رویت ہلاک کمیٹی کی موجودگی کے باوجود چاند پر اختلافات کیوں ؟

رویت ہلاک کمیٹی کی موجودگی کے باوجود چاند پر اختلافات کیوں ؟

 کراچی (رپورٹ/نعیم الدین ) ملک بھر میں رمضان المبارک کے آغاز اور عیدین ایک ہی دن منانے کے حوالے سے کئی سالوں سے کوششیں جاری ہیں ۔اسلامی مہینوں کے چاند کی رویت کے حوالے سے قائم رویت ہلال کمیٹی کی موجودگی کے باوجود پاکستان بھر میں ایک ساتھ رمضان المبارک کا آغاز ایک خواب ہی رہا ہے جس کی وجہ سے رویت ہلال کمیٹی کے کرداراور اس کی آئینی حیثیت پر کئی سوالیہ نشانات کھڑے ہوگئے ہیں ۔مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور اس کی زونل کمیٹیوں میں علماء کرام کی شمولیت کا کیا معیار ہے ؟رویت ہلال کمیٹی میں چیئرمین اورارکان کی تقرری کس کا اختیار ہے اور آئین کی کس شق کے تحت یہ کمیٹی کام کررہی ہے ؟یہ وہ سوالات ہیں جو ہر سال رمضان المبارک اور عیدین کے موقع پر عوام کے ذہنوں میں اٹھتے ہیں ۔مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن کہتے ہیں کہ رویت ہلال کمیٹی شرعی طور پر کام کررہی ہے ۔کمیٹی کے چیئرمین اور ارکان کو کسی قسم کی حکومتی مراعات حاصل نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا عہدہ وفاقی وزیر کے مساوی ہے ۔ ملک میں دو عیدوں کو روکنا رویت ہلال کمیٹی کا نہیں بلکہ ریاست کا کام ہے ۔ ملک میں تمام ادارے آئین کے تحت قائم نہیں ہوئے ہیں اس لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی آئینی حیثیت کے حوالے سے سوال بے معنی ہے ۔رویت ہلال کمیٹی کی حیثیت پر سوالات اٹھا کر محض اسے متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔بعض وفاقی وزراء نے اپنے لوگوں کو نوازنے کے لیے زونل کمیٹیوں میں شامل کیا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ یہاں سے کوئی مالی فوائد حاصل نہیں ہوتے تو انہوں نے کمیٹی میں دلچسپی لینا ختم کردی ہے ۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں رمضان المبارک کے قریب آتے ہی ایک مرتبہ پھر رویت ہلال کے حوالے سے اختلافات کی خبروں نے عوام کو مضطرب کردیا ہے ۔رویت ہلال کمیٹی، ان مجالس کو کہا جاتا ہے جو ہجری تقویم کے مہینوں کے آغاز و اختتام کی تاریخوں کا فیصلہ کرتی ہیں۔ بالخصوص رمضان ، عید الفطر اور عید الاضحی کے تعین کا اہتمام کیا جاتا ہے۔رویت ہلال لفظ عربی زبان کے دو الفاظ رویت اور ہلال سے مرکب ہے۔ رویت کے معنی دیکھنا اور ہلال کے معنی آغازکے مہینہ کا چاندہے ۔ملک عزیز میں رمضان المبارک اور عیدین کے چاند پر اختلافات ایک پرانا ماجرا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ اس کمیٹی کا قیام پاکستان کے ایک سابق فوجی حکم ران جنرل ایوب خان کے احکام پر ہوا تھا۔ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی اس حوالے سے بیان کیا جاتا ہے کہ ایوب خان کے دور حکومت میں ایک موقع ایسا آگیا کہ 30 رمضان المبارک کا دن بروز جمعرات آگیا۔ پاکستان میں مشہور ہے کہ کسی بھی حکومت یا حکمران کے لئے ایک ہی دن میں دو خطبات (خطبہ عید اور خطبہ جمعہ ) کا وقوع پذیر ہونا زوال کی نشانی ہوتا ہے۔ ہر آمر کی طرح ایوب خان بھی اپنے زوال سے خوفزدہ رہا کرتے تھے۔ ان کو ان کے عاقبت نااندیش مشیروں نے اس مسئلے کو بھی اپنی آمریت کی بھینٹ چڑھانے کا مشورہ دیا جس کے بطن سے یہ رویت ہلال کمیٹی برآمد ہوئی اور ملک میں رویت ہلال کو بھی سرکاری کنٹرول میں لے لیا گیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب رات کو دو دو بجے مساجد سے اعلان ہوتا تھا کہ عید کا چاند نظر آگیا ہے اور صبح عید ہوگی ۔’’دور ایوبی‘‘ گذر نے کے بعد1973میں ملک میں نیا آئین نافذالعمل ہوگیا ۔1974میں قومی اسمبلی میں ایک قرارداد کے ذریعہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی قائم کی گئی تاہم آج 42سال گذر جانے کے باوجود اس کمیٹی کے قواعد و ضوابط تحریری شکل میں موجود نہیں ہیں ۔