بجٹ، دیکھنے ہم بھی گئے!

بجٹ، دیکھنے ہم بھی گئے!
بجٹ، دیکھنے ہم بھی گئے!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

بات تو آج نئے مالی سال کے بجٹ، جمہوریت کو لاحق مبینہ خطرے اور اسلام آباد کے ماحول کے حوالے سے کرنا ہے لیکن اپنی تربیت اور ماضی کے حوالے سے اپنی آنکھ کے شہتیر کو دیکھنا لازم ہو گیا ہے۔ ہماری جوانی پیشہ صحافت کی ابتدا اور پھر تجربے کا دور ادب آداب سے گزرا، ہم نے حالیہ دو چار سالوں سے پہلے تک رپورٹنگ ہی کی۔ خبروں کے لئے دربدر مارے مارے پھرنے کے ساتھ ساتھ تقریبات کی کوریج، پولٹیکل اور وی آئی پی رپورٹنگ بھی کرنا پڑی۔ ہماری جوانی کے دور میں ایوب خان اور بھٹو کے دور سے لے کر یحییٰ خان اور جنرل ضیاء الحق کے زمانے اور بعد کے عرصے میں بھی ہمیشہ یہی ہوا کہ کسی بھی تقریب میں ہم جوان لوگ وقت سے پہلے آکر اگلی نشستوں پر بیٹھ گئے اور یوں جگہ نہ رہی۔ ایسے میں اگر ہمارے سینئر آتے تو ہم میں سے ہر کوئی ان کے لئے جگہ خالی کرنے میں پہل کی کوشش کرتا، پھر اگر کوئی پریس کانفرنس ہوتی یا ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات چیت کا معاملہ ہوتا تو ہم سبھی اپنے سینئرز نثار عثمانی، امجد حسین، آئی ایچ راشد کو پہلے سوال کا موقع دیتے، پھر سوال و جواب کے بھی کچھ آداب تھے کہ تکرار سے ہر ممکن طور پر بچا جاتا تھا۔ اس دور میں یو جے ز اور پی ایف یو جے طاقت ور تنظیمیں تھیں۔ منہاج برنا اور نثار عثمانی جیسے راہنما موجود تھے، اس لئے کارکنوں کی بہبود اور آزادی صحافت کا کوئی معاملہ یا مسئلہ ہوتا تو پہلے مجلس عاملہ میں بحث ہوتی پھر کسی تقریب میں جانے یا نہ جانے اور بائیکاٹ کا فیصلہ ہوتا اور اس پر عمل بھی اپنے راہنماؤں کی قیادت میں اجتماعی طور پر کیا جاتا، انفرادی طور پر کوئی شکایت یا شکوہ بھی ہوتا تو موجود سینئر جلد ہی سنبھال لیتے اور خود صاحب اقتدار سے بات کرتے۔
آج دور تبدیل ہو چکا سینئرز کا احترام باقی نہیں رہا، دلچسپ امر یہ ہے کہ کل تک کے جوان آج کے سینئر ہو چکے لیکن ان کی عادات میں تبدیلی نہیں ہوئی۔ ہم اس وقت حیرت سے منہ تکتے رہ گئے، جب بجٹ کے اگلے روز وزیر خزانہ اسحٰق ڈار پریس کانفرنس کے لئے آئے، ابھی انہوں نے بات شروع کرنے کے لئے بسم اللہ ہی پڑھی کہ ایک دوست کھڑے ہو گئے اور شکایت کرنے لگے۔ ان کی شکایت یہ تھی کہ ایف بی آر کے چیئرمین نے وزیر خزانہ کی ہدایت پر جو پریس بریفنگ کی اس میں ان کو نہیں بلایا گیا۔ وزیر خزانہ اس حوالے سے وضاحت کر رہے تھے، مگر وہ صاحب خاموش ہو کر سن نہیں رہے تھے اور پھر انہوں نے زبردست احتجاج کیا اور اعلان کیا ’’میں اکیلا ہی واک آؤٹ کرتا ہوں‘‘ اور وہ دوستوں کے روکنے کے باوجود تشریف لے گئے۔ وزیر خزانہ نے وضاحت بھی کر دی اور یہ بھی طے کر دیا کہ سوموار کو پھر سے بریفنگ ہو گی اور اس بیٹ سے متعلق ہر رپورٹر کو بلایا جائے گا۔ چیئرمین ایف بی آر نے اس پر معذرت بھی کرلی۔ وہ صاحب نہ مانے اور پھر بھینس کی دم پکڑ کر واپس آ گئے کہ ہمارے دوست راٹھور دو ساتھیوں اور ایک افسر کے ساتھ جا کر ان کو لے آئے۔ یوں یہ ایک اسمبلی والا ایکٹ یا سین تمام ہوا، ہمارا یہ شکوہ تو فضول ہے کہ اسلام آباد کے دوست کراچی لاہور اور پشاور تک سے آئے صحافی دوستوں کو مہمان جان کر بھی سوال کا موقع نہیں دے رہے تھے۔ یہ ہمارا کلچر بن گیا ہے جو سب پر تنقید کرتے ہیں۔
یہ تو جملہ مُعترضہ کے طور پر احوال واقعی تھا۔ بات تو بجٹ اور سیاسی حالات کے حوالے سے کرنا تھی کہ کافی وقفے کے بعد اس بار ہمیں بھی بجٹ سیشن کے لئے مدعو کر لیا گیا تھا۔ پی آئی ڈی کے دوستوں نے ممکن حد تک تعاون کیا اور میزبانی کے فرائض بھی انجام دیئے۔ یہ سالانہ معمول ہے کہ ملک کے بڑے میڈیا مراکز سے بھی صحافیوں کو مدعو کیا جاتا ہے کہ وہ خود ملاحظہ کریں اور پھر جو چاہے سلوک کریں۔ تعریف و تنقید ان کا حق ٹھہرا، بہر حال آنکھ میں مروت تو ہوتی ہی ہے اور یہی پی آئی ڈی والوں کے کام آتی ہے۔ ہم نے بھی اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ بجٹ تقریر سنی۔ قومی اسمبلی کا ماحول خاصا پُر سکون تھا یہ بھی شاید عرصے بعد ہوا کہ بجٹ تقریر خاموشی سے سنی گئی۔ وزیر خزانہ نے پوری تقریر پڑھی اور اپنے ساتھیوں سے داد وصول کی۔ حزب اختلاف نے تعاون ہی پیش کیا کہ کوئی مداخلت نہیں کی اگرچہ بعد میں سید خورشید شاہ سے شاہ محمود قریشی تک سب نے یہ تجاویز مسترد کر دیں، ایوان میں فرزند راولپنڈی شیخ رشید بھی تھے وہ ادھر ادھر آتے جاتے رہے جس سے خیال تھا کہ شاید وہ کچھ کہیں یا پھر شیریں مزاری جو اپنی نشست پر ہی متحرک تھیں کچھ بولیں لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے مختصراً اپنی بات کی اور پھر سکون سے تقریر سنی گئی۔
بجٹ کے حوالے سے سب کچھ شائع اور نشر ہو چکا۔ تبصرے اور تجزیئے بھی ہو گئے خود وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت کی توجہ زراعت اور برآمدات پر ہے اسی حوالے سے زمینداروں اور برآمد کنندگان کو سہولتیں بھی دی گئی ہیں۔ ان سب کا بھی ذکر ہو چکا ہمیں تو گزارش کرنا ہے کہ یہ سب تو ان کے لئے ہے جن کے پاس اراضی ہے اور جو برآمد کا کاروبار کر رہے ہیں، لیکن لاہور سے اسلام آباد جاتے ہوئے فضا سے زمین کی طرف دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کاشت والی اراضی کے ساتھ ساتھ دوگنا سے بھی زیادہ زمین خشک، ویران اور بنجر پڑی ہے اور درختوں میں بہت کمی آ گئی ہے، زراعت پر توجہ دی ہے تو پھر ایسی اراضی کو استعمال میں لانے اور سیم و تھور والی زمین کو بھی بحال کرنا ہوگا کہ مستقبل زراعت کا ہے تو اس کی بہتری بھی کرنا ہو گی۔ ہماری تو گزارش ہے کہ جہلم سے راولپنڈی تک جی ٹی روڈ کے دونوں کناروں والی بے آباد اراضی کو فارمنگ کے لئے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے۔ یہاں بھیڑ، بکریوں سے مرغیوں تک کی پرورش کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔ بجٹ تو بجٹ ہے جو آگیا بلا شبہ یہ ہم نچلے متوسط طبقے یا نچلے والے طبقے کا نہیں اس کے باوجود زیادہ لوگوں کو اکاموڈیٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
میزانیہ میں سبسڈی کی واپسی، ڈیڑھ کھرب کے نئے ٹیکس اور سرمایہ داروں کے لئے رعائتوں کا تو آپ جان ہی گئے ہوں گے یہ بھی احساس موجود ہے کہ مہنگائی بڑھ گئی، اس کا سد باب کرنے کی کوئی کاوش نظر نہیں آتی، لیکن وزیر خزانہ تو مطمئن ہیں کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا گیا۔ بہ محترم وزیر خزانہ ہی ہیں جن کو پیپلزپارٹی کے دور میں مخلوط حکومت کا وزیر خزانہ بنایا گیا تو انہوں نے جلد ہی پریس کانفرنس میں ملک کو دیوالیہ قرر دے دیا تھا۔ بہر حال یہ تو بجٹ کی باتیں ہیں اور بجٹ والے ہی جانتے ہیں۔ ہم تو سیاسی حالات کے حوالے سے گزارش کریں گے کہ اسلام آباد آباد کی فضا یعنی سیاسی فضا میں کچھ آلودگی پائی جاتی ہے لیکن یہ بھی محسوس ہوا کہ حکمران مطمئن ہیں تاہم ایک نا معلوم سے خدشے میں مبتلا ہیں، پارلیمینٹ ہاؤس یا اس کے باہر اپنے پرانے ملنے والوں میں سے جس کے ساتھ بھی بات ہوئی وہ فکر مند ہی دکھائی دیا تاہم حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ آج کے منتخب نمائندوں اور سیاسی قیادت کو فخر ہے کہ وہ جمہوریت کی پیداوار ہیں ان کی طرف سے فضا میں ایک غیر مرئی اور نا معلوم سی خوشبو محسوس کی جا رہی ہے کہ شاید جمہوریت کے خلاف ہی کوئی مہم جاری ہے۔ یوں بھی جب جب محفل یاراں برپا ہوئی بات نظام کے تسلسل پر ہی ہوئی۔ جو حضرات حکومت کے گرنے کے خواہش مند ہیں، ان کو یہ تو علم ہو گیا کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے لیکن وہ نہیں مانتے کہ خطرہ ٹل گیا۔ حالانکہ حالات خود بتاتے ہیں کہ فضا میں نا معلوم سا ارتعاش موجود ہے لیکن دوستوں سے ملنے سے اندازہ ہو گیا کہ اس مرتبہ جمہوری رویہ بھی موجود ہے اور مخالفوں کی گرمی میں بھی تحفظ کا جذبہ موجود ہے وقت آیا تو یہ سب ایک ہوں گے۔ اللہ یہ جذبہ سلامت رکھے فی الحال تو وزیر اعظم محمد نوازشریف کا کوئی مد مقابل نظر نہیں آتا لیکن حالات تیزی سے پلٹائے جا رہے ہیں، کوشش آمریت کے لئے ہے مجموعی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آتا۔

مزید :

کالم -