسائل حل ہو گئے ہیں اس لئے سب کچھ چھو ڑ چھاڑکراسی میں الجھ کر رہ گئی۔

درست پس منظر میں دیکھا جائے تو ملک کا اصل مسئلہ کرپشن ہے۔ جو زندگی کے ہر شعبے میں خون کی طرح گردش کر رہی ہے اوپر سے نیچے تک لوگ کرپشن سے پیسے بناتے ہیں اور جن کے پاس حرام کی اس کمائی کا پیسہ زیادہ آ جاتا ہے وہ اسے کسی نہ کسی طرح بیرون ملک منتقل کر دیتے ہیں ۔بعض کی تو نوٹوں سے بھری ہوئی لانچیں پکڑی گئیں اور ایک بیورو کریٹ کے گھر سے 73کروڑ روپے کے نوٹ اور سونا پکڑا گیا جو کہتے ہیں بیرون ملک بھیجنے کے لئے رکھا گیا تھا۔ آف شور کمپنیاں بھی اسی کام کے لئے بنائی جاتی ہیں کیونکہ ان کے ذریعے پیسہ آسانی سے دوسرے ملکوں میں چلا جاتا ہے، بہت سے پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں ہیں اور ان کے 200ارب ڈالر بیرون ملک بینکوں میں جمع ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ وہ کمائی ہے جو رشوت کے ذریعے کی گئی ہے۔ ہزاروں لوگ اس کام میں ملوث ہیں۔ باہر گیا ہوا یہ پیسہ آسانی سے واپس تو نہیں آ سکتا لیکن پاکستان کے انکم ٹیکس قانون میں ترمیم کر کے پاکستان او ای سی ڈی کی رکنیت کے لئے جو کوشش کر رہا ہے وہ اگر مل گئی تو پاکستان کو کم از کم معلومات تک رسائی ضرور حاصل ہو جائیگی۔ دنیا کے بڑے بڑے حکمرانوں نے بیرونی ملکوں میں جو پیسہ جمع کرایا تھا وہ ان کے کسی کام نہیں آیا۔ نہ ان کے ملک اس سے کوئی فائدہ اٹھا سکے اس کی ایک مثال شاہ ایران جیسے حکمران ہیں جن کا پیسہ ان کے کام آیا نہ ہی ان کی اولاد کے اور نہ ہی ان کے ملک کے ۔اسی طرح نہ جانے کتنے لوگ ہوں گے جن کی دولت سے اصل فائدہ ان بینکوں نے اٹھایا جہاں یہ دولت جمع ہے۔ پاکستان اگر پاکستانیوں کی بیرون ملک دولت کی معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا لازماً یہ مطلب نہیں ہو گا کہ یہ دولت پکے ہوئے پھل کی طرح حکومت پاکستان کی جھولی میں آ گرے گی ایسا تو ہوتا ہوا نظر نہیں آتا تاہم اس مقصد کے لئے پاکستان جو کوششیں کر رہا ہے وہ درست سمت میں ایک قدم ہیں اور عین ممکن ہے ان کوششوں کی وجہ سے باہر کے ملکوں کی جانب سرمائے کے فرار میں کچھ کمی آ جائے، بالکل رکنا تو خیر ممکن نہیں اور جس کسی کو یہ خوش فہمی ہے وہ دولت کی بھول بھلیوں سے کسی طور پر واقف نہیں۔

مزید : اداریہ