اراضی ریکارڈ سنٹرز میں انٹری فیس کے نام پر سائلین کو لوٹا جانے لگا

اراضی ریکارڈ سنٹرز میں انٹری فیس کے نام پر سائلین کو لوٹا جانے لگا

لاہور(عامر بٹ سے)پنجاب بھر میں لینڈ ریکارڈ انفارمیشن سسٹم کے تحت چلنے والے اراضی ریکارڈ سنٹرز میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے احکامات کی خلاف ورزی معمول بن گئی،نشان انگوٹھا کی تصدیق کے عوض 20روپے وصول کرنے کی بجائے فی انٹری 20روپے سے زائد رقم وصول کرکے سائلین کولوٹا جانے لگا ،سسٹم کی غلطی اور ایک بار تصدیق نہ کئے جانے کے بعد ہر بار تصدیق کے 20روپے شمار کرکے سائلین سے فی کس سینکڑوں روپے بٹورے جانے لگے ،وزیر اعلیٰ پنجاب نے فی نشان انگوٹھا تصدیق کے لئے 20روپے وصولی کی منظوری دی تھی ،فی نشان انگوٹھا 20روپے ہی وصول کئے جارہے ہیں ،زیادہ چارج کرنے کی صورت میں کارروائی کریں گے ،پی ایم یو حکام۔تفصیلات کے مطابق صوبے بھرکے 36اضلاع کی 143تحصیلوں میں نادراکے ساتھ لنک سسٹم میں سائلین سے ان کے نشان انگوٹھا کی مد میں 20روپے سے زائد وصولی کرنے کا انکشاف ہواہے ۔سائل جب اپنے انگوٹھے کی تصدیق کے لئے سسٹم کے اوپر اپنا انگوٹھا رکھتا ہے تو کئی دفعہ سسٹم اور سوفٹ ویئر میں تکنیکی خرابی کے باعث سائل کے ڈیٹا کی نادراسے تصدیق نہیں ہوتی ہے ۔بار بار انگوٹھا سسٹم میں رکھنے پر بالآخر سائل کی شناخت ہو جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ سائل سے فی انٹری 20روپے کے حساب پیسے وصول کر لئے جاتے ہیں چاہے تصدیق ہو یا نہ ہو ۔پنجاب کے تمام اراضی سنٹرز کو وزیر اعلی پنجاب کے احکامات کی روشنی میں نادرہ کے ساتھ لنک کیا گیا تھا تا کہ سنٹرز میں فرد اور انتقالات کے حصول کے لئے آنے والے سائلین کی تصدیق اور ڈیٹا کوویری فائی کیا جاسکے ۔تصدیق کے لئے فی کس 20روپے مختص کئے گئے تھے جس پر کچھ دیر عمل ہوا لیکن اس کے بعد اراضٗی سنٹر سٹاف نے اس انٹری کو بھی شمار کر نا شروع کر دیا جس میں سائل کے انگوٹھا کی تصدیق نہ ہوتی ہو۔اس ساری پریکٹس نے رشوت اور کرپشن کی ایک نئی روائت کو جنم دیا ہے جس کا سارہ خمیازہ سنٹرز پر آنے والے سائلین کو بھگتنا پڑھ رہا ہے۔پی ایم یو حکام کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں فی تصدیق 20روپے ہی وصولی کئے جارہے ہیں ،جہاں بھی زائد وصولی کی اطلاعات ملی تو فوری کارروائی کرکے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ ،تمام سروس سنٹر آفیشلز اور انچارج کے علاوہ سٹاف کے خلاف بھی محکمانہ سخت کارروائی کی جائے گی۔کرپشن کی ایک نئی صورت کو کسی صورت برداشت نہ کیا جائے گا۔

مزید : صفحہ آخر