’’سپرمین کو سیٹ بیلٹ باندھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘‘ سفر کے دوران محمد علی کا ایئرہوسٹس کو جواب

’’سپرمین کو سیٹ بیلٹ باندھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘‘ سفر کے دوران محمد علی ...

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) محمد علی کلے مرحوم کی شخصیت میں ایک خیرہ کن دلکشی تھی اور سیاست اور مذہب کے متعلق ایک بااصول موقف رکھتے تھے۔ اپنے انہی اوصاف کی بدولت انہوں نے باکسنگ کے کھیل کو بام عروج پر پہنچایا۔ محمد علی کے انتقال پر ان کے سوانح نگاروں میں سے ایک تھامس ہاؤسر نے نیویارک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کے گزارے گئے کچھ لمحات اور پیش آنے والے کچھ واقعات لوگوں کو سنائے ہیں۔ برطانوی اخبار ’’دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق تھامس ہاؤسر کا کہنا تھا کہ ’’محمد علی ہمیشہ سے انتہائی بااعتماد شخصیت کے مالک تھے مگر ایک فضائی سفر کے دوران ان کا سامنا انہی جیسی ایک خاتون سے ہو گیا جس نے محمد علی کو لاجواب کر دیا۔ ہم واشنگٹن سے نیویارک جانے کے لیے طیارے میں سوار ہوئے تو ایئرہوسٹس محمد علی کے پاس آئی اور کہا’’ مسٹر علی ! برائے مہربانی اپنا سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے۔‘‘ اس پر محمد علی نے روایتی خوداعتمادی کے ساتھ جواب دیا ’’سپرمین کو سیٹ بیلٹ باندھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘‘ ایئرہوسٹس نے انتہائی شگفتگی سے جواب میں کہا کہ ’’مسٹر علی! سپر مین کو تو جہاز میں سوار ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔‘‘تھامس ہاؤسر کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ بعد میں نے محمد علی کو یہ واقعہ دوبارہ سنایا تو ان کا چہرہ روشن ہو گیا اور وہ بہت زور سے ہنسنے لگے۔ تھامس کامزید کہنا تھا کہ ایک مرتبہ محمد علی کا مقابلہ ایک 19سالہ باکسر مائیکل ڈوکس سے تھا۔ اس وقت علی کی عمر 35سال تھی۔ مائیکل نے مقابلے سے ایک روز قبل ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے ہاتھ اس قدر تیز چلتے ہیں کہ انہیں فلمایا بھی نہیں جا سکتا۔ میں نے محمد علی کو کہہ دیا ہے کہ ائے بوڑھے آدمی! میں تمہیں ہرانے جا رہا ہوں۔‘‘مائیکل غلط نہیں تھا، اس کے ہاتھ واقعی تیز تھے مگر علی کے ہاتھ اس سے بھی زیادہ تیز تھے۔ اس مقابلے میں محمد علی نے مائیکل کو 10سیکنڈ میں 23پنچ مارے تھے۔

مزید : صفحہ آخر