ڈرون حملے بند کئے جائیں!

ڈرون حملے بند کئے جائیں!
ڈرون حملے بند کئے جائیں!

  

اگلے روز پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت جناب ممنون حسین کا خطاب سننے کے بعد چیف آف آرمی سٹاف ابھی قومی اسمبلی ہی میں تھے کہ صحافی حضرات ان کے ’’دوالے‘‘ ہو گئے۔ ان سے کئی سوال پوچھے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ خوشگوار موڈ میں تھے اس لئے خوشگوار جوابات دیئے۔ سب سے چبھتا ہوا سوال اس ڈرون سٹرائیک کے بارے میں تھا جو بلوچستان میں پاکستانی سرزمین پر کئی گئی تھی اور جس میں طالبان کے امیر، ملا اختر منصور مارے گئے تھے۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے آرمی چیف نے برملا کہا کہ ایسے حملے پاک امریکہ تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتے ہیں۔۔۔ کون نہیں جانتا کہ ایف۔16دینے سے انکار کے بعد پاکستان میں امریکہ کے خلاف بھڑکی ہوئی آگ، مزید بھڑکتی جا رہی ہے اور اب اس پر تیل نوشکی میں مارے جانے والے ملا منصور پر اس ڈرون حملے نے ڈال دیا ہے۔ مرحوم کے جانشین ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ نے دو روز قبل ببانگ دہل کہہ دیا ہے کہ کابل حکومت پر حملے جاری رہیں گے اور امریکہ کے دس ہزار ٹروپس جو افغان نیشنل آرمی کو ٹریننگ دینے کے بہانے افغانستان میں موجود ہیں ان کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ بعض غیر ملکی مبصر یہ دلیل لا رہے تھے کہ چونکہ ملا ہیبت ایک صلح جُو عالمِ دین ہیں اور چونکہ ان کی شہرت دینی موضوعات پر فتاویٰ جاری کرنے کی ہے، اس لئے ان کی طرف سے شائد امن کا کوئی پیغام آئے اور طالبان ’’چہار ملکی کانفرنس‘‘ میں شرکت پر آمادہ ہو جائیں لیکن جس واشگاف زبان میں نئے امیر نے کابل انتظامیہ اور امریکی ٹروپس مقیمِ افغانستان کو پیغامِ جنگ و تصادم دیا ہے، اس سے فاختہ صفت مبصروں کی امیدوں پر اوس پڑ گئی ہے۔

میں چند روزپہلے اخبار ڈان میں پاکستان کے اقوام متحدہ کے ایک سابق مندوب کا کالم دیکھ رہا تھا جس میں ان کا یہ استدلال بڑا وزنی تھا کہ 10000 ٹروپس پر مشتمل امریکی فوج کے افغانستان میں رکھنے کا جواز یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آنے والے کسی دور میں جب پاکستان میں اتنی سیاسی ہلچل پیدا ہو جائے کہ ملک میں امن و امان کی پہلے سے ڈانواں ڈول فضا مزید لڑکھڑانے لگے تو ایسے میں پاکستان کے خلاف وہ فورسز جو وطنِ عزیز کے دائیں بائیں عقابوں کی طرح مورچہ زن ہیں، حرکت میں آ جائیں اور اسلام آباد پر ٹوٹ پڑیں۔ ان میں یہ دس ہزار امریکی فورس جو مطلوبہ کیل کانٹے سے لیس ہے، سب سے پہلے پاکستان کے اس جوہری ترکش کو ٹھکانے لگانے کا ’’مشن‘‘ پورا کرے گی جس کے لئے اس کو وہاں رکھا گیا ہے۔ وگرنہ دس ہزار سپاہ کا محض ’’ٹریننگ مشن‘‘ پر افغانستان جیسی مشکل اور سنگدل ٹیرین پر موجود رہنا بالکل سمجھ میں نہیں آتا۔ امریکی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔ امریکی فورسز نے آج تک کس بیرونی ملک کی مقامی فوج کو ٹریننگ دے کر اپنے پاؤں پر کھڑا کیا ہے؟ امریکیوں کا اصل مشن تو اسلامی فورسز کو (جہاں کہیں بھی وہ ہوں) تحلیل کرنا ہے نہ کہ ان کی تعمیر و تشکیل کرنا اور ان کو تربیت دینا۔۔۔ اور یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا افغان نیشنل آرمی (ANA) کو اس امریکی ٹریننگ کی کوئی ضرورت بھی ہے؟جن افغانوں کو ایساف اور نیٹو کی ایک لاکھ 80ہزار فوج بمعہ جدید ترین سامانِ حرب و ضرب اور مہلک ترین گولہ بارود کے، ڈھب پر نہیں لا سکی کیا وہ افغان نیشنل آرمی کو رام کر سکے گی اور اسے کچھ بتلا سکھلا سکے گی؟۔۔۔