1974میں اپنے قیام کے بعد سے ہی مرکزی رویت ہلال کمیٹی متنازع رہی ہے اور ہر سا ل رمضان المبارک اور عیدین کے موقع پرچاند کی رویت ایک مسئلہ بن جاتی ہے ۔دنیا میں موجود 57اسلامی ممالک میں پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جہاں اس قسم کا تنازعہ پایا جاتا ہے اور یہاں نہ تو رمضان کا ایک ساتھ آغاز ہوتا ہے اور نہ ہی لوگ پورے ملک میں عید ایک ساتھ مناتے ہیں ۔ایک مرتبہ پھر ماہ رمضان کی آمد آمد ہے ۔خوشیوں کے مہمان اس مہینے کی آمد کے ساتھ ہی پاکستانی عوام اس ماہ مقدس کی رویت کے حوالے تذبذب کا شکار ہیں ۔ان کے ذہنوں میں سولات اٹھ رہے ہیں کہ کیا اس سال یہ مسئلہ حل ہوجائے گا ۔کیا رمضان المبارک کا آغاز پورے ملک میں ایک ہی دن ہوگا ۔کیا عید کی نمازپاکستان کے مسلمان ایک ہی دن ادا کریں گے ۔مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور زونل کمیٹیاں کیا اس مرتبہ اپنا کردار ادا کرنے میں کامیاب رہیں گی ۔کیا پشاور کے مسجد قاسم علی خان کے مفتی شہاب پوپلزئی قوم کو متحد کرنے کے لیے ماہ مقدس کے چاند کو اپنی انا کا مسئلہ تو نہیں بنائیں گے ۔سوالات تو یہ بھی اٹھ رہے ہیں کہ ایک ایسی کمیٹی جس کے اصول و ضوابط ہی تحریری شکل میں موجود نہیں ہیں تو کیا لوگ اس کی بات ماننے کے پابند کیسے ہوسکتے ہیں ؟ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین اور ارکان کا تقرر کس کا اختیار ہے ؟؟ چیئرمین اور ارکان کی کمیٹی میں شمولیت کا معیار کیا ہے ؟؟یہ کمیٹی کس حیثیت میں اپنے امور انجام دیتی ہے ؟؟اس کی آئینی حیثیت کیا ہے ؟؟ اس کے ارکان کس قسم کی مراعات سے فیضیاب ہوتے ہیں ؟یہ وہ سولات تھے جن کو لے کر روزنامہ پاکستان نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن سے رابطہ کیا ۔مفتی منیب الرحمن نے روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی شرعی طور پر بخوبی اپنے فرائض انجام دے رہی ہے ۔ملک کے تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اس میں شامل ہیں اور ملک بھر کے عوا م اس کے فیصلے کا احترام کرتے آرہے ہیں ۔مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی حیثیت پر سوالات اٹھا کر اسے متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ہم ایک طریقہ کار کے تحت کام کرتے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ صرف 4اسلامی مہینوں کے چاند دیکھنے کیلئے پوری مرکزی کمیٹی اجلاس میں مدعو ہوتی ہے ۔مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے ارکان کی تعداد پہلے 9اور اب15ہے ۔ جبکہ زونل کمیٹیوں کے ارکان کی تعداد 25ہوتی ہے ۔مرکزی اور زونل کمیٹیوں میں ارکان کا تقرر کسی کوٹے کے تحت نہیں ہوتا ہے اور اجلاسوں کے دوران صرف مرکزی کمیٹی کے ارکان کو جہاز کے ٹکٹ اورایک دن کے لیے سستے ہوٹل میں رہائش فراہم کی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں دو عیدوں کے روکنا رویت ہلال کمیٹی کا نہیں بلکہ ریاست کا کام ہے ۔کراچی میں ہونے والی ریکارڈ بدامنی پر بھی ریاست نے ہی قابو پایا ہے اسی طرح رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کرانا بھی ریاست کاکام ہے ۔مفتی منیب الرحمن کا کہنا تھا کہ ملک میں تمام ادارے آئین کے تحت قائم نہیں ہوئے ہیں اس لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی آئینی حیثیت کے حوالے سے سوال بے معنی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بعض وفاقی وزراء نے اپنے لوگوں کو نوازنے کے لیے زونل کمیٹیوں میں شامل کیا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ یہاں سے کوئی مالی فوائد حاصل نہیں ہوتے تو انہوں نے اس میں دلچسپی لینا چھوڑدی ۔

مزید : صفحہ اول