مجھے اس امر میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ، بھارت، اسرائیل اور افغانستان کی موجودہ انتظامیہ اس لمحے کا انتظار کر رہی ہے جب خدانخواستہ پاکستان میں شدید طوائف الملوکی کا سماں پیدا ہو جائے اور سارا سماجی اور سیاسی منظر دھندلا جائے تو اس دھند (Fog) میں نہ صرف یہ 10000 امریکی فوجی بلکہ بھارت اور اسرائیل نے بھی اپنے ہاں جو ’’عاجل ردِ عمل والی فورسز‘‘ (Quick Reaction Forces) تشکیل دے رکھی ہیں، ان کو بے لگام (Unleash) کر دیا جائے ۔ اور مجھے اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ جس طرح ماضی میں 15برس لگاتار پاکستان کی تاک میں بیٹھے رہنے کے باوجود ہمارے یہ دشمن ممالک، پاک فوج کاکچھ بھی نہیں بگاڑ سکے، اسی طرح اب بھی وہ ذلیل و خوار ہو کر ہمارے ہمسائے اور افغان کوہ و دمن سے بھاگ جائیں گے۔۔۔امریکہ سے سوال یہ بھی پوچھنے والا ہے کہ کیا وہی ڈرون جو ملا منصور پر ترازو کیا گیا وہ فضل اللہ کو نشانہ نہیں بنا سکتا تھا؟۔۔۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ وزیرداخلہ اور وزیر دفاع کے ہوتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل (David Hale) کو کس لئے اپنے دفتر میں طلب کیا تھا؟۔۔۔ سوشل میڈیا پر جو خبریں آ رہی ہیں ان کے مطابق جنرل صاحب نے اپنی ملاقات میں اس سفیر کو جو ’’راکٹ‘‘ دیئے وہ ان کی تاب نہ لا سکے اور اسی شب اسلام آباد کے ایک معروف ہسپتال میں جانے پر مجبور ہو گئے اور واشنگٹن کو پیغام دیا کہ ’’پاکستان کو سبق سکھایا جائے‘‘۔۔۔ (واللہ اعلم) سوشل میڈیا پر بریک ہونے والے خبروں میں کوئی صداقت ہوتی بھی ہے یا نہیں، یہ بات متنازعہ فیہ ہو سکتی ہے لیکن آپ اسے زبانِ خلق کے پردے میں نقارۂ خدا بھی کہہ سکتے ہیں۔ اگر واقعی اسی خبر یا افواہ میں کوئی صداقت ہے تو اس کا پتہ آنے والے چند ہفتوں میں ضرور لگ جائے گا۔ امریکی انتظامیہ تو خواہ ڈیمو کریٹس کی ہو یا ری پبلکن کی، پاکستان کے بارے میں ان کا ایجنڈا ’’مضمونِ واحد‘‘ ہی رہتا ہے!

ایک اور صحافی نے جب ایف۔16 کا ذکر کیا اور سوال کیا کہ اس بارے میں کیا ہو رہا ہے تو آرمی چیف نے بڑا نپا تلا جواب دیا کہ: ’’ہم اس معاملے پر غور کر رہے ہیں۔‘‘۔۔۔ پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات پر انگلش اور اردو میڈیا پر اتنا مواد آ چکا ہے اور آرہا ہے کہ اس پر مجھے زیادہ کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے کئی ٹی وی اینکر صاحبان ایسے بھی ہیں جو امریکہ جا کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اوباما یا جان کیری سے بالمشافہ مل کر آئے ہیں اور ان سے روبرو بحث و مباحثے کے تناظر میں اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں۔۔۔ مجھے ایسے صحافی حضرات سے ہمدردی ہے۔۔۔ امریکہ جا کر واپس آ جانا تو ہر ’’ایرا غیرا‘‘ کر سکتا ہے۔ واشنگٹن یا نیو یارک کی دو طرفہ ٹکٹ کتنے کی ہے؟ لیکن کسی ٹاک شو میں اپنی واشنگٹن/ نیو یارک یاترا کو اپنی ’’تحقیقی رپورٹ‘‘ کا آنکھوں دیکھا حال ڈکلیئر کرنا ان حضرات کو کسی بھی طور زیب نہیں دیتا۔ رموزِ مملکت تو یہ امریکی لوگ اپنے سگے والدین کو بھی نہیں بتاتے چہ جائیکہ کسی پاکستانی ٹی وی اینکر سے شیئر کریں ۔۔۔ آرمی چیف نے بالکل درست کہا ہے کہ ’’ایف۔ 16 کا معاملہ زیر غور ہے‘‘۔۔۔ اس مختصر فقرے کا کوئی سا مطلب بھی نکالا جا سکتا ہے۔ میرے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے جو کچھ کرنا تھا، کر لیا ہے، اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔۔۔

ایک اور اخبار نویس نے سی پیک (CPEC) کے بارے میں سوال کیا تو آرمی چیف نے کہا: ’’اس منصوبے کو ہر قیمت پر پایۂ تکمیل کو پہنچایا جائے گا‘‘ ان کا یہ جواب ایسا نہیں کہ اسے کوئی معانی پہنائے جائیں۔ آرمی چیف شروع ہی سے اس پراجیکٹ کے بارے میں یہی رائے رکھتے ہیں۔ بعض منصوبے ایسی سٹرٹیجک اہمیت اور نوعیت کے حامل ہوتے ہیں کہ ان کے بارے میں فی الفور کوئی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی۔۔۔ میں کل کسی ٹی وی چینل پر 57 کلومیٹر طویل ایک سرنگ کو دیکھ رہا تھا جس میں بیک وقت دو ریل گاڑیاں 200 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتی ہوئی صرف 17 منٹ میں یہ فاصلہ طے کر لیں گی۔ یہ دنیا کی طویل ترین اور عمیق ترین سرنگ ہے اور اس کو مکمل ہونے میں 17 برس کا عرصہ لگا ہے۔ ابھی اس کے ٹرائل مکمل کئے جائیں گے اور کہا جا رہا ہے کہ اگلے برس اسے عام پبلک کے لئے کھول دیا جائے گا۔ اس سے پہلے چین نے بھی اپنے ہاں ایک ایسی ہی ریل متعارف کروائی تھی جو جنوبی چین کے میدانوں سے شروع کر کے تبت کے دارالحکومت لہاسہ تک جاتی ہے جو سال کے کئی مہینوں تک برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ یہ ریل کسی سرنگ سے نہیں گزرتی بلکہ زمین پر بنائی گئی ہے اور اسے 20 ویں صدی کا ایک آٹھواں عجوبہ قرار دیا جاتا ہے۔ کہنے کا یہ مطلب ہے کہ اس طرح کے میگا منصوبے وقت اور سرمایہ مانگتے ہیں۔ سوٹزر لینڈ کی اس سرنگ پر 23 ارب ڈالر لاگت آئی ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کا یہ 46ارب ڈالر کا منصوبہ اس سرنگ کے منصوبے سے عظیم تر ہوگا۔ حویلیاں سے اوپر شمال میں خنجراب تک میں نے خود دوبار سفر کیا ہے۔ چلاس سے گلگت کا سفر بھی یاد گار تھا اور گلگت سے نگر اور پھر ہنزہ کا بھی۔۔۔ اس سفر میں قراقرم ہائی وے بعض ایسے مقامات سے گزرتی ہے کہ دیکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے کہ خدا نے انسان کو کیسی ہمت اور کیسی جسارت عطا کی ہے ۔جب حویلیاں اور خنجراب کو ریل کے ذریعے ملادیا جائے گا تو ہماری آنے والی نسلوں کے لئے یہ منصوبہ ایک عظیم تحفہ ثابت ہوگا۔۔۔ انشاء اللہ!

الوالعزمانِ دانش مند جب کرنے پہ آتے ہیں

سمندر چیرتے ہیں، کوہ سے دریا بہاتے ہیں

مزید : کالم